زندان کی چیخ ۔بائیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhہوا یوں کہ سکھر کالج میں سپاف کے سیمینار میں شرکت کرچکے تو طلباء ایکشن کمیٹی سندھ (اس میں سپاف، جئے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن، پی ایس ایف، ڈی ایس ایف اور سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن وغیرہ شامل تھے) کے سکھر کے صدر وحید علی درانی نے اپنے گھر ہیراج کالونی میں ہمیں شام کے کھانے کی دعوت دی۔ وہاں کھانے پر انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کل (یعنی اگلے دن) سندھ میں گرفتار کئے جانے والے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور طلباء، مزدور، صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف یومِ احتجاج منا رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی والوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کل کے جلسہ میں آپ بھی تقریر کریں۔ پرئیل اور دوسرے دوست بھی اصرار کرنے لگے کہ آج رات کی بجائے کل رات کو واپس چلے جانا۔ بہرطور دوستوں کے اصرار پر میں اور این ایس ایف کراچی کے ندیم زلفی سکھر رک گئے۔ اگلے روز سکھر کے بس اسٹینڈ کے پاس احاطے میں کوئی سو ڈیڑھ سو لوگ جمع تھے۔ وہاں خوب تقریریں ہوئیں۔ مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا تو پرئیل اور اجوت کمار نے کہا،’’شاہ تم کل کالج میں کہہ رہے تھے جنرل ضیاء الحق نے نماز کی نیت تبدیل کر دی ہے۔ وہ کیا بات تھی‘‘؟ ان کی بات سن کر میں ہنستا ہوا ڈائس کی طرف بڑھ گیا تو جلسہ کے شرکاء نے باآوازِ بلند کہنا شروع کر دیا’’سید! نماز کی نیت۔ سید! نماز کی نیت‘‘ میں نے کہا چلو باقی باتیں پھر کرتے ہیں پہلے نماز کی نئی نیت سن لو۔ آج کے بعد نماز کی نیت ہو گی ’’دو رکعت نماز زبردستی۔ بحکم سی ایم ایل اے کے، پیچھے ڈی ایم ایل اے کے، منہ طرف جی ایچ کیو کے، ضیاء الحق‘‘ نماز کی یہ انوکھی اور نئی نیت سن کر جلسہ کے شرکاء نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس شور شرابے میں انتظامیہ اور پولیس نے جلسہ گاہ کو گھیرے میں لے لیا۔ (اس نئی نیت نماز کے خالق ہمارے دوست اور این ایس ایف بہاولپور کے رہنما رفیق پہلوان تھے۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے بہاولپور میں ایک جلسہ میں بیان کی تھی۔ یہ نیت مجھے اچھی لگی اور میں نے اس کے بعد کئی جگہ اس کا اظہار کیا)۔ جلسہ گاہ کے گھیرے میں آتے ہی میزبانوں کو پریشانی لاحق ہوئی۔ وحید درانی جلسہ گاہ کے اندر سے بنے راستے سے مجھے اور ندیم زلفی کو ایک گھر میں لے گئے۔ یہ ان کے چچا کا گھر تھا۔ وہاں سے دوسرے راستے سے نکل کر ہم دونوں موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر روہڑی چلے گئے۔ جہاں سے بس میں سوار ہوئے اور پنوں عاقل میں زلفی کے ماموں کی گوٹھ پہنچ گئے۔ اگلی صبح ہمیں معلوم ہوا کہ درانی اور جبار کاکڑ کے علاوہ ارتضیٰ بھٹو گرفتار کر لئے گئے۔ جبکہ پولیس ساری رات سکھر، حیدرآباد روڈ پر ناکہ لگائے ہر گزرنے والی بس کی سواریاں اتار کر مجھے اور زلفی کو تلاش کرتی رہی۔ ان کا خیال یہی تھا کہ دونوں کراچی سے آئے ہیں اسی طرف واپس جائیں گے۔ ہمارے دوست محمد پرئیل کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ندیم زلفی پنوں عاقل کے قریب کے ایک گوٹھ کا آبائی رہائشی ہے۔ دوپہر کے وقت پرئیل بھی ہمارے پاس پہنچ گیا۔ وہ آتے ہوئے اخبارات لیتا آیا تھا۔ جس میں کل کے جلسہ کے بارے میں ایک چھوٹی سی خبر فقط اس حوالے سے تھی کہ کچھ طلباء ایک غیر قانونی اجتماع منعقد کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لئے گئے اور پولیس کراچی سے آئے ہوئے ان دو افراد کو گرفتارکرنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے جنہوں نے طلباء کو غیر قانونی اجتماع منعقد کرنے پر اکسایا تھا۔ پرئیل کی آمد کے کے کچھ دیر بعد ہمارے دوست کشن راجیو الانی بھی آگئے۔ ان کا اصرار تھا کہ ہم ان کے ساتھ شکار پور چلیں۔ ایک دو دن وہاں رہیں اور پھر کراچی چلے جائیں۔ کشن شکار پور کے رہنے والے طالب علم رہنما تھے۔ نظریاتی طور پر جی ایم سید کے عقیدت مند اور جئے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال کارکن۔ باہم مشورہ سے ہم کشن کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ راستے میں کچھ دیر کے لئے پرئیل کی گوٹھ میں رکے جہاں پرئیل کی والدہ محترمہ نے حسبِ دستور ایک سید زادے کی اپنے گھر آمد کو خوش بختی قرار دیتے ہوئے حضرت عباس علمدارؑ کے علم کے نیچے رکھے دیوں میں تیل ڈالا۔ ان کا ممتا بھرا اصرار تھا کہ ہم سب رات کو یہاں رہیں۔ میں نے کشن سے کہا ’’سائیں ہم اماں کو انکار نہیں کر سکتے۔اب ہمیں رات یہیں رہنا ہے‘‘۔ کشن بولا،’’کوئی بات نہیں‘‘۔وہ رات ہم نے پرئیل کے گوٹھ میں میں ان کی اماں کی محبت کے سائے میں بسر کی۔ اگلی صبح ہم کشن کی گاڑی میں سوار ہو کر چلنے لگے تو پرئیل کی والدہ نے مجھے پیار کرتے ہوئے پوچھا،’’شاہ زادے! پھر اماں سے ملنے کب آؤ گے‘‘؟ جلدی آنے کا وعدہ کر کے ان سے اجازت لی اور شکار پور کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ پرئیل چوتھی جماعت سے دسویں جماعت تک کراچی کے نصرت اسلام ہائی سکول میں میرا ہم جماعت رہا۔ ان دنوں وہ اپنے پولیس انسپکٹر ماموں ولی محمد ملہار کے پاس کراچی میں رہتا تھا۔ اس کی والدہ بھی کبھی کبھار گوٹھ سے کراچی آتیں تو میں ، ارجمند لاشاری اور فاروق سومرو انہیں ملنے جاتے۔
پہلی بار جب پرئیل ان سے ملوانے کے لئے لے گیا تو ہم تینوں نے سندھی روایات کے مطابق ان کے گھٹنے چھوئے۔ انہوں نے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور پیشانیاں چومتے ہوئے پرئیل سے کہا ’’پرو‘‘، وہ پرئیل کو پرو کہتیں۔ البتہ جب وہ نماز کے لئے وضو کر چکی ہوتیں تو جتنی دیر تک وہ تسبیح پڑھتی رہتیں پرئیل کو کوئی بات کہنا ہوتی تو محمد پرئیل کہہ کر بلاتیں،’’وہ تمہارا شاہ زادہ دوست کون ہے ان تینوں میں‘‘۔ پرئیل نے ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کیا تو انہوں نے مجھے اپنی شفقت بھری آغوش میں سمیٹ لیا۔ درود شریف پڑھتی جاتیں اور ماتھے پر بوسے دیتے جاتیں۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا’’شاہ زادے! آج سے تم میرے بیٹے ہو‘‘۔ ارجمند اور فاروق سومرو نے ہنستے ہوئے کہا،’’اماں ہم بھی پرئیل کے دوست ہیں۔ ہمیں بھی بیٹا بنا لو‘‘۔ شفقت بھرے انداز میں انہوں نے کہا،’’تم دونوں بھی پرئیل کی طرح ہی میرے بیٹے ہو۔ مگر یہ تو شاہ زادہ ہے۔ پاک محمد ﷺ مدینہ والے کی پاک بیٹی بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کا شاہ زادہ۔ اس لئے یہ خاص بیٹا ہے اور تم پرئیل جیسے‘‘۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ محمد پرئیل کی والدہ سے جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی تو ہم چاروں چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے۔ پہلی ملاقات میں جو مجھے شاہ زادہ کہا، آخری سانس تک شاہ زادہ ہی کہہ کر بلاتی رہیں۔ ہمارے اس محبوب دوست محمد پرئیل کی والدہ محترمہ کا انتقال اکتوبر 1986ء میں ہوا۔ اب ہم اسے محض اتفاق کہیں یا اللہ رب العزت کے بنائے پروگرام کا حصہ۔ 1986ء میں میں لاہور میں ہفت روزہ ’’رضا کار‘‘ کا ایڈیٹر تھا۔ اخبار کی ہفتہ وار اشاعت بدھ کے روز ہوا کرتی تھی۔ جمعرات کو ہم اپنے سالانہ خریداروں کو اخبار پوسٹ کر دیا کرتے تھے۔ ہفت روزہ ’’کہکشاں‘‘ سے الگ ہو کر جب میں نے استادِ مکرم اور اپنے مربی و محسن حجتہ الاسلام علامہ سید افتخار حسین نقوی کے حکم پر ہفت روزہ ’’رضا کار‘‘ کی ادارت سنبھالی تو مجھے پہلے روز ہی بتا دیا گیا کہ’’ رضا کار‘‘ کے ہر ماہ میں چار کی بجائے تین شمارے شائع ہوتے ہیں۔ ہم ہر ماہ کے آخری شمارے پر دو شماروں کے نمبروں کا اندراج کرتے تھے۔ اکتوبر 1986 میں ’’رضا کار‘‘ کا تیسرا شمارہ در حقیقت معمول کے مطابق تیسرا اور چوتھا شمارہ تھا۔ جمعہ کو ہمیں چھٹی ہوا کرتی تھی۔ میں جمعرات کی سپہر کو تیزگام ایکسپریس پر سوار ہو کر لاہور سے سکھر کے لئے روانہ ہو گیا۔ اس دن کی بے چینی اور سکھر جانے کی شدید خواہش کبھی نہیں بھول سکتا۔ جمعہ کی صبح تک میں پرئیل کی گوٹھ پہنچ چکا تھا۔ ابھی ٹیکسی گوٹھ کے داخلی راستے پر مڑی ہی تھی کہ سامنے سے پرئیل کی گاڑی آتی دیکھائی دی۔ میں نے ٹیکسی رکوائی اور باہر نکل آیا۔ پرئیل نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا۔ وہ گاڑی روک کر باہر نکلا اور مجھ سے لپٹ گیا۔ ’’کہاں جا رہے تھے‘‘؟ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’یار! تمہیں لینے سکھر جا رہا تھا‘‘۔ اس نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں نے تو تمہیں کوئی اطلاع نہیں کی آنے کی‘‘، میں نے کہا۔پرئیل نے جواب دیا’’اماں مجھے نماز کے وقت سے کہہ رہی تھیں محمد پرئیل! جاؤ۔ میرا شاہ زادہ روہڑی پہنچ گیا ہے۔ اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہے کہ صبح ہو اور اماں کے پاس گوٹھ جاؤں‘‘۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
814
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔ساتویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: