Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندان کی چیخ ۔ اکیسویں قسط

by جولائی 22, 2016 تاریخ
زندان کی چیخ ۔ اکیسویں قسط
Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhکرنل لغاری، دوسرا افسر اور ڈاکٹر کوٹھڑی سے واپس چلے گئے۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہا۔ یہ حکومت کے مخالفوں کو اسلام کا دشمن کیوں سمجھتے ہیں؟ ہماری لڑائی کسی اسلامی خلافت سے تو تھی نہیں۔ ایک آرمی چیف نے آئین توڑا۔ اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ ایک نہیں کئی بار کہا کہ فوج تو صرف ریفری کا کردارکرنے آئی ہے۔ انتخابات میں جو کامیاب ہو گا اقتدار اس کے حوالے کر کے چلے جائیں گے۔ مگر فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اپنا ہر وعدہ توڑا۔ یہاں تک کے قرآنی آیات کی تلاوت کر کے بھی جو وعدے کیے ان سے انحراف کیا۔ اس کے ماتحتوں کو اپنے چیف کا یہ گھناؤنا جرم دیکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ الٹا سیاسی قیدیوں کو کہتے تم تو اسلام کے دشمن ہو، پاکستان کے غدار ۔کیسی عجیب بات تھی امریکی سامراج کے لئے کرائے کے قاتل کا کردار ادا کرنے والا جنرل ضیاء الحق محافظِ اسلام تھا اور جمہوریت پسند زمین زادے اسلام دشمن؟ کرنل لغاری وغیرہ کے جانے کے کچھ دیر بعد ڈاکٹر اپنے ڈسپنسر کے ساتھ واپس آیا اور مجھے چند دوائیاں دینے کے بعد کہنے لگا،’’کل خون کے ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹوں کی رپورٹ آنے پر دیکھیں گے مزید کیا دوائی دینی ہے۔ ابھی تو تم یہ شام کو کھانے کے بعد کھا لینا‘‘۔ بہتر کہہ کر میں نے دوائیاں لے لیں۔ ڈاکٹر واپس چلا گیا تو مجھے اپنی حالت پر کچھ تشویش ہونے لگی۔ طبیعت تو خراب تھی مگر اب یہ احساس دامن گیر ہوا کہ معاملہ گڑبڑ ہے ورنہ یہ درندے اتنے رحم دل نہیں کہ علاج کے نخرے برداشت کرتے۔بات بخار سے آگے کی ہے۔ بخار کی شدت میں کمی نہیں آرہی تھی۔ 103 سے کم تو ہو ہی نہیں رہا تھا۔ اس قید تنہائی میں سوچا ہی جا سکتا تھا یا پھر دعائیں کی جاسکتی تھیں۔ کچھ ایسا مذہب بیزار شخص نہیں تھا البتہ مذہبی ڈھکوسلے اچھے نہیں لگتے تھے۔ کوئی عبادت کرتا ہے تو کرے اور جو نہیں کرتا اس پر زور یا اسے اس کے لئے ترغیب دینا کبھی اچھا نہیں لگا۔ انسان اپنے معاملات میں خود اختیار کردہ راہ پر چلنے کا حق دار ہے۔
مگر پاکستان میں عجیب صورتحال تھی۔ بالخصوص جب سے فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا لگتا تھا ہر شخص کو مذہب کا دورہ پڑ گیا ہے۔ سرکاری ملازمین تو ایسے مذہبی چوچے بنے پھرتے تھے جیسے ان میں سے اکثر کی پیدائش سجدہ کی حالت میں ہوئی تھی۔ حکومت اور اداروں میں ہر سطح پر یہ تاثر دیا جانے لگا تھا کہ عبادات کے بغیر مسلمان کی زندگی فضول ہے۔ اس سوال کاجواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ کیا نماز و دیگر عبادات غربت کا متبادل ہیں؟ اور اگر رحمتیں عبادت گزاروں کا حق تھیں تو پھر یہ کیسے ہوا کہ نمازیوں کی اکثریت کا تعلق بھی محروم طبقات سے ہے۔ دکھاوا بہت بڑھ گیا تھا۔ ساراسال منافع خوری کرنے والے محرم اور ربیع الاول میں نذر نیاز کر کے گناہ بخشوا لیتے تھے۔ ذاتی طور پر بہت سارے ایسے سرکاری ملازمین کو جانتا تھا جنہوں نے کبھی مسجد کی شکل نہیں دیکھی تھی لیکن جنرل ضیاء کے دور میں ان کی جیب میں تسبیح اور ٹوپی نے جگہ بنا لی۔ ماتحت بڑے افسر سے ملاقات کے لئے حاضری دیتے وقت ایسا حلیہ بنا لیتا جیسے ابھی سیدھا حضرت شاہ رکنِ عالم ؒ کے دربار سے اٹھ کر آرہا ہو۔ ہمارے ایک کامریڈ طالب علم رہنما سعدی خان نے جو ملتان بورڈ میں ملازم ہو گئے تھے سر پر جالی والی ٹوپی مستقل طور پر پہن لی۔ جس قدر مصنوعی پن پنجاب میں تھا وہ دوسرے صوبوں میں نہیں تھا۔ سندھ کے اندرونی حصے میں پھربھی اعتدال کا دور دورہ تھا۔ صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخواہ) کے باشندے تو خیر اکثریت میں نماز روزں کے عادی تھے۔ بعد کے برسوں میں جب اپنی ملازمت کے دوران عشرہ بھر سے زیادہ پشاور میں رہا تو میں اپنے پشتون دوستوں کو کہا کرتا تھا یار! آپ لوگ نماز عادت سے پڑھتے ہو۔ ایک پشاوری دوست تو اس قدر نماز کے عادی تھے کہ اکثر بزمِ رنداں میں بیٹھے ہوئے اذان سن لیتے تو گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہتے،’’میں نماز پڑھ لوں‘‘۔ افغانستان میں انقلابِ ثور کے بعد پاکستان میں سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق فوجی حکومت مذہبی ماحول بنانے میں لگ گئی۔جماعت اسلامی اور بعض مذہبی جماعتوں کے وہ دھڑے جو جنرل ضیاء کے حامی تھے انہوں نے عجیب سماں باندھ رکھا تھا۔تبلیغی جماعت کو بھی جنرل ضیاٗ کے دور میں دوام ملا۔ سوادِ اعظم کہلانے والے صوفی سنی بریلوی مکتبِ فکر نے ان کے مقابلہ میں دو کانفرنسیں کیں۔ایک رائے ونڈ میں اور دوسری ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے سٹیڈیم میں۔ ہر دو جگہ مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر سنی علماء نے جنرل ضیاء الحق پر الزام لگایا کہ وہ دیوبندی فرقہ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ رائے ونڈ میں جو سوادِ اعظم سنی کانفرنس ہوئی تھی اس کی دو خاص باتیں تھیں۔ اولاََ یہ کہ کانفرنس میں شریک ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ایک قرارداد کے ذریعے رائے ونڈ کا نام صدیق آباد (خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نام پر) رکھنے کا مطالبہ کیا۔ اور دوسرا مطالبہ سکولوں اور کالجوں میں اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ کی تقرری کے وقت سوادِ اعظم کی اکثریت کو مدِ نظر رکھنے کا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی نام نہاد اسلامی حکومت نے سوادِ اعظم سنی کانفرنس رائے ونڈ اور ملتان میں کئے جانے والے مطالبات تو تسلیم نہ کئے البتہ جمعیت علمائے اسلام کے بطن سے حاجی حنیف طیب کی قیادت میں نظامِ مصطفیٰ پارٹی ضرور تخلیق کروا لی۔ حاجی حنیف طیب کچھ عرصہ وفاقی وزیر مذہبی امور بھی رہے۔
مارشل لاء حکومت نے تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں یونینوں کے قیام پر پابندی لگا دی۔ مگر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلباٗ کی سرپرستی بھرپور طریقہ سے کی گئی۔ جمعیت نے پشاور سے کراچی تک تعلیمی اداروں میں اسلام کے نام پر خوب ادھم مچایا۔ مخالف طلباء تنظیموں پر تشدد جمعیت کا روز مرہ کا معمول بن چکا تھا۔ ضیاء الحق کے اسلامی انصاف کا یہ عالم تھا کہ تشدد جمعیت کے کارکن کرتے مگر مقدمات این ایس ایف، پی ایس ایف، ایس پی ایس ایف، سندھ پیپلزسٹوڈنٹ فیڈریشن، انجمن طلباء اسلام وغیرہ کے کارکنوں کے خلاف درج ہوتے تھے اور وہی تھانوں میں پولیس کی چھترول وغیرہ کے حق دار ٹھہرتے ۔ ہم ایسے کچھ نوجوان دوست ضیاء الحق کے مارشل لاء کو سندھ پر محمد بن قاسم اور ملتان میں محمود غزنوی کے حملوں سے تشبیہ دیتے ۔ یہ کچھ غلط بات بھی نہ تھی۔ مارشل لاء حکومت کا اپنے مخالفین سے رویہ بالکل ویسا تھا جیسا محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کا سندھ اور ملتان پر حملہ کرتے وقت اور قبضہ کرنے کے بعد تھا۔ محمد بن قاسم اس کے کمانڈروں اور فوجی اہلکاروں کا طرزِ عمل تو سمجھ میں آتا تھا انہیں اسلامی فتوحات کے نام پر جہاد کرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ لیکن محمود غزنوی نے جب ملتان پر چند مولویوں کی درخواست پر حملہ کیا تو ملتان میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ اسماعیلی عقیدے والے مسلمان حکمران خاندان کے خلاف محمود غزنوی کو خط لکھنے والے غدارِ وطن مولویوں نے اسے قرامطہ کی حکومت لکھا کہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب غزنوی کا خونخوار لشکر ملتان پر قابض ہوا تو اس نے ملتان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
سکھر میں مجھ سمیت چند دیگر طالب علم رہنماؤں کے خلاف جو ایف آئی آر درج تھی وہ اصل میں گورنمنٹ کالج سکھر میں سندھ نیشنل پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہ سیمینار میں کی گئی تقاریر کی بنیاد پر درج ہوئی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ سیمینار کا موضوع ’’سندھ دھرتی کو درپیش چیلنجز‘‘ تھا۔ اس سیمینار میں میری شرکت اور تقریر کی وجہ میرا دوست محمد پرئیل تھا۔اسی کے کہنے پر سیاف والوں نے مجھے دعوت دی تھی۔ سیمینار سے خطاب کرنے والے مقررین کا مجھ سمیت دو باتوں پر اتفاق تھا ۔ ایک تو یہ کہ ضیاء الحق کا مارشل لاء سندھ پر محمد بن قاسم کے حملے کی طرح کا اقدام ہے اور دوسرا یہ کہ فوجی حکومت فوج کے پنجابی افسروں کو خصوصی طور پر سندھ میں زمینیں الاٹ کر رہی تھی۔ اور وہ سندھ میں ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے سندھی ریڈ انڈین بن جائیں۔ سکھر میں درج اسی مقدمہ میں گرفتاری بھی ڈال لی گئی تھی۔ پچھلی قسط میں لکھ چکا ہوں کہ سکھر سے آنے والے سرکاری اہلکار کے لائے ہوئے کاغذات پر مجھ سے دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے۔ مارشل لاء کے ضابطوں کے تحت یہ بھی بغاوت کا ایک مقدمہ تھا البتہ اس مقدمہ کی اہم بات یہ تھی کہ مجھ پر یہ الزام تھا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ عربوں نے اسلام کا نام استعمال کر کے سندھ کی تہذیب کو برباد کرنے اور دولت لوٹنے کے لئے حملہ کیا تھا۔ ذاتی طور پر میری آج بھی یہی رائے ہے۔ لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس طرح کی بات کہنا یا لکھنا تو ایسے تھا کہ آپ نے اللہ معاف کرے اسلام کے بنیادی عقائد پر حملہ کر دیا ہے۔ ملتان اور پھر شاہی قلعہ لاہور میں مجھے فوجی افسروں کی جس خصوصی نفرت کا سامنا کرنا پڑا اس کی ایک بڑی وجہ تو یہی سکھر والی تقریر تھی۔ اور دوسرا جنرل ضیاء الحق کے حکم پر سرکاری دفاتر میں نمازباجماعت کی ادائیگی کے انتظامات پر میرا کہنا تھا کہ نماز کی نیت تبدیل ہو چکی ہے۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
948
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔نوویں قسط
Previous
Next

One commentcomments

  1. سید زادہ آپ کی آپ بیتی پڑھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ کتنے کٹھن حالات تھے اس مردِمنافق کے مظالم کا اس سے احتساب یقینناً بارگاہِ الہی ہی میں ہوگا آپ کے عزم و استقلال کو سلام ہے
    باقی شدت سے آپ کی تحریر کی اقساط کا انتظار رہتا ہے,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: