Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندان کی چیخ ۔چودہویں قسط

زندان کی چیخ ۔چودہویں قسط
Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhسیاسی قیدی ہوں یا عام قیدی ان کے حقوق بہرطور ہوتے ہیں۔مگر یہ دونوں حقوق ملتے ان ممالک میں ہیں جن کے بارے میں بات بات پر ہمارے ہاں بہت سارے لوگ منہ بنا کر کہتے ہیں’’چھڈو جی۔ انہاں ملکاں دے بندے تے ساری عمر اپنے پیو لبھدے رہندے نیں‘‘(چھوڑیں جی ان ملکوں کے لوگ تو ساری عمر اپنا باپ تلاش کرتے رہتے ہیں) کیسی عجیب بات ہے کہ جو عمر بھر اپنا باپ تلاش کرتے رہتے ہیں وہ قیدیوں بلکہ جانوروں تک کے حقوق کا احترام ہی نہیں کرتے بلکہ ان حقوق کی فراہمی کو ریاست کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔یہاں ہمارے ملک میں کسی کو باپ تلاش کرنے کی زحمت نہیں کرنا پڑتی لیکن دوسرے کے مذہبی ، سیاسی، اور سماجی حقوق کا احترام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔سائیکل والا پیدل چلنے والے کو، موٹر سائیکل والا سائیکل والے کو، کار والا موٹر سائیکل والے کو اور لگثری گاڑی والا چھوٹی موٹی کار چلانے والے کے پاس سے گزرتے ہوئے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہے۔یہی انفرادی رویہ اجتماعی مرضی ہے اور اس بیماری سے کوئی محفوظ نہیں۔ ایک بیمار معاشرے میں کیسے حقوق اور کس کے حقوق؟ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کو اس لئے تقسیم کروانا پڑا کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہوگا۔ وہاں انصاف کا دریابہے گا۔ لیکن پاکستان بنا تو وہی غلام ابنِ غلام پشتنی وفادار خاندان اقتدار واختیار کے مالک ہوئے۔ آج اگر ہم بٹوارے سے لے کر اب تک کی صورتحال کا تجزئیہ کریں تو فقط ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان بن جانے پر بھی مسلمانوں کے عام طبقات کو کچھ نہیں ملا۔ بالادستوں کے مزے رہے۔ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں انہی کا تھا انہی کا ہے۔کچھ نودولتئیے، ابھرے، جرنیل شاہی کی بدمستیاں اور مذہبی طبقے کی بالادستی،سماج کے عام طبقات کی حالت وہی پرانی ہے۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود بہرطور سماج کے نچلے اور درمیانے طبقوں سے حریت فکر کے پروانے اپنے علم جمہوریت لے کر ہر دور میں میدان میں اترے اور ان فرزندانِ زمین نے اپنا آج اپنے ہم وطنوں کے کل پر قربان کیا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جن کے مستقبل کے لئے دیوانوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈالی وہ بالادست طبقات کی غلامی کا طوق اور فوجی آمروں کی پاپوش برداری سے نجات حاصل کرنے کی بجائے اسی کو زندگی سمجھتے رہے۔5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو انتخابی دھاندلیوں کا رونا روتے ہوئے(بجا کہ 1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی) لیکن بعد ازاں پی پی پی اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کی میز پر قومی اسمبلی کے محض 38 سے 40 حلقوں میں ضمنی انتخابات کروانے اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے دوبارہ انتخابات کروانے پر اتفاقِ رائے ہو گیا تھا۔تحریک چلانے والے جو اپنی احتجاجی تحریک کے دروان ملک میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کو منزل قرار دیتے تھے جنرل ضیاء الحق کی گود میں جا بیٹھے۔ضیاء الحق نے پہلے تو اکتوبر 1977ء میں عام انتخابات کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں توصرف ریفری ہوں انتخابی دنگل کے اختتام پر فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی۔ اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپ دیا جائے گا۔مارشل لأ کو محض 90 دن کا انتظام کہنے والے ضیاء الحق اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ نے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کو دفن کر دیا ہے۔ مگر بھٹو جیسے ہی مارشل لأ حکام کی محدود نظربندی کے خاتمے پر عوام کے درمیان گئے جرنیلوں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ لاہور کے ناصر باغ میں ذوالفقار علی بھٹو کے جلسہ عام میں عوام کی بھرپور شرکت جہاں مارشل لأ کے نفاذ پر عدام اعتماد کا مظاہرہ تھا وہیں اس جلسے نے پی این اے کے راہنماؤں کی چارپائیاں الٹوا دیں۔
بھٹو سے عوام دوستی کے اس مظاہرے پر سب سے پہلے پیر پگارا کی مسلم لیگ کے رہنما چودھری ظہور الٰہی نے جنرل ضیاء الحق کے چرن چھوئے اور پھر ضیاء الحق کے دربار میں سجدہ ریز ہو نے والوں میں دوڑ لگ گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے اکتوبر 1977ء کے عام انتخابات ملتوی کر دئیے۔ کوئی لاکھ انکار کرے مگر تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ انتخابات کے التواء اور مارشل لاء کی طوالت کی ذمہ داری بہرطور پی این اے پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد نے ’’ملک کے وسیع تر مفاد ‘‘ میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو فقط ایک سیاستدان سردار شہربار مزاری نے اخلاقی جرأت کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ سردار شہرباز مزاری نیشنل عوام پارٹی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت لگنے والی پابندی کے نتیجہ میں بننے والی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے سربراہ بنے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن حاکم علی زرداری اپنی پارٹی سے مستعفی ہو کر این ڈی پی میں شامل ہوئے اور این ڈی پی سندھ کے چیف آرگنائزر مقرر کیے گئے۔جنرل ضیاء الحق کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا فارمولا طے ہوا تو ہمارے محبوب بزرگ رہنما اور بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی پارٹی کو بھی وفاق میں دو وزارتیں مل گئیں۔
5 جولائی1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو 7 جولائی کو پی این اے والوں نے یومِ نجات منایا۔ جماعتِ اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک بھر میں لٹھ بردار جلوس نکالے اور جلوسوں کے راستے میں آنے والی ان دکانوں کو نقصان پہنچایا جن کے مالکان کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔ جماعت اور جمعیت کے لٹھ بردار جلوس فوجی حکومت کے غنڈوں کا کردارادا کرتے پھرے مگر قانون حرکت میں نہ آیا۔ 6 جولائی کو ہی ملک بھر میں حلوے کی دیگیں تقسیم ہوئیں۔ پی این اے کے لیڈر بھی بھٹو صاحب کی طرح فاظتی تحویل میں تھے مگر ان لیڈروں سے ان کے ٹو ڈی اخبار نویسوں کو ملنے کی پوری آزادی تھی۔ مارشل لاء اور سنسر شپ کے باوجود ان لیڈروں کے بیانات اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ پی این اے کے ایک رہنما ائیر مارشل (ر) اصغر خان قومی اتحاد کی انتخابی مہم اور پھر احتجاجی تحریک کے دوران بھٹو کو ’’چوہا‘‘ کہہ کر پکارتے اور پاکستان کو مظفرآباد آزاد کشمیر سے ملانے والے کوہالہ پل پر پھانسی دینے کا اعلان کیا کرتے تھے۔ اصغر خان نے ہی مسلح افواج کے سربراہوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے اور بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے خط لکھا تھا۔ اس خط کے تائید کنندگان میں بیگم نسیم ولی خان، سردار عبدالقیوم خان اور پیر پگارا شامل تھے۔نوابزادہ نصر اللہ خان فوج کو خط لکھنے اور مارشل لاء لگانے کے مخالف تھے مگر اصغر خان ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ وہ نجی محفلوں میں پورے یقین کے ساتھ کہا کرتے تھے ۔میری امریکی سفیر اور شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی سے بات ہو گئی ہے۔ امریکہ کو میرے وزیرِ اعظم بننے پر کوئی اعتراض نہیں۔اکتوبر 1977ء کے انتخابات کے التوأ کی ایک اور مضبوط وجہ حیدرآباد سازش کیس کے خاتمے پر رہا ہونے والے کالعدم نیپ کے سربراہ خان عبدالولی خان کا یہ مؤقف بھی تھا کہ مارشل لاء حکام پہلے بھٹو اور اس کے ساتھیوں کا احتساب کرے اور پھر ملک میں انتخابات کروائے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پی این اے والے بھٹو حکومت کے خاتمے کے باوجود بھٹو سے خوفزدہ تھے۔ قومی اتحاد کے رہنما اپنی سیاسی حیثیت سے تو آگاہ تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں ضیاء الحق بعض عالمی طاقتوں اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے دباؤ میں آ کر انتخابات نہ کروا دیں۔ اسی لئے اصغر خان اور چند دوسرے بھٹو مخالف رہنما ایک شام ضیاء الحق کے الیکشن کمیشن کے سربراہ جنرل فیض علی چشتی سے ملتے اور اگلی صبح وہ امریکی سفیر کے دربار میں حاضر ہوتے۔ جہاں انہیں حقِ خدمت ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی جاتی اور امریکی سفیر تسلیاں دیتے کہ بھٹو دوبارہ اقتدار میں نہیں آسکتے۔اس کے باوجود ان لیڈروں کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ آسان اور سادہ لفظوں میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اصغر خان، پیر پگارا، میاں طفیل محمداور بیگم نسیم ولی خان ذوالفقار علی بھٹو کے خون کے پیاسے تھے۔ بھٹو کے خون کے ان چار پیاسوں نے جمہوری روایات کو جس طرح پامال کیا اور جس طرح ضیاء الحق کو یہ باور کروایا کہ بھٹو کی سیاسی زندگی پی این اے اور ماررشل لاء لگانے والے جرنیلوں کی جسمانی موت ثابت ہوگی وہ اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے۔جنرل ضیاء الحق نے بھی اقتدار کے بھوکے پاکستان قومی اتحاد کو اپنے مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا۔ جماعتِ اسلامی سے ان کی الفت دیدنی تھی۔ اس الفت اور ضیاء الحق و جماعتِ اسلامی کے میاں طفیل محمد دونوں کے آرائیں اور جالندھری مہاجر ہونے کی وجہ سے عام لوگ انہیں ماموں بھانجا سمجھتے تھے۔ دونوں نے کبھی اس رشتے کی تردید بھی نہیں کی حالانکہ میاں طفیل محمد جنرل ضیاء الحق کے نہیں ان کی اہلیہ کے دورپار کے عزیز تھے۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1256
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔چوبیسویں قسط
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: