زندان کی چیخ ۔اٹھائیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhبیماری نے طول پکڑا مہینہ بھر سے اوپر البتہ اس دوران زخم تقریباََ ٹھیک ہو گئے۔ (گھاؤ جو اندر لگے وہ آج بھی ویسے ہی ہیں) جو ضروری ادویات تھیں وہ بھی فراہم کی گئیں۔ ایک حد تک علاج پر بھی توجہ دی گئی۔ وقت بیت گیا مگر اسیری کے ان دنوں کی یادیں زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اب بھی جب کبھی ان دنوں کی یادیں دستک دیتی ہیں تو گھنٹوں یہ سوچتا رہتا ہوں کہ ہم سے زمین زادوں نے جس جمہوریت کے لئے جان جوکھم میں ڈالی وہ جمہوریت گئی کہاں؟ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی جمہوریت بالادست طبقوں کی عیاشی کا نام ہے۔اور بھارت کی عظیم جمہوریت جرائم پیشہ عناصر کے تحفظ کا پردہ۔ فرق اتنا ہے کہ بھارتی عوام ہمہ قسم کے جرائم پیشہ افراد کو تو جمہوریت کے نام پر برداشت کر لیتے ہیں ہمارے یہاں اصلاح احوال سے کم ہی لوگوں کو دلچسپی ہے۔ زیادہ تر لوگ بالخصوص نئی نسل کی اکثریت جی ایچ کیو کی طرف دیکھتی ہے۔ فوج کو دعوتِ اقتدار دینے کی بیماری 1970ء کی دہائی میں بھی تھی لیکن فوجی اقتدار کے حامی اتنے بے شرم نہیں تھے۔ سادہ لفظوں میں یہ کہہ لیجیئے کہ 1970ء کی دہائی کی بوٹ پالشی قابلِ علاج بیماری تھی اب یہ وبا بن چکی۔ وبا کے اس موسم میں پھدکتے بوزنوں کو کون سمجھائے کہ جمہوریت کے نام پر ہوئے سیاسی و معاشی بلادکاروں کا علاج وردی والوں کی حکومت نہیں بلکہ سارے سماج کی ذمہ داری ہے۔ مگر کیا ایک ایسا سماج جو گردن تک مذہبی، سیاسی، شخصی اور لشکری غلامی میں گرفتار ہو وہ علاج کے قابل ہے؟ سوال تلخ ہے مگرہمیں اناکے بانس پر چڑھے بغیر نہ صرف جواب بلکہ علاج بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ایوبی آمریت ہو یا جنرل ضیاء الحق کا بدنامِ زمانہ دور ہر دو ادوار میں جن زمین زادوں نے جمہوریت کے سفر کے لئے قربانیاں دیں ان کا ذاتی مفاد کیا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔ ایک فلاحی جمہوری معاشرے اور نظام حکومت کا خواب آنکھوں میں سجائے ان زمین زادوں کو انفرادی طور پر کیا ملا؟ سادہ سا جواب ہے کچھ بھی نہیں۔ طمع کے گھاٹ پر اترے بالادستوں کی چوبداری کرتے ہوئے لوگوں اور نئی نسل کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ چند افراد یا چند صد افراد کی کمینگیوں کی سزا میں اگر جمہوریت کو منہ بھر کر گالی دینا ’’حلال‘‘ ہے تو پھر چار مارشل لاؤں، آدھا ملک گنوانے اور لوٹ مار کرنے والے جرنیلوں کی وجہ سے اگر فوج پر تنقید ہوتئی ہے توفتوؤں کی چاندماری کیوں؟
بیماری سے نجات ملتے ملتے مل ہی گئی۔ بالآخر قیدی اس قابل ہوگیا کہ اس سے تفتیش شروع کی جاسکے۔ ایک دن صبح ناشتے کے بعد دو اہلکار آئے اور ہتھکڑی لگا کر کوٹھڑی سے لے گئے۔ قلعہ میں قائم اس دفتر میں پیشی ہوئی جہاں پہلے بھی کئی بار لایا گیا تھا۔کرنل لغاری کے ساتھ دو افراد اور موجود تھے۔ لغاری جس طرح ادب و احترام کے ساتھ پیش آرہا تھا اس سے لگا کہ وہ اس سے بھی بڑے افسر ہیں۔ ان کے روبرو قیدی کو کھڑا کیا گیا۔ کئی منٹ کی خاموشی کو ان دونوں میں سے ایک نے توڑتے ہوئے کہا’’دیکھو جوان! ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ اپنی جان کے دشمن مت بنو۔ جو پوچھا جاتا ہے اس کے جواب میں ادھر اُدھر کے قصے نہ سنایا کرو۔ اب تک تمہارے ساتھ اس لئے رعائیت برتی گئی کہ تمہارے والد ایک سابق فوجی افسر ہیں۔ اب رعائیت نہیں ہوگی۔یہ بات ذہن میں رکھنا کہ دوسرے غداروں کے مقابلہ میں ایک فوجی افسر کے غدار بیٹے کو زیادہ سخت سزا ملے گی۔ یہ ملک بہت قربانیوں سے اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ کوئی شخص قربانیوں اور اسلام کو فراموش کر کے بھارت سے دوستی یا بھارت کے تعاون سے اس ملک میں بغاوت کی سازش کرتا ہے تو اس سے بڑا زندیق و غدار کوئی نہیں‘‘ وہ شخص ابھی مزید کچھ کہنے والا تھا کہ میں نے کہا’’میں جس دن سے یہاں لایا گیا ہوں اور جو کچھ میرے ساتھ ہوا سب بھلا کر اب بھی کہتا ہوں کہ میرا اصل جرم یہ ہے کہ میں نے فوجی حکومت کے خلاف چند تقاریر کیں اور جس رسالے کا ایڈیٹر تھا اس میں مارشل لاء کے خلاف مضامین لکھے۔ میرے ان دونوں کاموں کو کسی سازش یا بھارت سے جوڑنا خود میری سمجھ میں نہیں آرہا۔میں ایک بار نہیں درجن بار کہہ چکا ہوں کہ ایک تو میں بھارت گیا ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ میرا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ نظریاتی طور پر میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی حقیقی قومی جمہوری انقلاب سے پیچھے ہٹی اور اس کی بعض پالیسیوں اور اقدامات نے ملائیت کو پروان چڑھایا۔ جب میں پیپلز پارٹی میں ہوں ہی نہیں تو کوئی مجھے بھارت کیوں بھیجے گا اور بھارت والے مجھے کسی کے لئے کوئی پیغام کیوں دیں گے‘‘؟میری بات ختم ہوتے ہی اس افسر نے دوبارہ کہا،’’نوجوان! ہم یا ہمارے افسر تمہاری بات اور کہانیوں پر یقین کرنے کے لئے نہیں بیٹھے۔ کل کے لڑکے ہو تم اور ہماری ایجنسیوں کی اطلاعات پر اپنی کہانیاں سناتے ہو۔ بڑی محنت سے تمہارے بارے میں معلومات جمع کی گئی ہیں۔ ایک ایک پل کی خبر رکھتے ہیں ہم تمہارے بارے میں۔ تم نے شکار پور میں جس اجلاس میں شرکت کی اس میں ایک بھارتی ایجنٹ موجود تھا۔ ہم چاہتے تو تم سب کو وہیں گرفتار کر سکتے تھے۔ مگر اس طرح اصل سازش اور سازشیوں کے ساتھ بھٹو خاندان کا تعلق دونوں سامنے نہ آتے۔ فرار اور جھوٹ بولتے رہنے کے سارے راستے بند ہوچکے ہیں۔ اب مزید رعائیت بھی نہیں ہو گی۔ تمہیں سوچنے اور اعترافِ جرم کے لئے دو دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ ان دو دنوں میں اچھی طرح سوچ سمجھ لو تمہیں اپنے والدین بھائی بہن اور وطن پیارا ہے یا بھٹو خاندان اور وہ دوست جو اس ملک کے غدار ہیں‘‘۔ اس کی بات مکمل ہوئی اور کرنل لغاری کے اشارے پر دونوں اہلکار مجھے اس کے دفتر سے واپس لے کر چل دئیے۔ کچھ دیر بعد میں اپنی کوٹھڑی میں تھا۔
ایک بار پھراپنی کوٹھڑی میں یادوں کا تعاقب کرنے کے لئے تنہا تھا۔ لیکن اس دن یادوں کی بجائے کرنل لغاری کے دفتر میں ہونے والی گفتگو سوال بن کر کھڑی تھی۔ شدید حیرانی تھی مجھے اس بات پر کہ میرے کھاتے میں کیا کیا ڈالا جا رہا تھا؟ آخر وہ مجھ سے اپنی مرضی کا اعترافی بیان کیوں لینا چاہتے ہیں؟ ان کا یہ دعویٰ کہ وہ میرے بارے میں تمام تر معلومات رکھتے ہیں اگر درست تھا تو پھر انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ نظریاتی طور پر میں ان لوگوں میں شامل تھا جو پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کے ناقد تھے جن کی وجہ سے سماج میں ملائیت کو ایک بار پھر بالادستی حاصل ہوئی۔ ہمارا مؤقف تھا کہ ریاست کو کسی فقہ کے مفتی کارول ادا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ قراردادِ مقاصد کو دستور کا سرنامۂ کلام 1956 کی طرح 1973ء میں بھی غلط طور پر قرار دیا گیا تھا۔ قراردادِ مقاصد ، محمد علی جناح جنہیں پاکستان کی اکثریت قائداعظم کا درجہ دیتی ہے کے تصورات سے متصادم تھی۔ 11 اگست 1947ء کو جو تقریر جناح صاحب نے دستور ساز اسمبلی کے اختتامی اجلاس میں کی تھی اس کے مطابق ریاست پاکستان کو اپنے شہریوں کے مذہب و عقیدے، رنگ و نسل اور قومیت سے کوئی سروکار تھا نہ اسے امتیاز برتنا تھا۔ بلکہ ریاست اپنے شہریوں کے مساوی حقوق کی پاسداری کی ضامن تھی۔ بھٹو صاحب جیسی شخصیت آخر کیوں پسپائی کے راستے پر چلی؟ وہ تو طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیتے تھے تو کیا مسجدوں اور مدرسوں کے مولوی اور ان کے تابعداروں کا ریوڑ ہی عوام تھا؟ مگر ان نظریاتی اختلافات اور در آئی دوریوں کے باوجود نہ تو مارشل لاء کی تائید کی جاسکتی تھی اور نا ہی جماعت اسلامی والوں کی طرح جنرل ضیاء الحق کو نجات دہندہ تسلیم کیا جا سکتا تھا۔ ایک منتخب حکومت اگر واقعتاََ پی این اے والوں کی نگاہ میں غیر آئینی تھی تو پھر انہوں نے اس حکومت سے مذاکرات کا ڈھونگ کیوں رچوایا؟ مذاکرات کئے تھے تو پھر مارشل لاء کے خلاف مزاحمت کیوں نہ کی؟ مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ’’ پی این اے کی قیادت نے 1977ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ امریکی سفیر کے کہنے پر کیا تھا۔ اس وقت جی ایچ کیو اور امریکی سفیر ایک پیج پر تھے۔ امریکی اس خطے میں در آتی تبدیلیوں سے آگاہ تھے۔ افغانستان میں سردار داؤد نے اپنے چچا زاد بھائی ظاہر شاہ کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے ایک طرح سے یہ تاثر دیا تھا کہ افغانستان جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے مگر یہ شخصی حکومت بھی اصل میں افغان ترقی پسندوں کی بادشاہت کے خلاف عشروں سے جاری جدوجہد کی راہ کھوٹی کرنے کا ہتھکنڈہ تھی۔ امریکہ اور اس کے حواری پاکستان میں جو کھیل کھیل رہے تھے قومی اتحاد کی قیادت اس کھیل کی پتلیاں تھے۔ امریکہ اور فوج نے انہیں استعمال کیا پھر اوقات کے مطابق نوازشات بھی کیں مگر بعد میں ٹائلٹ پیپر کی طرح فلش میں بہا دیا‘‘کرنل لغاری کے کمرے میں اس دن کی پیشی میں مجھے سوچنے کے لئے دو دن کی مہلت دی گئی تھی۔ اب میرے پاس دو دن تھے۔ اس کے بعد کیا ہونا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
717
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آئن اسٹائن اور نظریہ اضافیت-ریحان نقوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: