زندان کی چیخ ۔بارہویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhشام تک شدید بخار نے آن دبوچا تھا۔ دال روٹی قریب ہی پڑی تھی۔ کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ جسم میں درد اس قدر تھا کہ برداشت سے باہر لیکن یہاں آہو وفغاں سننے اور نخرے اٹھانے والا کون تھا۔ جسم جونہی بخار کی حدت سے تپا سردی کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔ ایک کمبل بہت کم بلکہ یوں لگ رہا تھا کہ کچھ نہیں اوڑھا ہوا۔ بڑی مشکل سے گھسٹ گھسٹ کر کوٹھڑی کے دروازے تک پہنچا اور اسے بجانے لگا۔ کچھ دیر بعد گارڈ نے روزن دان کھول کر دریافت کیا،’’شاہ کی گل اے‘‘؟ ’’کسی کو بلاؤ میری حالت بہت خراب ہے‘‘ میں نے اس سے کہا۔ کوئی جواب دئیے بغیر اس نے روزن دان بند کردیا۔ بہت دیرکے بعد مجھے احساس ہوا جیسے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ دروازہ کھل ہی گیا۔ اکرم اور رفیق نامی اہلکاروں کے ساتھ ایک تو وہی ڈاکٹر تھا جو دیکھنے میں ڈاکٹر کم اور چھابڑی والا زیادہ دکھتا تھا۔ ایک آدمی اور تھا۔ کون تھا یہ معلوم نہ ہوا لیکن جس طرح وہ تینوں اس کی تابعداری کر رہے تھے لگتا تھا کہ قلعہ کے افسرانِ اعلیٰ میں ایک ہے یا خاص کارندہ۔ طبی معائنہ ہو چکا تو ڈاکٹر نے کہااسے 104 بخار ہے۔ پھر اس نے مجھے پوچھا کہ کھانا کیوں نہیں کھایاجواب دیا’’دل نہیں چاہ رہا‘‘۔ کہنے لگا’’دل کے چاہنے یا نہ چاہنے پر چلنے کی اجازت نہیں ۔ یہ جیل ہے اور وہ بھی شاہی قلعہ کی جیل۔ کھانا نہ کھانے کا مطلب بھوک ہڑتال ہے اور وہ زیادہ سنگین جرم ہے‘‘۔’’ بھوک ہڑتال کی ہی نہیں تو جرم کیسا‘‘؟ اس نے کوٹھڑی کے باہر کھڑے افسر کو مخاطب کر کے کہا ’’اسے انجکشن لگا دیتا ہوں مگر اس نے کھانا نہیں کھایا ہوا۔ خالی پیٹ ہے‘‘۔ ’’سنو مسٹر! جلدی سے کھانا کھا لو۔ پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر تمہیں انجکشن لگانے آئے گا‘‘۔ اس کی بات ختم ہوئی تو ڈاکٹر اور دونوں اہلکار کوٹھڑی سے باہر نکل گئے۔ دروازہ بند ہوا اور تالہ لگ گیا۔ کتنی بے بسی تھی۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھنا بھی بہت مشکل تھا۔ مگر یہاں اماں جان تو تھیں نہیں جو لقمے بنا کر کھلا تیں۔ اور ان کا مریض بیٹا کھا لیتا۔اماں جان کیا یاد آئیں آنکھیں ٹپ ٹپ بہنے لگیں۔ بچپن میں کبھی ایک بار مجھے شدید بخار ہوا تھا۔ دو تین دن تک والدہ محترمہ مجھے چمچ سے دلیہ کھلاتی رہیں۔ پھر ایک دن انہوں نے روٹی شوربے میں بھگو کر چوری بنائی اور مجھے کھلاتے ہوئے درود شریف پڑھتی جاتیں اور ہر لقمے کے بعد میرے چہرے اور جسم پر پھونک دیتیں۔
شاہی قلعہ کے اذیت بھرے ماحول اور اپنی بے بسی نے بائیس سالہ نوجوان قیدی کو سترہ اٹھارہ سال پیچھے لا کھڑا کیا۔ ایسا لگا جیسے امی جان کی آواز کانوں میں پڑ رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں جاوید میرے بیٹے کھانا کھا لو۔ میرے جسم میں ایک دم توانائی بھر سی گئی۔ روٹی اوردال اٹھاکر قریب کی اور آہستہ آہستہ کھانے لگا۔ کھانا کھاتے ہوئے مجھے والد بہت یاد آئے۔ شفیق انسان تھے۔ محبت کرنے والے مگر سخت گیر بھی بہت۔ بدقسمتی سے میری ان (اپنے والد) سے زندگی بھر نہ بن پائی۔ وہ خالص مذہبی انسان تھے، یا پھر فوج میں رہنے کی وجہ سے ایک خاص ڈسپلن کے عادی جو ہمیں (ان کی اولاد کو) سخت گیری محسوس ہوتی تھی۔ میری ان سے نہ بن پانے کی وجہ ایک تومیرا جماعتِ اسلامی مخالف ہوناتھا اوردوسرا میرے نظریات۔ جو ظاہر ہے ان کے نزدیک فقط باغیانہ نہیں بلکہ اس سے بھی آگے کی چیز تھے۔ والدین کو یاد کرتا اور کھانا کھاتا رہا۔ ان کی محبت بھری یادوں میں کھانا ختم ہو گیا۔ آج بھی حیران ہوتا ہوں کہ کیسے کھانا کھا لیا تھا حالانکہ لقمہ چبانے میں تکلیف ہوتی تھی اور نگلنے میں اس سے بھی زیادہ۔ جب کبھی اس شام کے کھانے کی یاد آتی ہے تو میری آنکھیں اپنے محبوب والدین کی محبت میں بھر آتی ہیں۔ کھانا ختم ہوا اور کچھ ہی دیر میں وہ ڈاکٹرانہی دواہلکاروں کے ساتھ آگیا۔ اس نے مجھے انجکشن لگایا۔اورچند گولیاں یہ کہتے ہوئے دیں کہ ’’یہ تین خوارکیں ہیں۔ ایک ابھی کھا لوایک صبح اور پھر دوپہر کو کھا لینا۔ کلی تمہاری پٹیاں کریں گے تو دیکھیں گے دوایاں اور دینی ہیں یا صرف انجکشن سے کام چل جائے گا‘‘ اکرم نامی اہلکار نے ڈاکٹر کو کچھ اشارہ کیا تو اس نے میرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گولیاں واپس لے کر ان میں سے ایک خوراک مجھے دے دی اوردو خوراکیں واپس رکھ لیں۔ وہ کوٹھڑی سے باہر نکل گئے۔ دروازہ بند ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں کوٹھڑی کا دروازہ دوبارہ کھلا۔ایک اہلکار نے ایک اور کمبل میری طرف پھینکتے ہوئے کہا ’’اگرطبیعت زیادہ خراب ہو تو گارڈ کو بتا نا اس کے پاس تمہاری دوائی موجود ہے۔ وہ دے دے گا‘‘ تب بات میری سمجھ میں آئی کہ انہوں نے مجھ سے باقی گولیاں (ادویات) واپس کیوں لیں۔ غالباََ وہ سوچتے ہوں گے کہ میں ساری گولیاں ، ایک خوراک میں پانچ یا چھ گولیاں تھیں، اکٹھی کھا کر خودکشی نہ کر لوں۔ یہ خیال آتے ہی مجھے ہنسی سی آگئی۔ میں بھلا خودکشی کیوں کروں گا۔ ساتھ ہی مجھے خیال آیا جتنا تشدد آج ہوا تھا اس کے بعد بھی زندہ ہوں تو خود سے مرنے کا کیوں سوچوں؟ اہلکار نے جو دوسراکمبل مجھے دیا تھااسے بھی میں نے اپنے اوپر ڈال لیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر کی دی ہوئی گولیاں بھی پانی کے ساتھ کھا لیں۔ شاہی قلعہ کی اس کوٹھڑی میں پانی بہت کم پیتا تھا۔ وجہ یہی کہ تھی کہ ’’پاٹ‘‘ کوٹھڑی کے اندر ہی رکھا تھا اس لئے کم سے کم پانی پیتا تاکہ پاٹ کم سے کم استعمال ہواور اس سے چھوٹی سی کوٹھڑی میں بدبو نہ پھیلنے پائے۔ انجکشن اور گولیوں کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ مجھے معلوم تھا لیٹنے میں کتنی مشکل پیش آئے گی۔ سیدھا اس لئے نہیں لیٹ سکتا تھا کہ ایک تو میری گردن میں زخم تھا دوئم ان وحشیوں نے مجھے جس قدر مارا تھا اس کے اثرات موجود تھے۔ یہاں سے سہارا دے کر اٹھانے لیٹانے کے لئے ماں باپ، بہن بھائی یا دوست تو تھے نہیں۔ تنہا آدمی کوخود ہی اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور دوست کا کردار ادا کرنا تھا۔ غنودگی کا دباؤ شدید ہونے لگاتو میں آہستہ آہستہ لیٹنے کی کوشش کرنے لگا۔ کافی جدوجہد اور مشکل سے کروٹ کے بل لیٹ ہی گیا۔ امی جان کا بتایا ہوا نسخہ آزمانے لگا اور نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ آنکھ اس وقت کھلی جب مجھے کسی نے جھنجوڑ کر اٹھایا۔ میں آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ پتہ چلا بھیا لانگری ناشتہ دینے آیا تھاتو اس کی آواز پر اٹھا نہیں تو اس نے رپورٹ کردی جس کی وجہ سے اہلکاروں کو آنا پڑا۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1237
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   10 فیصد بالادستوں کی غلامی سے نجات حاصل کیجئے – حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: