زندان کی چیخ ۔چوبیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhجیسے ہی گوٹھ کی مسجد میں پرئیل کی والدہ کے انتقال کا اعلان ہوا، ہر طرف سے مردوزن پرئیل کے گھر کی طرف چل پڑے۔ زنان خانے سے ساجدہ خالہ نے کہلوا بھیجا،’’ ادی پچھلے سال زواری اور حج سے واپسی پر اپنا کفن کربلا سے لیتی آئیں تھیں اور پچھلے جمعہ کو انہوں نے اپنے سامنے تیار کروایا تھا‘‘۔ بہت اچانک بلکہ عجیب صورتحال تھی۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ پرئیل کی والدہ نے 1968ء کی اس دوپہر جب میں اور دو دوسرے ہم جماعتوں کے کے ہمراہ ان سے ملنے پرئیل کے ماموں کے گھر گیا تھا اپنی آخری گفتگو تک ہمیشہ اس بات کو مادرانہ وقار اور محبت سے نبھایا کہ انہوں نے مجھے بیٹا بنایا تھا۔ مگر ان کا یہ کہنا کہ شاہ زادہ اگلے جمعے کو آجائے گا۔ مجلس کا اہتمام، یہاں تک کہ جمعہ کی صبح کا ناشتہ میری پسند کے مطابق اہتمام سے تیار کروانا، پرئیل سے کہنا کہ شاہ زادہ روہڑی پہنچ گیا ہے جاؤ جا کر لے آؤ۔ ملاقات کے آخری دن کی باتیں، شام کی مجلس اور پھر نمازِ شکرانہ کی ادائیگی کے دوران خالقِ حقیقی سے ملاقات کے لئے روانگی، سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ میں ہی کیا گھر میں موجود سارے لوگ حیران تھے۔گوٹھ کی بڑی بوڑھیاں کہہ رہی تھیں پرئیل کی اماں پنجتن پاک ؑ کو بہت محبوب تھیں اس لئے ان کی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہوئی۔ یہاں تک کے اپنی وفات سے قبل مجلس کا اہتمام کروانا کہ جانے سے قبل وہ ذکرِ آلِ مصطفیٰ ﷺ سننا چاہتی ہیں۔ پرئیل کے اکثر رشتہ دار مجھے جانتے تھے ۔ انہیں معلوم تھا کہ پرئیل کی اماں نے مجھے بیٹا بنایا ہوا ہے۔ مگر اب ان کی گفتگو سے میرے لئے ان کی محبت اور جنرل ضیاء الحق دور کی میری قید کے دوران میری رہائی اور زندگی کے لئے میلاد و مجالس کے اہتمام کی روداد سن رہا تھا۔ ضیاء رجیم دور کی اسیری سے رہائی کے بعد میں درجنوں بار اماں کو ملنے آیا تھا۔ جن دنوں میں رحیم یار خان کے ’روزنامہ شہادت ‘ میں ملازمت کرتا تھا ان دنوں میرا معمول تھا کہ میں ایک ہفتہ وار چھٹی اپنے منہ بولے بھائی ریاض احمد خان کورائی کے گھر خانپور میں گزارتا اور ایک ہفتہ وار چھٹی پرئیل کی گوٹھ میں۔ ہر ملاقات پر وہ مجھے کہا کرتیں’’شاہ زادے! اماں نے تیرے لئے پاک محمد ﷺ مدینے والے کو بہت تنگ کیا۔ میں نے بھی کہہ دیا تھا پاک محمد ﷺ مدینے والے سے میرا شاہ زادہ واپس چاہیے ضیاء یزید کی قید سے‘‘ آج یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے پرآشوب دور میں ریاستی جبروتشدد کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہی مجھے اپنی والدہ حضور اور پرئیل کی اماں جان کی دعاؤں نے عطا کی۔
اماں کی وصیت کے مطابق پرئیل کے مرحوم والد کی قبر کے ساتھ ان کے لئے قبر تیار کروائی گئی۔ اور ہفتہ کی صبح نماز فجر کے فوراََ بعد ان کی نمازِ جنازہ ہوئی۔ گوٹھ کے مولوی صاحب نے نمازِ جنازہ سے قبل اعلان کیا کہ پرئیل کی والدہ کی وصیت کے مطابق ان کا منہ بولا بیٹا، جس کا تعلق سادات کے خاندان سے ہے، ان کی نمازِ جنازہ پڑھائے گا۔میں پرئیل کے ساتھ پہلی صف میں کھڑا تھا جب مولوی صاحب اور پرئیل کے بہنوئی نے مجھے نمازِ جنازہ پڑھانے کے لئے پکڑ کر آگے لے جا کر کھڑا کیا۔ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعدقبرستان میں بھی ان کی وصیت کی تعمیل کی گئی۔ میں نے اور پرئیل نے مل کر انہیں خدا کے سپرد کیا۔ تلقین پڑھی گئی اور ہم سب گھر واپس آگئے۔ اس سے اگلے روزاتوار کی صبح اماں کا سوئم ہوا۔ اسی رات مجھے واپس لاہور جانا تھا مگر پرئیل اور بہنوں کے اصرار پر ایک آدمی کو بھیج کر دو دن بعد لاہور کے لئے ٹکٹ بنوا لی گئی۔ اگلے دو روز تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تعزیت کرنے والے نہ ہوتے تو ہم سب اماں کی باتیں کرنے لگتے۔ پرئیل کی دونوں بہنیں اور بہنوئی مجھے بتاتے کہ جب میں جیل میں تھا تو کیسے اماں سکھر اور خیرپور میرس کے ایک ایک امام بارگاہ میں دعائیں مانگنے گئیں۔اور ایک دن اصرار کر کے سارے خاندان سمیت حیدرآباد میں قدم گاہ مولا علی ؑ سے منسوب مقام پر جا کر انہوں نے مجلس منعقد کروائی۔ منہ بولے رشتوں میں اس قدر صداقت تو اب خواب لگتی ہے۔ جس عہد میں ہم سب جینے پر مجبور ہیں یہاں رشتوں سے زیادہ حیثیتیں مقدم ہیں۔ سوئم سے دودن بعد میں واپس لاہور آگیا۔ پرئیل کا خیال تھا کہ میں لاہور نہ جاؤں۔ دونوں مل کر کھیتی باڑی کر لیں گے یا تم سکھر میں کسی اخبار میں نوکری کر لینا۔ لیکن میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ اس لئے روانگی سے قبل ایک بار اماں کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے حاضر ہوا۔ یہاں پرئیل نے فاتحہ خوانی کے بعد قبر میں آرام فرماتی ماں کو مخاطب کرے ہوئے کہا،’’اماں ! تیرا شاہ زادہ مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے‘‘۔ اسے گلے لگاتے ہوئے تسلی دی اور کہا’’یار!میں ہمیشہ کی طرح آتا رہوں گا‘‘۔ لیکن یہ ہمیشہ والی بات بھی محض تین سال تک رہی۔ نومبر 1989ء میں محمد پرئیل ایک ٹریفک حادثے میں خالقِ حقیقی سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گیا۔ جس ماں نے اپنی وفات کا دن بتا دیا تھا اور قبل از وقت کہتی تھیں میراشاہ زادہ جمعہ کی صبح آجائے گا وہی میرا جنازہ پڑھائے گا، اسی ماں کے بیٹے کی نمازِ جنازہ میں میں شرکت نہ کر سکا۔ البتہ سوئم سے قبل ان کی گوٹھ پہنچ گیا۔ 1967 سے پرئیل کے ساتھ محبت و اخوت کا جو رشتہ بنا تھا وہ نومبر 1989ء میں تمام ہوا۔ دکھ سکھ کے ہر مرحلے میں وہ میرے شانہ بشانہ رہا۔ اب تو بس ان بیتے ہوئے ماہ و سال کی یادیں ہیں۔ پرئیل نے نجانے شادی کیوں نہ کی۔ اماں نے اصرار کیا۔ پھر ان کی وفات کے بعد بہنوں نے بہت کہا مگر وہ ہمیشہ یہی کہتا،’’ابھی جلدی کیا ہے‘‘َ میں جب بھی اس سے شادی بارے کوئی بات کرتا تو وہ جواب دیتا’’یار شاہ! بیوی آگئی تو اماں کی خدمت کون کریگا۔ گھر داری جتنی بھی اچھی ہو انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ میں اپنا سارا وقت اپنی اماں کے لئے سمجھتا ہوں۔ کیا باادب اور بانصیب بیٹا تھا۔ نمازِ پنجگانہ اور تہجد کے لئے خود اپنی اماں کو وضو کرواتا۔ سردیوں میں پانی گرم کر کے وضو کے لئے اماں کے پاس حاضر ہوتا۔ سکھر وغیرہ جاتا تو کوشش کرتا کہ صبح جائے اور اولاََ دوپہر تک واپس گھر چلا جائے ورنہ شام سے قبل ہر قیمت پر گھر پہنچ جائے۔ ناشتہ اور شام کا کھانا وہ اپنی اماں کے ساتھ کھاتا۔ گھر میں دو تین نوکر ہونے کے باوجود وہ اپنی اماں کے کپڑے خود دھوتا اور استری کرتا۔ اماں ہمیشہ کہتیں’’پرئیل! یہ کام نوکر کر دے گا‘‘۔ وہ ان کے ہاتھ چوم کر کہتا’’اماں! تیرا نوکر تو پرئیل ہے۔ یہ کام کرنے والے تیرے پرئیل کے نوکر ہیں‘‘۔
لاریب اپنی ساری زندگی میں میں نے ایسا سعادت مند بیٹا نہیں دیکھا جیسا پرئیل تھا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سامی (سامی سندھی زبان کے بڑے شاعر تھے) کا عاشقِ صادق۔ مطالعہ غضب کا، تقابلِ ادیان پر گھنٹوں گفتگو کرنے کا سلیقہ رکھتا تھا۔ دوست نواز ایسا تھا کہ بس اسے بھنک پڑ نی چاہیے کہ کوئی دوست مشکل میں ہے اور وہ پہنچا دوست کی مدد کو۔ اپنی زندگی اس نے اماں کی خدمت کے لئے وقف کردی تھی۔ ہر لمحہ ان کی آواز پر حاضر ہونے کو وہ جنت کی سند سمجھتا تھا۔ پرئیل جیسے دوست نصیب والوں کو ہی ملتے ہیں۔ ہمیشہ سفید لباس پہنتا۔ البتہ محرم اور صفر کے مہینوں میں سیاہ لباس زیبِ تن رکھتا۔لگ بھگ بائیس تئیس سال پر پھیلی دوستی کے عرصہ میں کبھی کسی بات پر ناراض نہیں ہوا۔ میری کوئی بات بری لگتی تو بھی فقط اتنا کہتا،’’یار شاہ! اب میں اپنی اماں کے شاہ زادے سے ناراض کیا ہوؤں اور جواب کیا دوں‘‘؟ مجھے یاد ہے کہ جب میں شاہی قلعہ بھگت کر ملتان جیل پہنچا تو پہلی ملاقات پر جو دوست رشتہ دار ملنے آئے پرئیل ان میں شامل تھا۔ اس کے ایک پھوپھی زاد بھائی فوج میں کرنل تھے اور ان دنوں ان کی پوسٹنگ بہاولپور میں تھی۔ انہوں نے ہی ملتان میں اپنے کسی بیچ میٹ کو فون کیا جس نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ پرئیل کا نام بھی ملاقاتیوں کی فہرست میں درج کیا جائے۔ ہفتہ وار ملاقات ہر سوموار کو ہوتی تھی۔ پرئیل ایک سوموار کے وقفہ سے ملاقات کے لئے آتا۔ ایک یا دوبار اس کے ساتھ اماں بھی ملتان تک کا سفر کر کے ملاقات کے لئے تشریف لائیں۔ پہلی بار آئیں تو انہوں نے پرئیل کے ذریعہ جیل حکام سے کہلوایا کہ مجھے اپنے شاہ زادے سے ملنا ہے۔ سیاسی قیدیوں کی ہفتہ وار ملاقات کے انچارج جیل عملے کے ایک افسر یوسف غوری نے ان سے کہا،’’محترمہ ملاقات صرف مقررہ مقام پر ہوسکتی ہے‘‘۔ اماں نے نجانے غوری کو کیا کہا اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ ملاقات کے وقت جب ہم جیل کی ڈیوڑھی کے قریب ملاقاتی جنگلے کے پاس پہنچے تو یوسف غوری نے مجھ سے کہا،’’شاہ جی! اج تہاڈی ملاقات میرے کمرے وچ اے (شاہ جی آج آپ کی ملاقات میرے کمرے میں ہے)مجھے حیرانی ہوئی اور تشویش بھی۔ کیونکہ جیل افسر کے کمرے میں ملاقات کا مطلب تھا خفیہ والے ساری گفتگو لکھیں گے۔ مگر غوری کے کمرے میں داخل ہوا تو اندر میرے بہن بھائیوں کے ساتھ پرئیل کی والدہ صاحبہ بھی موجود تھیں۔ بسمہ اللہ میرا شاہ زادہ کہتے ہوئے انہوں نے ممتا کی محبت بھری آغوش میں لے لیا۔ بہت دعائیں دیں انہوں نے مجھے۔ میرے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہہ رہی تھیں،’’شاہ زادے! پاک محمد ﷺ مدینے والے کی اولاد کو ہر دور میں ایک یزید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حسبی نسبی شاہ زادے حسینیت پر عمل کرتے ہیں۔ بھرتی خورے مردار تو بھاگ جاتے ہیں‘‘۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
944
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔بارہویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: