پی ایم ڈی سی کی عجب غفلت کی غضب کہا نیاں

Print Friendly, PDF & Email

usman ghaniرومی کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ کی پنجابی شاعری بیش بہا تحقیق کرنے والے پروفیسر سعیداحمد نے کہا تھا ، ان جگمگاتے برقی قمقموں کا وجود اصل روشنی نہیں ، اصل روشنی علم ہے ، آپ ؐ نے فرمایامجھے بطورمعلم معبوث فرمایا گیا ہے ، مزید فرمایا ، میں علم ہوں اور علیّ اس کا دروازہ ، میاں صاحب اپنی عالمی شہرت یا فتہ پنجابی تصنیف ’سیف الملوک‘ میں فرماتے ہیں
جیوں سورج وچ نور تویں ہے علم روحے وچ جانے
نور باجھوں سورج پتھر ، آدم جنس حیوانے
As light is in the sun , in the same way knowledge is in the spirit , without light the sun is a stone and human being, is an animal
علم نور ہے ،نور اس لیے کہ پہچان کا ذریعہ ، خالق کو پہچاننے کا راستہ عطا کرتا ہے ، کائنات میں چھپے اسرا رورموز سے آگاہی فراہم کرتا ہے ،علم غرور کے بجائے عاجزی کے قریب کرتا ہے ، حضر ت واصف علی واصف لکھتے ہیں کہ علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک کو ئی عطا کرنے والا نہ ہو ، علم ’’نگاہ‘‘ سے ملتا ہے کتاب سے نہیں ،علم کا مخرج نگاہ ہے اور اسکا مدفن کتاب ،سفرا لعشق سیف الملوک میں میاں صاحب مزید فرماتے ہیں
علم کا رن دنیا اتے آون ہے انساناں
سمجھے علم وجود اپنے نوں، نہیں تاں وانگ حیواناں
Man has come into the world to attain knowledge. knowledge teaches man to know himself. .without knowledge he is like an animal
میاں صاحب کے نزدیک جو چیز حاصل کرنی چاہیے وہ ہے علم ، جو حسن اخلاق سکھاتا ہے ، شعور عطا کرتا ہے ، شعورسے لاشعورکا راستہ دکھا تا ہے ، خوش دلی کے طریقے بتاتا ہے ، ہمارے ہاں علم کے بجائے تعلیم کا وجود پایا گیا ہے جو صرف ڈگری تک محدودہے ، جو روز گار فراہم کرتا ہے خیر روز گار ڈھونڈنابھی اب جوئے شیرلانے کے مترادف ہے تربیت نام کی چیز ویسے ہی گم ہو چکی ہے اور سکھانے والے گم سم بقول شاعر
آپ دستار ہٹائیں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں
کسی بھی ادارے کو چلانے کے لیے ایمانداری ، خلوص اور محنت کی فرورت ہوتی ہے اسکے بغیر ادارے اپنا دیرپااثر قائم نہیں رکھ سکتے ، میڈیکل کی تعلیم کی دیکھ بال کے لیے جو ادارہ قائم کیا گیا ہے وہ ہے PMDC (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) PMDCمیڈیکل وڈینٹل کالجوں اور ڈاکٹروں (Practitioners)سے متعلق باقاعدگی سے ضابطہ قانون متعین کرنے اور انکی رجسٹریشن کرنے والا ادارہ ہے ۔PMDCنے اپنے متعلق کچھ کام اور ذمہ داریاں متعین کررکھی ہیں جودس نکات پر مشتمل ہیں 1۔میڈیکل کے متعلقہ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے معیار کو قائم رکھنا۔ 2۔فیکلٹی اور میڈیکل وڈینٹل کالجز کے طلبہ کی رجسٹریشن کرنا 3۔میڈیکل اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی فہرست کو قائم رکھنا 4۔میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کا باقاعدگی سے معائنہ اور تصدیق کرنا 5۔متعلقہ اداروں میں رائج الوقت شعبہ امتحانات کی نگرانی کرنا 6۔Professional Negligenceکے کیسز کو نمٹانا 7۔ہاوس جاب کے لیے ہسپتالوں کی نگرانی اور منظوری دینا 8۔روز نامچہ کے متعلق آگاہی فراہم کرنا9۔فیکلٹی کو ان کے تجربے کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا 10۔دوسرے ملکوں کے میڈیکل سے متعلقہ شعبوں سے معاملات قائم کرنا ، یہ دس نکات میرے یا آپ کے تجویز کردہ نہیں بلکہ PMDCنے یہ نکات اپنے Function and Dutiesمیں خود طے کررکھے ہیں، PMDCکے یہ نکات انگریزی کی اس Phraseکی عملی تصویر ہیں Reduction an absurdumیعنی کسی اصول کے غلط ہونے کاثبوت اس کے منطقی نتائج سے واضح ہونا ،میڈیکل کاشعبہ جس کا تعلق براہ راست انسانی جانوں سے ہوتا ہے، ایک عرصہ تک بہترین پرفارمنس سے خدمت خلق کے جذبے کو پروان چڑھاتا رہا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم کو کاروبار سمجھنے والوں نے اس کا ستیاناس کردیا ہے اس وقت پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی تعداد 143ہے جن میں سے 92پرائیوٹ کالج ہیں اور 51سرکاری، اس طرح کوئی اندھا ریوڑیاں نہیں بانٹتا جس طرح ڈاکٹرعاصم نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو بلا تحقیق رجسٹریشن دے ڈالی جس کا خمیازہ شعبہ میڈیکل کے طالب علم اور مریض نہ جانے کب تک بھگتتے رہیں گے، پیپلزپارٹی کے دور کایہ کارنامہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس پارٹی نے میڈیکل کے شعبہ کو بھی تباہ کر نے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت قبول نہیں کی، اب مزید 32میڈیکل کالج PMDCسے رجسٹریشن کرانے کے لیے کندھے پر بندوق رکھ کر تیار کھڑے ہیں، یہ درخواستیں PMDCکو موصول ہوچکی ہیں، اس بڑھتے ہوئے کاروبار نے تعلیم کے معیار کو بری طرح روند ڈالا ہے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے سیکرٹری ایوب شیخ کے مطابق متعلقہ وزارت کاکام صرف درخواست کو موصول کرنا اور اسے آگے PMDCکو بھیج دینا ہوتا ہے ، NHSنے یہاں لفظ Post-Officeاستعمال کیاہے ، آگے PMDCبادشاہ ہے ، بچے دے یا ۔۔۔۔۔۔بقول شاعر
بے وجہ تو نہیں ہے چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق وشر سے ملے ہوئے
اس بڑھتے ہوئے کاروبار نے ایک طرف فیکلٹی کی شدید کمی پیدا کردی ہے، فیکلٹی کے بہت سے لوگ ایک سے زائد جگہ پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو قانونی اور اخلاقی طور پر بالکل جائز نہیں اور دوسری طرف انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار بری طرح گراوٹ کا شکار ہے ، متعلقہ کئی شعبوں مثلاًانا ٹومی، فزیالوجی، بائیوکیمسٹری ، فارماکالوجی، فارنزک وغیرہ میں فیکلٹی کی شدید کمی کاسامنا ہے ، PMDCصر ف ایک سفید ہاتھی بن کر رہ گیا ہے اوراس مافیا کے آگے گھنٹے ٹیکنے پر مجبور ہے، آپ کو PMDCکے اپنے متعین کردہ دس نکات میں سے ایک بھی سوفیصد پوراہوتا نظرنہیں آئے گا بقول شاعر
چارہ گرختم ہوں جئیں بیمار
کچھ نہیں صحت و مرض پہ مدار
ڈاکٹر شبیر صدرPMDCکے مطابق ہر میڈیکل کالج کے لیے ضروری ہے اس کا ٹیچنگ ہسپتال 500سے زائد بستروں پر مشتمل ہومگر کئی میڈیکل کالج ایسے ہسپتالوں سے محروم ہیں، ہر نئے کالج کو رجسٹریشن کے لیے 1000پوائنٹ درکار ہوتے ہیں، صدر PMDCکے مطابق فیکلٹی پوری نہ ہونے کے باوجود بھی نئے کالج 750پوائنٹ ’’حاصل ‘‘ کرلیتے ہیں اور رجسٹرڈ ہو جاتے ہیں،UKمیں صرف 36میڈیکل کالج ہیں اور امریکہ میں 150سے کم ہیں فرق صرف اتناہے کہ وہاں صحت جیسے اہم ترین شعبے کو کاروبار نہیں سمجھاجاتا، ہمارے ہاں یہ تیزی سے پرورش پاتا ہوا کاروبار ہے، مسئلہ نئے کالجوں کی رجسٹریشن نہیں بلکہ اس معیار پر سمجھوتہ ہے جو اس سسٹم کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے، پاکستانی ڈاکٹر ساری دنیا میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اپنے ہنر اور محنت سے پاکستان کانام روشن کررہے ہیں، PMDCکو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنا پرانا معیارجدیداصولوں کے مطابق قائم کرنے کی ضرروت ہے اور متعلقہ وزارت کو خواب غفلت سے جاگنے کی ضرورت، ایک انسان کی جان بچانا ساری انسانیت کی جان بچانے کی مترادف ہے لیکن اگر کوئی انسانی جان باعث غفلت ضائع ہوگئی تو اسکے ذمہ داروں کا اس ’’سسٹم‘‘ میں نہ سہی تو بروز آخرت کیابنے گا، اصولوں اور ایمانداری پر مبنی سسٹم بنایا چاہیے جسکے کے بارے میں قوم چاہتی ہے ’’لازم ہے ہم بھی دیکھیں‘‘ مگر نہ جانے کیوں میں Reduction an absurdumلکھنے پر بضد ہوں۔

Views All Time
Views All Time
349
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آئیڈیلز دوسرا حصہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: