Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندان کی چیخ ۔اٹھارویں قسط

by جولائی 14, 2016 تاریخ
زندان کی چیخ ۔اٹھارویں قسط
Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhگرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر فلک شیر اعوان ویسے کسی سرکاری خفیہ ایجنسی میں افسری کی بجائے اگر فلموں میں اداکاری کرتا تو بڑا نام کماتا۔ کمال کا اداکار تھا۔ ایک ہی وقت میں ہیرو،ولن اور کریکٹر ایکٹر کارول ایسے ادا کرتا تھا کہ بندہ دنگ رہ جاتا۔ اس دن بھی کوٹھڑی سے باہر رکھی کرسی پر بیٹھتے ہی کمال محبت اور شفقت سے بولا،’’مجھے تمہاری حالت پر دلی افسوس ہے۔ کتنے اچھے، نیک اور مذہبی خاندان کے نوجوان ہو۔ بڑے بڑے علماء کرام کا تمہارے خاندان سے تعلق ہے اور بہت سارے نامور علماء ان کے شاگرد ہیں۔ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے۔ انسان کو قدر کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی۔ غور کرنا اگر تم اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔یہ جو تمہارے دوست نواز بٹ اور دوسرے وہ سب سوویت یونین کے ایجنٹ ہیں۔ سوویت یونین، بھارت اور اسرائیل تینوں مل کر اسلام کے قلعہ پاکستان کے خلاف ہر وقت سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ نوجوان آسانی سے شکار ہو تے ہیں۔ خصوصاََ تم جیسے جن کا تعلق سخت گیر مذہبی خاندانوں سے ہوتا ہے۔ چیف صاحب (اس سے مراد جنرل ضیاء الحق تھا) نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر پاکستان کو دو عذابوں سے محفوظ کر لیا۔ایک خانہ جنگی سے جو پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے سیاسی تصادم سے پیدا ہوتی اور دوسرا پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے اس ایجنڈے کو جو بھٹو کا اصل پروگرام تھا‘‘ مجھے یاد ہے کہ اس بھاشن کے بعد میں نے کہا تھا،’’ملک صاحب! مگر بھٹو نے تو قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا، شراب خانوں پر پابندی لگائی‘‘۔ ’’شاہ جی! تمہیں نہیں پتہ۔ بھٹو صرف نام کا مسلمان ہے۔ ماں تو اس کی ہندو ہے۔ ہندوؤں کے طریقے سے پرورش ہوئی اس کی‘‘۔’’لیکن بھٹو صاحب کی والدہ تو مسلمان تھیں‘‘، میں نے کہا۔’’وہ بھی سازش تھی۔ یہودی اور ہندو اپنی لڑکیوں کو جعلی مسلمان بنا کر مسلمانوں کے بڑے بڑے خاندانوں میں داخل کرتے ہیں تاکہ ان کی دولت اور وسائل سے کام لے سکیں۔ سکھر سے جو تمہاری فائل اور ایف آئی آریں آئی ہیں۔ وہ بھی میں نے پڑھی ہیں‘‘، فلک شیراعوان نے کہا’’کیسے کر لیتے ہو تم اس طرح کی کافرانہ باتیں۔ محمد بن قاسم اور اس کا لشکرِ اسلام سندھ پر حملہ نہ کرتا تو قیامت 13 سو سال پہلے ہی آجاتی‘‘۔ حیرانی سے میں نے پوچھا،’’وہ کیوں‘‘؟اعوان بولا ’’راجہ داہر نے اپنی بہن سے شادی کی تھی۔ اس کی دیکھا دیکھی سندھ میں لوگ بہنوں سے شادیاں کرنے لگے تھے‘‘۔ دوستانہ ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے کہا’’مگر سندھ کی تاریخ کی مستند ترین کتاب ’’چچ نامہ‘‘ میں تو سارے واقعات اس کے برعکس ہیں‘‘۔ اعوان نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا،’’اصل کتاب تو عربی میں ہے۔ ترجمے کرنے والے ہندوؤں کے ایجنٹوں نے واقعات ہذف کر دئیے ‘‘۔
’’دیکھو شاہ جی! ابھی تم بیمار ہو۔ ساری عمر بیمار تو نہیں رہو گے۔ دس پندرہ دن یا مہینہ لگے گاتمہیں تندرست ہونے میں۔ تفتیش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس بار تفتیشی افسر میری جگہ کوئی اور ہو۔ میجر صاحب نے بھی کہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ سید ہونے کی وجہ سے رعائیت کر رہا ہوں۔ ابھی تو کسی نے اس میجر کی بات پر توجہ نہیں دی۔ لیکن اگر یہ بات افسروں کے ذہن میں آگئی کہ اعوان، سادات کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو لازمی طور پر تفتیشی افسر تبدیل ہو گا۔ نیا افسر اور اس کا عملہ خدا جانے تم سے کیا سلوک کرے۔ بڑے بے رحم لوگ ہیں یہ (جیسے خود تو وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی سنت پر عمل پیرا تھا)۔ مجھے تم چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو۔کچھ تندرست ہو جاؤ تو میں خود تمہیں کرنل لغاری کے پاس پیش کر کے کہوں گا تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے اور تم اعترافی بیان دینا چاہتے ہو۔ شاہ اگر تم میری بات مان لو تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے‘‘۔ کرسی سے اٹھتے ہوئے وہ دوبارہ بولا، ’’تمہارے پاس تندرست ہونے تک کا وقت ہے۔ اسے ضائع نہ کرو۔ ٹھنڈے دل سے میرے مشورے پر غور کرنا اور باقی مجھ پر چھوڑ دینا میں سنبھال لوں گا‘‘۔ اعوان چلا گیا تو میں حیرانی کے ساتھ سوچنے لگا یہ مجھے کونسی تاریخ پڑھا رہا تھا۔ آخر کیوں چاہتا ہے وہ کہ میں اعترافی بیان دے دوں۔ کس چیز کا اعتراف کروں؟ میں نے کون سا جرم کیا ہے؟ کسی فوجی حکومت کی مخالفت حکومت کے نزدیک جرم ہو گی مگر یہ غداری کیسے ہوئی؟ اعوان کی سنائی تاریخِ سندھ پر بھی مجھے حیرانی کے ساتھ ساتھ افسوس ہو رہا تھا۔ خود کو حضرت عباس علمدارؑ کی اولاد کہنے والے کو یہ ہی علم نہیں کہ محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ سے قبل آلِ بنو فاطمہؑ کے بہت سارے خاندان اور ان کے کچھ حامی سندھ میں پناہ لے چکے تھے۔ راجہ داہرنے اموی خلافت کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے عرب سے آئے ہوئے سید گھرانوں اور دوسرے لوگوں کو بڑی تکریم دی۔ انہیں اپنی مملکت میں قیام کرنے کی ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن قاسم کے لشکر کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا بھی راجہ داہر کی فوج میں شامل عربی پناہ گزینوں کے دستے سے کرنا پڑا۔ بہن سے شادی کی بات بھی تاریخی طور پر ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔ اس قسم کی لایعنی باتیں گھڑنے اور پھیلانے میں اموی لشکر کے خبر گزاروں کا بہت ہاتھ تھا جو روزانہ سندھ سے خلیفہ کو رپورٹ بھیجتے تھے۔ تیسری بات جو نومسلم ہندی مسلمان مصنفوں نے گھڑی کہ راجہ داہر کی فوج نے کچھ مسلمانوں کو جن میں عورتیں بھی شامل تھیں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا تھا اور ان عورتوں کی فریادپر حجاج بن یوسف نے خلیفۂ وقت کو آمادہ کر کے سندھ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہ بھی صریحاََ غلط بات تھی۔ ’’چچ نامہ‘‘ اور دوسری کتبِ تواریخ اس مفروضے کی تائید نہیں کرتیں۔ حجاج بن یوسف نے اموی مملکت کی حدود سندھ کے زرخیز میدانوں تک بڑھانے کا منصوبہ پیش کیا۔ دربارِ خلافت میں اس پر بحث ہوئی اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے خلیفہ وقت نے اس منصوبے کو پسند نہ کیا۔ اس پر حجاج بن یوسف نے کہا کہ میں تحریری ضمانت دیتا ہوں کہ سندھ پر حملے کے لئے جتنے اخراجات ہوں گے بیت المال میں اس سے کم از کم پانچ سو گنا زیادہ سرمایہ واپس جمع کروایا جائے گا۔ حجاج کی اس یقین دہانی اور وعدے کی وجہ وہ رپورٹیں تھیں جو اموی مملکت سے فرار ہو کر سندھ میں پناہ لینے والے چند سادات خاندانوں اور ان کے حامیوں کا پیچھا کرتے ہوئے سندھ سے واپس آنے والے جاسوسوں نے مرتب کی تھیں۔ ان جاسوسوں کا کہنا تھا کہ اگر سندھ پر قبضہ ہو جائے تو بیت المال میں اتنا خزانہ جمع ہوجائے گا کہ اگلے کئی سالوں کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔
سندھ اور ہندوستان (یاد رہے کہ محمد بن قاسم کے حملے کے وقت سندھ اور ہندو دو الگ ریاستیں تھیں) کے نو مسلم مؤرخوں نے اپنے عرب مسلمان آقاؤں سے رشتے جوڑنے اور وفاداری میں اپنی ہی تاریخ کو مسخ کرنے میں جو گھناؤنا کردار ادا کیا اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مفتوحہ خطے میں نہیں ملتی۔ مصری ہوں یا ایرانی یا پھر افریقی ،مسلمانوں نے جہاں بھی قبضہ کیا وہاں کے لوگوں نے نیا مذہب ضرور قبول کیا لیکن رہے زمین زادے ہی۔ اپنی تاریخ سے کٹنے کا سنگین جرم ان سے سرزد نہیں ہوا۔ یہ سعادت ہندوسندھ کے حصے میں ہی آئی کہ کالی داس عبدالرحمان بنا تو اس نے اپنی زمین اور تاریخ سے سارے رشتے توڑے ہی نہیں بلکہ بے رحمی کے ساتھ روندے۔ کہیں کہیں تو لوگوں نے ذات، برادری اور قبیلے تک بدل دیئے۔ ایک دو نہیں ہزاروں مثالیں ہیں زندہ و موجود مگر انہیں یہاں دہرانے کا کوئی فائدہ اس لئے نہیں کہ جس موضوع پر لکھ رہا ہوں وہ ایک خاص دور اور خاص واقع کے حوالے سے ہے۔ زندگی نے وفا کی تو مکمل آب بیتی لکھتے وقت اس بارے بھی تفصیل کے ساتھ معروضات پیش کروں گا۔ مجھے اعوان کی طرف سے بھٹو صاحب کی والدہ مرحومہ بارے نازیبا الفاظ اور اس کے پیش کردہ ڈھکوسلے پر بہت دکھ تھا۔ کاش میں اس وقت مجبورقیدی نا ہوتا۔ پھریقیناََ اپنی بساط کے مطابق جواب دیتا نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلتا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس جنرل ضیاء الحق کے دادا کے نام سے پاکستان والے آگاہ نہیں تھی یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کون تھا اس نے فوج کی طاقت سے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر کے تاریخ کو مرضی کا رنگ دینا شروع کر دیا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
948
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔تیسویں قسط
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: