زندان کی چیخ ۔ تئیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhٹیکسی والے کو کرایہ ادا کر کے میں نے بیگ پرئیل کی گاڑی میں رکھا اور ہم گوٹھ کی طرف چل دئیے۔ دو اڑھائی کلو میٹر کے باقی سفر میں پرئیل نے بتایا اماں ہفتہ پندرہ دن سے بیمار ہیں اور مجھے روزانہ کہتی ہیں تم شاہ زادے کو فون کرو کہ اماں بلا رہی ہے۔ کل دوپہر کو کہنے لگیں،’’محمد پرئیل! تم نے شاہ زادے کو فون نہیں کیا۔ میں نے خود بلا لیا ہے۔ اب وہ کل صبح کا ناشتہ میرے پاس کرے گا‘‘۔ یار شاہ! میں نے ہنستے ہوئے اماں سے کہا،’’اماں! اب تم ولی بھی ہو گئیں۔ یہ تو سید زادوں کے مرتبے ہیں‘‘۔ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگیں،’’محمد پرئیل ! میں نے پاک محمد ﷺ مدینے والے کی پاک بیٹی بی بی فاطمہؑ سے درخواست کی تھی میرے شاہ زادے کو بھیج دیں۔ بی بی فاطمہؑ نے بھیج دیا۔ شاہ زادہ آرہا ہے‘‘۔ نماز کے وقت ہی میں روانہ ہو جاتا مگر گاڑی خراب ہوگئی اس لئے نکلنے میں دیر ہو گئی۔ پھر اس نے مجھ سے سوال کیا،’’یار شاہ! یہ اماں کو کیسے پتہ چلا کہ تم آرہے ہو‘‘؟ میں صرف اتنا ہی کہہ پایا کہ اماں نے دعا مانگی اور پوری ہو گئی۔ میرا جی بہت بے چین تھا۔ دو دن سے مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی کہہ رہا ہے ۔ شاہ زادے سکھر جاؤ، اماں بلا رہی ہے۔ پندرہ بیس منٹ کے راستے میں ہم دونوں باتیں کرتے رہے۔ گاڑی رکی تو ہمیں احساس ہوا کہ گھر آگیا ہے۔ ہم دونوں گاڑی سے باہر نکلے تو اماں پرئیل کی بڑی بہن اور اپنے بھانجے کا سہارا لئے دروازے پر کھڑی تھیں۔ گھٹنے چھو کر میں نے انہیں سلام کیا۔ حسبِ دستور انہوں نے شفقت بھری آغوش میں لے کر پیار کرتے ہوئے کہا،’’شاہ زادے! یہ تمہار کمیونسٹ پرئیل مانتا ہی نہیں تھا۔ کہتا تھا اماں پرئیل کی اماں ہی رہو اللہ کی ولی نہ بنو۔ ہاں پرئیل اب بولو۔ بھیجا نا میرے شاہ زادے کو پاک محمد ﷺ مدینے والے کی پاک بیٹی بی بی فاطمہؑ نے‘‘؟ پرئیل نے احتراماََ سر جھکا لیا۔ ہم گھر کے اندر داخل ہوئے تو اماں سب سے پہلے صحن میں ایک طرف لگے ہوئے حضرت غازی عباس علمدار ؑ کے علم کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح علم پر رکھے چراغوں میں تیل ڈالا اور علم کو بوسہ دیتے ہوئے بولیں،’’مولا غازیؑ بہت شکریہ۔ میرا شاہ زادہ آگیا‘‘۔ آگے بڑھ کر ہم اماں کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں میز پر ناشتہ لگا ہوا تھا۔ پرئیل کی ادی (بڑی بہن) ہمیشہ مجھے ادا سید کہہ کر بلاتی تھیں۔ مگر اس دن انہوں نے کہا،’’ادا شاہ زادے! اماں نے تمہاری پسند کا ناشتہ بنوایا ہے‘‘۔ پراٹھے کے ساتھ آلو گوشت کا سالن اور انڈوں کا آملیٹ مجھے ناشتے میں بہت پسند تھا۔ پرئیل کے گھر جب بھی آتا جتنے روز بھی رہتا اماں میرے لئے یہی ناشتہ بنواتیں۔ پرئیل کی ادی بھی اسی گوٹھ میں رہتی تھیں۔ ان کی شادی پرئیل کے ماموں زاد بھائی سے ہوئی تھی۔ میں جتنے دن یہاں رہتا وہ اپنے شوہر اوردونوں بچوں کے ساتھ اماں کے پاس چلی آتیں۔ ان کے شوہر محمد رشید ملہار محکمہ زراعت میں اچھے منصب پر تھے۔ خیر پور میرس میں تعینات تھے۔ پرئیل کی طرح وہ بھی اپنے والد کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔ زمین بھی اچھی خاصی تھی۔ مگر زمینداروں اور سرکاری افسروں والی پھوں پھاں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ اماں اور ان کے بھائی مرحوم ولی محمد کے درمیان بہت محبت تھی۔ ولی محمد مرحوم ڈی ایس پی کے طور پر سندھ پولیس سے ریٹائرہوئے تھے۔ مرحوم سندھ پولیس کے ان چند افسروں میں شمار ہوتے تھے جن کے دامن پر رشوت اور اقربا پروری کا کوئی داغ نہیں تھا۔ ان کی زندگی پر اپنی ہمیشرہ (پرئیل کی والدہ) کے بہت اثرات تھے۔ولی محمد جب اے ایس آئی کے طور پر سندھ پولیس میں بھرتی ہوئے تو ان کی ہمشیرہ (پرئیل کی والدہ) نے اپنا ڈوپٹہ ان کی گود میں ڈالتے ہوئے بھائی سے عہد لیا تھا کہ وہ رشوت نہیں لیں گے۔اور کسی کا ناجائز کام نہیں کریں گے نا ہی کسی ناجائز کام کے لئے سفارش مرحوم نے دورانِ ملازمت قدم قدم پر بہن سے کیا ہوا وعدہ نبھایا ۔ پرئیل کی والدہ ان سے چھوٹی تھیں مگر انہوں نے چھوٹی بہن کو ساری عمر ماں کا مرتبہ دیا۔ ہم ناشتہ کر چکے تو اماں بولیں ’’شاہ زادے !آرام کر لو مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں‘‘۔ ’’تو ہم باتیں کر لیتے ہیں میں راستے میں سویا رہا پھر چند گھنٹے روہڑی سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بھی آرام کیا تھا‘‘۔ مگر اماں کے اصرار پر سونے کے لئے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ دوپہر کے وقت پرئیل نے جگا کر کہا اماں بلا رہی ہیں۔ اماں کے کمرے میں پرئیل کی دونوں خالائیں، ایک خالو اور چند دیگر عزیز موجود تھے۔ میں سب سے میل ملاقات کے بعد بیٹھا تو پرئیل کے ایک خالو نے کہا،’’مرشد! ادی نے کل بتایا تھا کہ آپ آرہے ہو اور آپ واقعتاََ آج پہنچ گئے۔ سب نے خیر خیریت دریافت کی تو اماں بولیں’’آپ سب کھانا کھاؤ پھر میں نے کچھ باتیں کرنی ہیں‘‘۔ کھانا لگا تو اماں بولیں’’شاہ زادے! تم اور پرئیل یہاں میرے پاس بیٹھ کر کھانا کھاؤ‘‘ہم دونوں اٹھ کر اماں کے پاس جا بیٹھے۔ کھانا کھا چکے تو پرئیل کے بڑے خالو نے پوچھا،’’پرئیل کی اماں حکم کرو کیا کام ہے‘‘؟ انہوں نے باآوازِ بلند درود شریف پڑھا اور کہنے لگیں،’’مجھے اپنے شاہ زادے کا انتظار تھا۔ اسے پاک محمد ﷺ مدینے والے کی پاک بیٹی بی بی فاطمہؑ لے آئی ہیں۔ میری وصیت ہے کہ میری نمازِ جنازہ میرا شاہ زادہ پڑھائے اور پرئیل کے ساتھ مل کر مجھے قبر میں اللہ کے سپرد کردے‘‘ اس بات پر سب گبھرا کر بولے ’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ مولا زندگی دے‘‘۔’’ہاں مولا نے مجھے مہلت لے دی شاہ زادے کے آنے تک کی۔ یہ مہلت آج رات ختم ہو جائے گی۔ ذاکر علی محمد کو میں نے پیغام بھیجا ہے۔ وہ عصر کی نماز تک آجائے گا۔ مغرب کے بعد وہ مجلس پڑھے گا‘‘۔
میں اور پرئیل ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پرئیل کی خالائیں اماں سے لپٹ کر رونے لگیں۔ ’’ادی یہ تم کیا کہہ رہی ہو‘‘۔ ساجدہ خالہ سے انہوں نے کہا،’’ساجدہ! میں نے تمہیں پچھلے جمعے کو کیا کہا تھا‘‘؟ وہ بولیں،’’ادی تم نے کہا تھا اگلے جمعہ کو میرا شاہ زادہ آجائے گا۔ اس کا انتظار ہے۔ پاک محمد ﷺمدینے والے اور مولاؑ سے درخواست کی ہے شاہ زادے کے آنے تک کی مہلت لے دیں اللہ سے‘‘۔ ان کی بات پوری ہوئی تو میں نے کہا،’’اماں! اللہ آپ کو زندگی دے‘‘۔ ابھی کچھ اور کہنا چاہ رہا تھا کہ انہوں نے کہا،’’شاہ زادے! مجھے تمہارا انتظار تھا۔ پرئیل کی خالہ ساجدہ سے میں نے کہہ دیا تھا کہ گھر کے مردوں کو بتا دے کہ نمازِ جنازہ شاہ زادہ پڑھائے گا‘‘۔ ’’پر اماں میں مولوی کب ہوں‘‘؟ ’’شاہ زادے ! مجھے مولوی سے نہیں پڑھوانی نمازِ جنازہ۔ بس یہ میری وصیت بھی ہے اور عرض بھی۔ تم میری نمازِ جنازہ پڑھاؤ گے‘‘۔ پھر وہ خاندان کے دیگر لوگوں سے باتیں کرنے لگیں۔ اپنی بہنوں کے دو بچوں کے رشتے طے کئے۔ کسی نے کوئی سوال نہ کیا۔ ساجدہ خالہ کے شوہر بولے،’’ادی پرئیل کی اماں! تمہارا حکم منظور ہے۔ دعا کرو، ہماری طرف سے آمین سمجھو‘‘۔ انہوں نے دوسری بہن کی طرف دیکھا تو وہ عمر میں بڑی ہونے کے باوجود اپنی جگہ سے اٹھیں ، پرئیل کی اماں کو سینے سے لگاتے ہوئے کہنے لگیں’’ادی فضہ! کبھی تمہاری بات سے انکار کیا زندگی بھر ، جو اب کروں گی‘‘۔ اماں نے انہیں پیار کرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا اور بولیں،’’شاہ زادے! دعا کرو یہ رشتے مولا علیؑ اور پاک بتولؑ کی طرح خیرو برکت کا باعث ہوں‘‘۔ ہم سب نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کردئیے۔ دعا ختم ہوئی تو اماں نے نعرہ حیدری لگوایا۔ اسی شام ذاکر محمد علی نے مجلس عزأ سے خطاب کیا۔ اماں نے انہیں کہلوایا کہ فضائل میں مولا علیؑ اور پاک بتولؑ کی شادی پڑھی جائے۔ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے ذاکر علی محمد نے سماں باندھ دیا سندھی، سرائیکی اور اردو میں ملی جلی مجلس پڑھنے ہوئے۔ مجلس کے بعد لنگر تقسیم ہوا۔ اماں شکرانے کے دو نفل پڑھنے کے لئے جائے نماز پر بیٹھیں۔ دوسری رکعت کے پہلے سجدہ میں خالقِ حقیقی سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گئیں۔ گھر میں کہرام برپا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد گوٹھ کی دونوں مسجدوں سے اعلان ہو، ڈی ایس پی ولی محمد کی ہمشیرہ اور محمد پرئیل کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1543
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ - پہلی قسط

One thought on “زندان کی چیخ ۔ تئیسویں قسط

  • 26/07/2016 at 8:45 شام
    Permalink

    یہ ایقان و ایمان کی وہ منزل ہے وہ عقیدے کی انتہائی بلندیوں پہ پُہنچے ہوئے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ،،،

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: