تاریخ پر لٹھ بازی کے شوقین

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedکراچی میں چند دن قبل منعقد ہونے والی لاتکفیر کانفرنس سے خطاب کرنے والے بعض مقررین کی زمین زادوں کی بجائے مخصوص اداروں سے وفاداری کے حوالے سے سوالات اٹھے اور اہم ترین سوال یہ تھا کہ کیا کانفرنس دہشت گردی کی مذمت کے لئے منعقد کی گئی ہے یا پچھلے کئی سال سے نجی ٹی وی چینلوں پر چیخ چیخ کر فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی دعوت دینے والے پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر سید فیصل رضا عابدی کی ’شخصیت سازی ‘کے لئے؟ لوگ ابھی اس سوال کا جواب تلاش کر ہی رہے تھے کہ ایک اور مقرر جبران ناصر کے اس مؤقف نے کہ ’’پاکستان میں جاری دہشت گردی کے ڈانڈے بنوامیہ اور بنوہاشم کے اختلافات سے ملتے ہیں‘‘ ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا۔ جبران ناصر کا مؤقف کن بنیادوں اور معلومات پر استوار ہے یہ وہی جانتے ہوں گے لیکن جس بات کو وہ مدِ نظر نہیں رکھ پائے وہ یہ ہے کہ تاریخ، تجزئیہ اور معروضی حالات تینوں مختلف چیزیں ہیں۔ ان کی بودی منطق کو اگر درست مان لیا جائے تو سادہ سا سوال یہ ہے کہ حضرت رحمان باباؒ ، حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ ، حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ اورحضرت بری امامؒ کے مزارات پر جو حملے ہوئے ان کا تعلق بنوامیہ اور بنو ہاشم کے اختلافات سے کیسے جوڑا جائے گا؟ دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلے پاکستان میں فتویٰ دینے والے دوعلمائے کرام مولانا حسن جان شہید اور ڈاکٹر علامہ سرفراز نعیمی شہید کا ان اختلافات سے کیا تعلق؟ مولانا حسن جان دیوبندی مسلک کے بزرگ عالم دین اور شیخ الحدیث تھے۔ جبکہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی صوفی سنی بریلوی مسلک کے ممتاز سکالر اورمفتی۔ جوشِ خطابت میں تاریخ پر چڑھ دوڑنے والے جبران ناصر کیا ہم زمین زادوں کو یہ بتائیں گے کہ پشاور کے بانو بازار، آرمی پبلک سکول ،پشاور میں ہی ایک گرجا گھر پر حملوں کے تین واقعات میں جو سینکڑوں مردوزن اور معصوم بچے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ان کا ان کے پیش کردہ تصورِ اختلاف اور جنگ سے کیا تعلق تھا؟
ہم اگر ان کی بات ہی مان لیتے ہیں تو پھر (یاد رہے ہم پاکستان کی بات کر رہے ہیں) لشکرِ جھنگوی، جنداللہ، طالبان، لشکرِ جھنگوی العالمی، تحریکِ طالبان، جماعت الاحرار بنو امیہ کی قبائلی مہم کی نمائندہ تنظیمیں ہوئیں تو بنو ہاشم کی نمائندہ مسلح تنظیم کہاں ہے؟ معاف کیجیئے گا یہ بنو امیہ اور بنو ہاشم کے اختلافات سے پھوٹا تشدد اور دہشت گردی ہرگز نہیں۔ اس کے ڈانڈے افغانستان میں لڑی گئی سوویت امریکہ جنگ سے جا ملتے ہیں جب پاکستانی ریاست نے سرکاری طور پر ایک خاص عقیدے کے حاملین کے خود ساختہ جہادی نظریات کو جہاد اسلامی کے طور پر پروان چڑھایا۔ تاریخ و سیاست کے ہم ایسے سینکڑوں طلباء نے اس وقت بھی سوال اٹھایا تھا کہ ریاست جس قسم کی لشکر سازی کا دروازہ کھول رہی ہے یہ مستقبل میں پاکستان کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ یہی ہوا، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان افغانستان میں جنگ بندی اور سوویت یونین کے افغانستان سے انخلاء کے لئے جنیوا میں ہونے والے معاہدہ کے بعد جب پاکستانی جنگجو واپس آئے تو ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ اپنے عقیدۂ جہاد پر عمل کر کے پاکستان کو اپنے مسلک کی ریاست بنا سکتے ہیں۔ جنگجوؤں کی اکثریت کا تعلق چونکہ دیوبندی مسلک سے تھا سو انہوں نے مولوی حق نواز جھنگوی کی تکفیری جماعت، انجمن سپاہ صحابہ میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان تکفیری نظریات اور رویوں کو تقویت ان جنگجوؤں نے پہنچائی جنہیں ریاست اور سی آئی اے کے درمیان معاہدہ کے تحت پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاََ شمال و جنوبی وزیرستان میں بسایا گیا۔
افغانستان میں 1990ء کی دہائی میں جب طالبان برسرِ اقتدار آئے تو خالص دیوبندی فہم کے حامل طالبان نے افغانستان میں شیعہ مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ اپنے ہم عقیدہ افغان طالبان کی شیعہ نسل کشی کی مہم کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں انجمن سپاہ صحابہ اور دوسرے تکفیری عناصر نے عقیدے کی بالادستی اور ریاست پر قبضے کی جنگ کا آغاز کیا۔ چلیں مان لیا کہ شیعہ اس لئے دہشت گردی کا نشانہ بنے کہ وہ بنوہاشم یا عام معنوں میں آلِ فاطمہ ؑ کے ہمنوا تھے مگر عیسائیوں، احمدیوں اور ہندوؤں کو پھر کس جرم کی سزا دی گئی؟وہ کب اور کہاں بنو ہاشم یا آلِ فاطمہؑ کے اتحادی اور مددگار ہوئے؟ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف منظم ہوتی رائے عامہ کو ایک نئے نویلے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی حکمت عملی اپنانے والے ان قوتوں کے آلہ کار ہیں جو لشکر سازی، جہاد پروری اور اس جیسی دوسری خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حالات میں جب لوگ نیشنل ایکشن پلان کو تحفظِ تکفیریت پلان کہنے لگے ہیں چند نابالغوں کے ذریعے نئے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ کوئی بتلائے تو پچھلے چند ماہ کے دوران امریکہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ان کا بنو امیہ اور بنو ہاشم کے جھگڑے سے کیا تعلق؟ اگر داعش بنوامیہ کی نمائندہ ہے تو کیا تینوں ممالک میں مرنے والے عیسائی بنو ہاشم کے حلیف تھے؟
تاریخ اور زندہ عصری حقیقتوں سے کھلواڑ نہ کیجیئے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے طبقات اور دہشت گردوں کی شناخت کو گڈمڈ کرنے کا مشن جس نے بھی سونپا ہے اس کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کس مہارت کے ساتھ انسانیت کے قاتلوں اور مقتولین کے معاملے کو نیا رنگ دے کر ریاست کو اپنے فرائض کی عدم ادائیگی کی ذمہ داری کے الزام سے بری کروایا جارہا ہے۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ تکفیریت کو بطور اسلام پیش کرنے والے اور اپنے انسانیت دشمن منصوبوں کے لئے مقدس کتابوں سے سندِ جواز پیش کرتے اصل میں ان نرسریوں کی پیداورا ہیں جو پاکستانی ریاست نے خطے میں اپنی چودھراہٹ کے لئے قائم کی تھیں اور آپریشن ضربِ عضب میں بھی ریاست نے پسند و ناپسند کا خیال رکھا۔ جنگجوؤں کے ان گروپوں کے خلاف تو کاروائی کی گئی جو ریاست کے گلے پڑگئے لیکن عام لوگوں کو ان کی مذہبی شناخت پر قتل کرنے والی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔ آج بھی لشکرِ جھنگوی، جنداللہ وغیرہ کے دہشت گرد اور ان کے سرپرست دندناتے پھر رہے ہیں۔ لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز داعش کو اسلام کا حقیقی نمائندہ قرار دے رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ عشرہ بھر تک اس دہشت گردی کو میڈیا کا ایک حلقہ بدلے کی آگ کا نتیجہ قرار دیتا رہا اور اب اسے بنوامیہ اور بنو ہاشم کے اختلافات سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہاں بھی یہ عرض کر دوں کہ اس درفطنی کو چھوڑنے کا مقصد مظلوموں کی ہمنوائی نہیں بلکہ ظالموں کی پردہ پوشی ہے۔کم از کم مجھے ایسے لگتا ہے کہ دہشت گرد پالنے والے اداروں اور ان کے مددگاروں نے کمال مہارت کے ساتھ لاتکفیر کانفرنس کے نتائج کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ ہم سب اس کانفرنس سے جس اجماع کی توقع کر رہے وہ پورا نہیں ہوا البتہ نئی بحث کا دروازہ کھول دیا گیا۔اس پر ستم یہ کہ خود کو 80ہزار پاکستانی شہدا کا ترجمان قرار دینے والے فیصل رضا عابدی دہشت گردوں کے سرپرستوں کی وردیاں استری کرنے اور بوٹ پالش کرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ گلو کی غنڈہ گردی سے گلو کی اماں نجات نہیں دلواتی۔ مظلوم طبقات اپنے قاتلوں کے ریاستی و غیر ریاستی سرپرستوں کو بھول کر ایک نئی بحث میں الجھ جائیں۔ فیصل رضا عابدی اور جبران ناصر نے کمال مہارت کے ساتھ تکفیریت کے خلاف پاکستان کے عوام کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے میں کردار ادا کیا۔ کس کے ایما پر کیا یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ بالخصوص جب ہم دیکھتے ہیں کہ سندھ میں کراچی سمیت بعض سیاسی تنظیموں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے لیکن تکفیری دہشت گردی کی بانی سپاہ صحابہ کے لوگ آزادانہ طور پر مخالفین کو دھمکاتے پھرتے ہیں۔ اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لئے یہ لوگ فوج اور رینجرز کے حق میں ریلیاں نکالنے ہیں۔ بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف تو کاروائی ہوتی ہے لیکن کوئٹہ کے مرکزی چوک پر کھڑے ہو کر شیعوں کو قتل کرنے کے جہاد کو جاری رکھنے کا عزم کرنے اور راستے میں آنے والی ہر قوت کو اڑا دینے کی دھمکیاں دینے والی رمضان مینگل اینڈ کمپنی ریاستی اداروں کی حفاظت میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکرر عرض ہے کہ پاکستان میں جہادی دہشت گردی تکفیری بالادستی کی سوچ سے عبارت ہے۔ یہ نا تو بنو امیہ وبنو ہاشم کے اختلافات کا شاخسانہ ہے او ر نہ مکتبِ خلافت و مکتبِ امامت کے اختلافات کا۔ حقائق کو مسخ کر کے دہشت گردوں کی مدد کرنے والے مظلوموں کے بہی خواں ہر گز نہیں ہو سکتے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی سے متاثرہ طبقات کے جس ملک گیر اتحاد کی ضرورت ہے اس سے بھی صرفِ نظر کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند بونے اور اداروں کے لے پالک عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔

Views All Time
Views All Time
1000
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آئی ایم ملالہ پر اٹھائے گئے اعتراضات اور انکے جوابات

One thought on “تاریخ پر لٹھ بازی کے شوقین

  • 26/07/2016 at 5:16 صبح
    Permalink

    بہت خوب سیدی
    آپ نے تو تاریخی حوالے دئیے ،،، یہ حضرت تو تاریخ ِپاکستان سے بھی نابلد ہیں ،،، برِصغیر میں میں مسلکی بنیادوں پر ہونے والے دنگوں کو تو پولیس کنٹرول کیا کرتی تھی ،،،
    پھر کیا ہوا کہ ریاست بھی ناکام ہو گئی ،،،
    آپ کا تجزیہ صد فی صد دُرست ہے ،،،
    افغان جنگ کے بعد جنگی امور کے کاریگروں نے پاکستان کی مٹی کو اس کام کے لئے زرخیز جانا اور اور غلبے کے نظریے کی ترویج کی جو ہنوز جاری ہے ،،،

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: