زندان کی چیخ ۔پچیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhاماں سے اجازت لے کر میں اور ندیم زلفی کشن الانی کے ساتھ شکار پور کے لئے روانہ ہو گئے۔ کشن اور اس کا خاندان بعد کے برسوں میں پہلے سندھ سے بھارت گیا اور بعد ازاں وہاں سے جنوبی افریقہ منتقل ہو گیا۔ سندھ کے سینکڑوں ہندو خاندان اپنی جنم بھومی چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئے یہ ایک الگ داستان ہے۔ سکھر والی ملاقات کا تذکرہ یادوں کے پھیلاؤ کے نہ روک پایا۔ شاہی قلعہ کی اپنی اسیری کے سارے عرصہ میں میرے پاس سوچنے کے لئے کچھ نہ تھا ہاں یاد کرنے کے لئے بہت کچھ تھا۔ اس اسیری کے دوران تفتیش کے مختلف مراحل کے دوران مجھے لگ بھگ سات بار اپنی رام کہانی لکھ کر دینا پڑی۔ پیدائش سے شاہی قلعہ تک کے سفر کی روداد لکھنے کا تجربہ بہت شاندار رہا۔ اب بھی اسی ترتیب کے ساتھ بارہ صفحات کی وہ کہانی لکھ سکتا ہوں۔ شاہی قلعہ کے تفتیشی افسر (ہر تفتیشی ٹیم) تفتیش کے دوران کم از دوبار اپنے زیرِ تفتیش ملزمے سے اس کی جنم کہانی لکھواتے۔ زیر زبر یا واقعہ کا آگے پیچھے ہو جانامعمولی بات تھی لیکن یہ جلاد اس میں بھی تشدد کا جواز نکال لیتے تھے۔ مجھے ایک بار بے رحمانہ تشدد کا سامنا صرف اس بات پر کرنا پڑا کہ میرے دوستوں میں ہندو بھی شامل تھے۔ ایک تفتیشی افسر نے مجھ سے سوال کیا،’’تم اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ کھانا بھی کھاتے تھے‘‘؟میں نے کہا کہ میں تو ان کے گھروں میں بھی رہتا تھا۔ وہ دوست تھے میرے۔ دوستی میں مذہب کی شرط کہاں لکھی ہوئی ہے؟ تفتیشی افسر میری بات کا برا مان گیا۔ لگا گالیاں دینے۔ اس دن میرا ستارہ پھر گردش میں تھا۔ میں نے اپنے تفتیشی افسر سے کہہ دیا،’’آپ مجھے گالیاں دے رہے ہیں یہ تو بتائیں آپ کا خاندان کب مسلمان ہوا تھا‘‘؟ یہ سوال بہت خطرناک ثابت ہوا۔ اس کے بعد تفتیشی افسر کے کہنے پر اہلکاروں نے میری خوب ’’خدمت‘‘ کی۔ دنبہ بنا دیا مار مار کر۔ بعد میں تفتیشی افسر نے کہا ،’’اب معلوم ہوا میرا خاندان کب مسلمان ہوا تھا‘‘؟ ’’جی معلوم ہو گیا۔ عمر بن ہشام کے ساتھ مسلمان ہونے والوں نے سیدوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے‘‘ میں نے کہا۔ وہ تو شکر ہے اسے عمر بن ہشام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا ورنہ خدا جانے وہ ہٹلر صفت تفتیشی افسر مجھ سے کیا سلوک کرتا۔
اگلے دن میری ٹیسٹ رپورٹیں آگئیں۔ وہ قلعہ والا ڈاکٹر، فلک شیراعوان، ایک میجر اور وہ دو ڈاکٹر جو پہلے والی کوٹھڑی میں میرا معائنہ کرنے آئے تھے دوبارہ آگئے۔ ان کے لئے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔ دو اہلکاروں نے اندر آکر پہلے مجھے ہتھکڑی لگائی پھر وہ سارے لوگ کوٹھڑی میں داخل ہوئے۔ مجھے یہ تو کسی نے نہ بتایا کہ رپورٹوں میں کیا لکھا ہے البتہ جس طرح ڈاکٹروں نے میرا معائنہ کیاخصوصاََ گردن اور ماتھے والے زخموں کا ، اس سے یہ احساس ہوا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ باہرسے آئے ہوئے ڈاکٹروں کے کہنے پر مجھے دو انجیکشن لگائے گئے۔ پھر گردن پر ایک انجیکشن لگا نیم غنودگی کا احساس ہوا۔ اور یہ بھی کہ گردن والا حصہ بالکل سن ہو گیا ہے۔ اتنا مجھے یاد ہے کہ فلک شیر کے کہنے پر ایک اہلکار نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ، پھر مجھے اٹھا کر کسی چیز پر ڈالا گیا۔ سٹریچر تھا یا چارپائی یہ معلوم نہیں۔ نیم غنودگی کے دوران کا وہ احساس کہ مجھے گاڑی میں کہیں لے جایا جا رہا ہے کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایک دو بار تو یہ خیال بھی آیا کہ شائد موت کی گھڑی آگئی ہے۔ پتہ نہیں انجیکشنوں میں کیا تھا دوائی یا زہر۔ بس کچھ دیر میں مر جاؤں گا۔ یہ مجھے کہیں ویرانے میں پھینکنے کے لئے لے جارہے ہیں۔ مگر جب میری آنکھوں سے پٹی اتاری گئی تو وہ جگہ ویرانہ نہیں بلکہ کسی ہسپتال کا آپریشن تھیٹر تھا۔ وہاں مجھے بے ہوش کر کے گردن کے خراب ہوئے زخم کے دوبارہ ٹانکے لگائے گئے اور ماتھے کے زخم کو بھی دوبارہ دیکھا گیا۔ ہوش آنے کے بعد ڈاکٹروں نے دوبارہ معائنہ کیا۔ اور فلک شیر وغیرہ کو مجھے واپس لے جانے کی اجازت دے دی۔ دوسری بار آنکھوں سے پٹی اس وقت اتاری گئی جب اہلکاروں نے مجھے کوٹھڑی میں واپس ڈال دیا۔ کئی گھنٹے تک نیم مدہوشی یا بے ہوشی کے عالم میں پڑا رہا۔ پھر کہیں اوسان بحال ہونے لگے تو مجھے احساس ہوا کہ کوٹھڑی کے باہر سنتری بادشاہ کے ساتھ کوئی اور بھی موجود ہے۔ کوٹھڑی کے باہر کرسی پر ایک اہلکار براجمان تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا،’’شاہ! کیسا محسوس کر رہے ہو‘‘؟ ’’گردن میں شدیددرد ہو رہا ہے‘‘ میں نے کہا۔ وہ اٹھ کر چلا گیا۔ واپس آیا تو ڈاکٹر اور چند دیگر افسران بھی اس کے ساتھ تھے۔ بھیا باورچی نے مجھے ایک پیالہ دیا جس میں چائے کے اندر ڈبل روٹی چوری ہوئی (بھیگوئی ہوئی) تھی۔ ڈاکٹر نے معائنہ کیا۔ ایک انجیکشن اور چند گولیاں، ساتھ ہی یہ ہدایت کہ چائے میں بھگوئی ہوئی ڈبل روٹی کھا لوں۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر دیوار کے سہارے بیٹھا۔نیم دلی کے ساتھ ڈبل روٹی کا ملغوبہ پیٹ میں اتارا۔ بچی ہوئی چائے پی لی۔ وہ لوگ واپس چلے گئے۔ نیند آنے لگی تو لیٹ گیا۔ اس رات ڈیوٹی تبدیل ہونے پر کسی سنتری نے مجھے آواز نہ دی۔ البتہ اگلی صبح بھیا باورچی چائے کا ناشتہ لے کرآیا تو اس نے آواز دے کر مجھے اٹھایا۔ ڈبل روٹی کے تین پیس اور چائے کا پیالہ تھما دیا گیا۔ ناشتہ کر چکا تو باہر کھڑے سنتری نے ہاتھ بڑھا کر مجھے ایک پڑیا تھما دی۔ دوائیوں کی خوراک کی پڑیا تھی جو آدھے یا پورے گھنٹے کے بعد میں نے پانی سے کھالی اور دیوار کے سہارے بیٹھا یادوں کی زنبیل کھولنے ہی والا تھا کہ فلک شیر اعوان اور کرنل لغاری آگئے۔ پیچھے پیچھے ایک اہلکار دو کرسیاں لے کر آگیا۔ کوٹھڑی کے باہر اس نے کرسیاں رکھ دیں۔ کرنل اور اعوان ان کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد کرنل لغاری نے مجھے کہا،’’ہماری تم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ بہت مشکل سے میں نے تمہارے لئے ’اوپر‘ سے اجازت لے کر ہسپتال بھجوایا تاکہ تمہارے زخم خراب نہ ہوں۔ دونوں زخموں کی دوبارہ سے اچھی طرح ڈریسنگ کر دی گئی ہے۔ جلد تم تندرست ہو جاؤ گے‘‘۔’’جی بہتر‘‘ میں نے کہا۔ اور کہتا بھی کیا۔ البتہ مجھے کرنل لغاری کے محبت بھرے لہجے پر حیرانی ضرور ہوئی۔ پھر اس نے اٹھتے ہوئے فلک شیر اعوان سے کہا’’کسی اہلکار کی مستقل ڈیوٹی لگا دو جو مقررہ وقت پر ڈاکٹر کو لا کر انجیکشن لگوائے اور دوائی دلوادے۔ یہ کہہ کر کرنل لغاری چلا گیا مگر فلک شیر چند قدم اس کے ساتھ جا کر واپس آگیا۔کہنے لگا’’شاہ جی! فکر نہ کرو چھوٹا سا آپریشن تھا تمہاری گردن کے کے زخم کا میں خود آپریشن تھیٹر میں موجود رہا۔ بس دوچار دن کی بات ہے تم تندرست ہو جاؤگے‘‘
’’زخم کے ٹانکے کھلنے تک تمہیں ڈبل روٹی چائے ہی ملے گی۔میں کوشش کروں گا لغاری صاحب ڈبل روٹی کے ساتھ کم از کم ایک بار دودھ دینے کی منظوری دے دیں‘‘۔ ’’شکریہ‘‘ میں نے کہا۔’’آپ میرے لئے کسی کا احسان نہ لیں‘‘۔ اس نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا،’’میری دلی خواہش ہے کہ تم یہاں سے نجات حاصل کر لو مگر یہ تم پر منحصر ہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد جب دوبارہ تفتیش شروع ہو تو تم کتنا تعاون کرتے ہو۔ میری درخواست پر ہی لغاری صاحب نے تمہارے آپریشن کی منظوری لی۔ بڑی مشکل پیش آئی انہیں اجازت لینے میں۔ امید ہے اب تم بھی تعاون کرو گے تاکہ تفتیش مکمل ہو اور تم یہاں سے جیل منتقل کیے جا سکو‘‘۔ کچھ دیر بعد فلک شیر بھی چلا گیا۔ البتہ ایک اہلکار وہیں کرسی پر جلوہ افروز ہو گیا۔ ایک قیدی، ایک سنتری اور ایک خدائی فوجدار۔ بہت مشکل پیش آتی تھی ان دنوں حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے میں۔ پیشاب کرنے والا پاٹ کوٹھڑی کے ہی ایک کونے میں رکھا تھا۔ گو اس وقت باہر کھڑا سنتری منہ دوسری طرف کر لیتا تھا مگر اس حال میں بھی اتنی شرم آتی تھی کہ سردیوں میں پسینہ آجاتا کہ کن حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ دوپہر کے بعد ڈاکٹر ایک بار پھر نازل ہوا انجیکشن لگانے کے لئے۔ میں نے اس سے پوچھا’’کتنے انجیکشن اور لگنے ہیں‘‘؟ ’’چار دن۔ اور روزانہ دو انجیکشن‘‘ اس نے جواب دیا۔’’صبح سات بجے اور پھر چار بجے۔ البتہ دوائیاں تمہیں ہر چھ گھنٹے بعد کھانی ہیں‘‘۔ یہ کہہ کرڈاکٹر چلا گیا۔ میں تھا اور باہر کی دنیا کی یادیں۔ میری باہر کی زندگی کوئی بہت زیادہ پرآسائش ہرگز نہیں تھی۔ محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی تھی۔ البتہ صاف ستھرا رہنا مجھے پسند تھا۔ مگر یہاں حالات تھے کہ جب سے قلعہ میں آیا تھا ساری صفائی ستھرائی اور پاکی و پلیدی دھری کی دھری رہ گئی تھی۔ امی جان بتائی ہوئی مناجات پڑھتے ہوئے احساس ہوتا کہ اس صورت میں آیاتِ قرآنی کی تلاوت کہیں غلط ہی نہ ہو ۔ پھر خود ہی جواب دیتا اللہ تو سب جانتاہے۔ میری زندگی کے مشکل بلکہ بدترین شب و روز تھے۔ لاہور کے شاہی قلعہ کی اسیری میں جو عرصہ گزرا اب بھی جب کبھی دو دن یاد آتے ہیں تو بے اختیار اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ثابت قدم رہا۔ تشدد، بدزبانی اور لالچ تینوں میں سے کوئی بھی مجھے اتنا نہ توڑ پایا کہ بزدلوں کی طرح معافی مانگ کر رہائی کی بھیک مانگوں۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
856
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔بارہویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: