Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نیا اقتصادی منظر نامہ اور امریکی دھمکیاں

by جون 16, 2016 کالم
نیا اقتصادی منظر نامہ اور امریکی دھمکیاں
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhآج اقتصادیات کی دنیا ہے جس میں کاروباری مفادات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے غیر ملکی تجارت کو قومی اور ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اس تناظر میں اگر عالمی سرمایہ داری نظام کی ترجیحات کا تجزیہ سامنے ہو تو پھر یہ اندازہ لگانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ بیسویں صدی کے آخر میں جو جنگیں ہوئی تھیں ان کا اہم ترین نکتہ مختلف ملکوں میں موجود تیل، گیس اور معدنی ذخائر پر قبضہ کے ساتھ مصنوعات کی فروخت کے لیے مارکیٹوں پر قبضہ کرنا تھا۔ جس کی ابتدا افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ سے ہوئی جو بعد میں مشرق وسطی اور شمالی افریقا تک پھیل گئی تھی۔ سوویت یونین افغانستان اور ایران کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھاجس میں ایرانی بندرگاہ ”چاہ بہار“ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی سوویت یونین کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے ”فرنٹ مین“ کا کردار ادا کیا تھا جس پر پاکستان کے حکمران طبقے آج بھی فخر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری وجہ سے ہی دنیا کی دوسری بڑی طاقت سوویت یونین کو اس جنگ میں ایسی عبرت ناک شکست ہوئی کہ اسے یونین کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا اور اس کی وحدت برقرار نہیں رہی…….
پاکستان کے حکمران طبقوں کا خیال تھا کہ اس جنگ کی رفاقت کے نتیجہ میں امریکی مقاصد کی جو فتح ہوئی امریکا بھی اس کا خیال رکھے گا۔ پاکستان کے علاقائی مفادات کے تحفظ اور مسائل کو کم کرنے میں اس کی حمایت کرے گا لیکن زمینی حقائق اور امریکی پالیسیوں سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی نظریں محض وسطی ایشیائی ملکوں کے وسائل تک ہی محدود نہیں تھیں بل کہ وہ ان وسائل کو ہندوستان کی ایک سو کروڑ سے زائد آبادی کی وسیع مارکیٹ کےعلاوہ افغانستان اور پاکستان کے راستے مشرق وسطیٰ کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹوں تک ترسیل بھی تھی……. اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں بہت ساری عالمی قوتوں اور پڑوسیوں کی مداخلت شروع ہو گئی جن کے مفادات کو خطرات لاحق تھے……. انھوں نے اپنی اپنی حامی قوتوں کو میدان جنگ میں اتارا اور وہ بظاہر ایک دوسرے کے خلاف اقتدار کے لیے برسر پیکار ہو گئیں لیکن اصل جنگ مفادات کے ٹکراؤ اور وسائل پر گرفت کو مضبوط کرنے کی تھی۔ جو امریکا اور یورپ کے افغانستان پر براہ راست قبضہ کے باوجود جاری ہے امریکا اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کی اس سلسلہ میں تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں حکومت ابھی تک افغانستان میں امن بحال نہیں کر سکی اور وہ مخصوص علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے کہ پاکستان پر ”ڈومور“ کا دباؤ بھی موجود ہے اور پاکستان کے حامی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا دباؤ بھی جاری ہے۔
امریکا کا تاریخی، تہذیبی اور نفسیاتی تجزیہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ مفادات کے حصول میں دشمن کے ساتھ اتحاد اور اتفاق سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اور پھر جب اس کے مفادات کی تکمیل ہو جاتی ہے یا اس کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں تو اس کا رویہ اور سیاسی ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی جو صورت افغانستان میں نظر آتی تھی وہ سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے بعد ہی تبدیل ہو گئی تھی اب اس کی نظر میں ہندوستان اور اس کی وسیع افرادی مارکیٹ پر تھی۔ ہندوستان اس کا سیاسی اور اقتصادی پارٹنر بن کر سامنے آ گیا تھا۔ پاکستان کی حیثیت ثانوی ہو گئی تھی۔ حال آں کہ……زمینی حقائق اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے تھے کہ وسطی ایشیا کے وسائل کی ہندوستان تک رسائی افغانستان اور پاکستان کے راستوں سے ہی ممکن تھی جب کہ ہندوستان کی صنعتی پیداوار کے لیے وسطی ایشیا اور افغانستان کی مارکیٹوں تک رسائی بھی پاکستان کے راستے ہی ممکن تھی۔ اسی پس منظر میں ہی بیسویں صدی کے اواخر میں پشاور سے کراچی تک ریلوے ڈبل ٹریک کے معاہدے ہوئے اور لاہور سے راولپنڈی اور پھر پشاور تک ”موٹروے“ بنائی گئی تھی۔ اسی تجارتی مقاصد اور ترجیحات میں اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے اور انھوں نے مینار پاکستان پر حاضر ہو کر اپنے دیرینہ مؤقف سے تردید کرتے ہوئے پاکستان کو تسلیم کیا تھا……. یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودن تنازعات اور مسئلہ کشمیر میں ثالثی کردار ادا کرنے کی نفی بھی کی اور باہم مسائل مذکرات کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ بھی دیا اور خوشگوار ماحول کے لیے عوامی رابطوں کو فروغ دینے کو بھی اولیت دی…….
ایک نقطۂ نظر یہ بھی تھا کہ…….پاکستان کی مقتدر قوتیں جو ہمیشہ امریکا کے قریب رہی ہیں اور انھوں نے بھی ہمیشہ امریکی مفادات کے تحفظ اور نگرانی کو اولیت دی اور اس کے بدلے میں سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیے ہیں انھیں بوقت ضرورت امریکا اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے وہ کسی باغیانہ روش کی جرأت نہیں کر سکتی جس کی مثال جنرل مشرف کی افغانستان پر امریکی قبضہ کی جنگ کا کردار تھا۔ جس کو اس نے سب سے پہلے پاکستان کا نام دیاتھا۔ لیکن اس کے باوجود دہری حکمت عملی کے الزامات بھی لگتے رہے۔ بہ ہر حال یہ حقیقت ہے کہ جب امریکا نے سوویت یونین کے انتشار کے بعد پاکستان کو نظرانداز کیا تو چین جو ایشیا میں نئی اقتصادی اور سیاسی قوت بن کر ابھر رہا تھا وہ بھی اپنے ملک سے باہر نکل کر نئے عالمی کردار کی طرف پیش رفت کر رہا تھا تو اس نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے مرتب کیا دفاعی تعاون بڑھایا ، اقتصادی ترقی کے عمل کو فروغ دیا…….یہی وہ زمانہ ہے جب شاہراہ قراقرم کی تکمیل ہوئی اور پاکستان کے ساتھ زمینی رابطہ بحال ہوا۔ چینی صوبہ سنکیانگ کا شماالی علاقہ جات، خیبر پختون خوا کے ذریعے پنجاب کے شہر حسن ابدال تک رسائی ہوئی۔ یہی وہ راستہ ہے جس کو ”سی پیک“ منصوبہ میں سب سے اولیت حاصل ہے اور اسی راستے کو موٹروے کے ذریعے ملانے کے منصوبہ کا وزیر اعظم نوازشریف افتتاح کر چکے ہیں۔
یہاں ایک ا ور حقیقت تو یہ ہے کہ……. اس دوران میں گوادر پورٹ بھی چین کے سپرد کر دی گئی تھی جو 2007 میں جہاز رانی کے لیے تیار ہو گئی تھی لیکن بعض ناگزیر وجوہ اور حالات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے باعث ہنوز اس کا باقاعدہ افتتاح نہیں ہو سکا۔ لیکن اب جب کہ گوادر کو علاقائی اقتصادی صورت حالات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور وہاں چینی انجینئروں کی نگرانی میں تیزی سے کام جاری ہے امریکی حکام کی طرف سے یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ گوادر کو چین کا نیول بیس نہیں بننے دیں گے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ گوادر کو علاقے کا تجارتی مرکز بنائیں گے۔ یہاں سے اقتصادی راہداری کے ذریعے جو چینی مصنوعات آئیں گی انھیں مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں تک پہنچایا جائے گا۔
ادھر…….ایک اور حقیقت تو یہ بھی ہے کہ…….روس نے چینی صوبہ سنکیانگ تک سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے جو اس امر کا غماز ہے کہ وہ بھی اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کو اپنی مصنوعات کی ترسیل کے لیے استعمال کرے گا اور اس طرح گرم پانیوں تک رسائی کا دیرینہ خواب تشنۂ تعبیر ہو گا……. اگرچہ تاریخی سچائی میں یہ امر بھی ہے کہ روس ایک زمانہ تک افغانستان اور ایران کے راستے گرم پانیوں تک رسائی کا منصوبہ رکھتا تھا اور اس نے چاہ بہار کی بندرگاہ تعمیر کرنے میں تعاون کا عندیہ بھی دیا تھا۔ جو شاید افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں امریکا کی موجودگی کے باعث تحفظات کی زد میں ہے اسی لیے اس نے متبادل راستہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ دوسرا یہ کہ ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور چاہ بہار کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کی اقتصادی اور معاشی ترقی نے اسے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اس نے ایران کے بالمقابل چین کے توسط سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کو ترجیح دی ہے گیس پائپ لائن منصوبے میں تعاون کا معاہدے بھی کیا ہے…….ظاہر ہے کہ مفادات کی دنیا میں ترجیحات بھی تبدیل ہوتی ہیں نئے تعلقات بھی بنتے ہیں اور نئے اتحاد بھی وجود میں آتے ہیں۔ اس تناظر میں جو منظر نامہ بنتا ہے اس میں فی الوقت چین، روس اور پاکستان ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں۔ تو دوسری طرف امریکا، بھارت اور ایران ایک جگہ پر متحد ہیں۔ افغانستان کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی ہے۔ جس پرامریکا اور بھارت کی گرفت ہے اور وہاں امن کے لیے اب ایران کو بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ کیوں کہ جنوبی افغانستان میں اس کے اثر و رسوخ بھی ہیں اور ایران میں افغان مہاجرین کی کثیر تعداد بھی موجود ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے کہ……. کیا افغانستان میں امن کے لیے تمام ”جنگجو گروہ“ متفق ہوں گے؟ اور کیا ایرانی کردار کو افغانی جنگجوؤں پر اثر و رسوخ رکھنے والے دیگر مسلم ممالک بھی قبول کر لیں گے؟ اور کیا افغانستان میں نئی گروہ بندی نئی خانہ جنگی کا باعث ہیں ہو گی۔ دیگر ملکوں کے مفادات کا ٹکراؤ امن کو مستقل شکل دے سکے گا؟ اور اگر یہ امن بحال نہیں ہوا تو وسطی ایشیائی ریاستوں کے تیل، گیس اور معدنی ذخائر کی ترسیل ہندوستان اور عالمی مارکیٹوں تک کیسے ہو گی؟؟
بہ ہرحال……. بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے حالہ دورۂ ایران میں ایران اور بھارت کے درمیان دیرینہ تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی تعلقات کی نشاندہی کے ساتھ ”چاہ بہار“ کی بندرگاہ کی تعمیر میں تعاون اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی فوری فراہمی سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت نے پاکستانی راستوں کے بجائے ”چاہ بہار“ کے ذریعے اغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی مارکیٹوں تک رسائی کی نئی منصوبہ بندی کو عملی شکل دینے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہاں ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ چین کے بعد بھارت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے امریکی اقتصادی پابندیوں کے دوران بھی، جس میں تیل فروخت کی اجازت تھی بھارت یہ تیل خریدتا رہا البتہ بینکوں پر پابندی کے باعث چھے ارب ڈالر کی جو ادائی رکی ہوئی تھی بھارت نے پابندی ختم ہوتے ہی وہ فوری طور پر ادا کر دی تھی جو اس کی مستقبل کی ترجیحات کا عکس تھی۔
یاد رہے کہ……. ہندوستان کی بندرگاہ کانڈالہ سے چاہ بہار کا درمیانی فاصلہ دہلی اور ممبئی سے بھی کم ہے جس سے جنوبی ہندوستان میں نئی صنعتوں کی تعمیر بھی متوقع ہے جنوبی ہندوستان کا یہ علاقہ جو انتہائی پسماندہ سمجھا جاتا ہے وہاں ترقی و تعمیر کے نئے امکانات بھی واضح ہوں گے۔
گوادر سے چاہ بہار چند سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جب کہ گوادر سے دبئی کا فاصلہ 700 ہوائی میل ہے۔ گوادر کی تعمیر نو اور اس کو تجارتی مرکز بنانے کے چینی وزائم سے دبئی کے حکمران بھی پرپیشانی میں مبتلا ہیں تو ایک اور تلخ حقیقت خلیج کے اس آبی راستے سے 90 فی صد خام تیل اور دیگر اشیائے تجارت کے جہاز گزرتے ہیں۔ جن پر گوادر میں چین کی موجودگی تشکیک سے دیکھی جا رہی ہے۔ جن سے یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہی کہ گوادر کی تعمیر اور سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے انھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے چناں چہ اس تناظر میں اپریشن ضرب عضب کے محافظوں، جو سی پیک منصوبے کے علانیہ محافظ بھی ہیں ان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔
صاحبو……. حرف آخر میں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ امریکا کی پاکستان کو سیاسی دھمکیاں بے معنی نہیں یہ امریکا کے برصغر اور مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا میں موجود وسائل اور ان کی ترسیل کی دیرینہ خواہشوں کی ناکامی کا وہ ردعمل ہے جو کسی بھی غیر متوقع حادثے کا باعث بھی ہو سکتا ہے جس پر ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے لیکن افسوس کہ ہمارے کچھ ”جاہل سیاستدان“ نئے اتحادوں اور اقتصادی صف بندیوں سے واقف نہیں محض اشاروں کی سیاست کرتے اور کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے اور اسی پر خوش ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ لوگ جو امریکی ناراضی میں جنرل ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے واقف ہیں ان کے چہروں پر خوف کے آثار بھی واضح دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں……. دلو پر بوجھ بھی تو چہروں سے چھلکتا ہے اور نئی لکیریں بناتا ہے۔
بہ ہرحال دوستو! چاہ بہار میں بھارت اور امریکا کی دلچسپی نے گوادر کو تجارتی مرکز بنانے والوں کو بھی پریشان کر دیا ہے ہمارے وزیر منصوبہ بندی کہتے تو یہی ہیں کہ……. کوئی خطرہ ہے نہ ہم خوفزدہ ہیں لیکن حقائق تو خود اپنا اظہار کر رہے ہیں۔ ذرا مختلف زبان میں……. بس انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Views All Time
Views All Time
319
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا سعد حریری کی لبنان واپسی ہوگی ؟ اداریہ: روزنامہ الاخبار بیروت
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: