Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محبت کی دیوی اور امن کی فاختہ

by جولائی 6, 2016 ادب
محبت کی دیوی اور امن کی فاختہ
Print Friendly, PDF & Email

Aina SKکسی انسانی جسم کے فکری سفر کی سمت معلوم کرنے کے لیے اس کی گفتگو، تخلیقات، عملی رجحانات، انسانی میل جول اور قدمی متحرک پن کا مشاہدہ اور تجزیہ کرکے ہی اندازہ کیا جاتا ہے کہ جسم موصوف زمین سے آسمان کی طرف، مغرب سے مشرق، شمال سے جنوب کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دانشور، شاعر، ادیب تو ایک اجتماعی معاشرے کو اپنی فکر سے لیکر چلتا ہے اور مسائل میں رہنمائی کرتا ہے۔ معاشرہ کی مدہوشی میں بیداری کی ذمہ داری بھی شاعر موصوف کے فرائض میں گردانی جاتی ہے۔ بدامنی میں امن، محبت کی فصل بونا بھی شاعر کا فرض منصبی ہے۔ نفرت کی آندھیوں میں محبت کے گھونسلے بنانے کا ہنر بھی شاعر کے دست و پاء کے محرک پن میں سمویا ہوتا ہے۔ شاعر اپنی انفرادی زندگی کو معاشرے کی اجتماعی زندگی پر قربان کردیتا ہے اور معاشرے کی اجتماعی زندگی ہی شاعر کی حیات کاملہ ہے۔ اسی لیے معاشرہ میں موجود کوئی برائی مثلاً ظلم، زیادتی، لاقانونیت، بے انصافی، احترام آدمیت کی زبوں حالی کو دیکھتا ہے تو شاعر مضطرب ہوجاتا ہے۔ اپنا آرام ختم کرکے قلمی طور پر معاشرہ کے امن اور انصاف کے لیے عرق ریزی شروع کردیتا ہے۔ شاعر اگر معاشرہ کو فقط تفریحی محافل ہی مہیا کرتا ہے تو وہ شاعر اپنا مقام کھوجنے کی کوشش کرے، شاعر ہر دو حالت میں معاشرے کی نکیل اپنے ہاتھوں میں رکھتا ہے جہاں گھٹن، حبس ہو ، تفریح مہیا کرکے معاشرے کی سانسیں بحال کرتا ہے۔ اگر معاشرہ مذہبی تعصب میں غلطاں آدمیت کا قاتل دکھائی دے رہا ہو تو عقل انسانی کو محبت، الفت کیلئے بیدار کرتا ہے۔
آج ہم جس نوجوان شاعرہ پر لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ ہندوستان نیو بمبئی کی رہنے والی آئینہ۔ ایس۔ کے ہیں جس کا تخیل اور احساس پاکیزہ جذبوں کا مرہون منت ہے۔ وحدت انسانی کی تبلیغ میں سرگرم رہنے والی شاعرہ ہے اور اس کا کاروانِ حیات خرد کی مشعل لیے انسان دوستی کے رجز پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ محبت کی دیوی اور امن کی فاختہ اس دور پر فتن میں امن، محبت کیلئے پھڑ پھڑا رہی ہے اور وحشت زدہ راتوں میں ٹٹول ٹٹول کر اپنا گھونسلا بنانے کی فکر میں ہے۔ اپنی شاعری میں بڑی احتیاط سے حرفوں اور لفظوں کا چناؤ کرتی ہے کہ میری شاعری کسی انسان کی دل آزاری کا سبب نہ بنے۔ عالم شباب میں غیر متعصب مذہبی ہونا بہت بڑی نعمت ہے اور آئینہ اس نعمتِ خداوندی سے مالا مال معلوم ہوتی ہے اور مور خان حال کے شانے ہلا ہلا کے کہتی ہے کہ آدمیت کی محبت کا پرچار کرو، ابھی تو آئینہ کی شاعری میں عمل ارتقاء برابر جاری ہے۔ یہ فیصلہ میں آنے والے وقت کے حوالے کرتا ہوں کہ آئینہ کتنا بڑی شاعرہ ہے۔ میرا قلم اس فیصلہ سے قاصر ہے، چند ایک شاعر اور شاعرات کیطرح آئینہ اپنی شاعری پہ پھول نہیں جاتی بلکہ اپنے طالبعلم ہونے کا بابانگ دہل اعلان کرتی ہے۔ شاعرہ کا یہی انداز اور پرخلوص سادہ عمل ہی اسے ادبی پرواز مہیا کرنے پر تلا ہوا ہے۔
اب ہم شاعرہ کی شاعری کی طرف پلٹتے ہیں۔ اپنے اس قطعہ میں کیا خوب معاشرہ کو سبق دیا ہے۔ شاعرہ نے کہ زندگی فقط تفریح کا پروگرام نہیں اسے اور کاموں میں بھی صرف کرنا ہے۔
قطعہ دیکھیے
شاعری صرف نہیں لیلیٰ و شیریں کا بیاں
توڑ زنجیر اور اس دشت کو سیاہی کر
ہے بہت کچھ اسی زنبیل میں مستور ابھی
آنکھ کو کھول ذرہ دیدہءِ بینائی کر
واہ کیا خوب عقیدت سے لبریز اور محبت سے چھلکتا ہوا شعر ہے۔ دعا کے ہاتھ اٹھانے پر ہی جب اثر کی کیفیت انسانی جسم میں پیدا ہوجائے تو وہ لمحہءِ قبولیت ہوتا ہے اسی حوالے سے شاعرہ نے اپنا قطعہ پیش کیا ہے ۔
قطعہ دیکھیے۔
دعا میں جب بھی تیرا نام گنگنایا ہے
ہمارا دستِ طلب ایسے جگمگایا ہے
کہ جیسے سارے ہوں روشن دیے تمنا کے
ہر ایک لفظ نے قالب نورانی پایا ہے
اب میں آخر میں شاعرہ کی وہ غزل احباب کے سامنے پیش کررہا ہوں جسے پڑھ کر میں دم بخود ہوگیا کہ ایک نوجوان شاعرہ مصمم ارادہ کے ساتھ ہنر سخن میں پختگی لیے دربار خداوندی میں پیش حمد سرا ہے اور اپنی عقیدت، محبت اور ایمانیات کا وہ دریچہ وا کررہی ہے جو ان گنت حجابوں میں ابھی چھپا ہوا ہے۔ میں بابانگ دہل کہتا ہوں کہ شاعرہ کے باطن میں ایک کامل انسان چھپا ہوا ہے جو گاہے بگاہے مناجات کا سلسلہ شروع کیے رکھتا ہے۔ اب آئینہ کی غزل دیکھیے اور انصاف کیجئے۔
کسی پیاس کو آب زلال دیتا ہے
کسی کو وعدہِ فردا پہ ٹال دیتا ہے
بجھا کے شام کو سون تہہءِ سمندر میں
بوقت سحر افق سے نکال دیتا ہے
اندھیری رات میں روشن دیے ستاروں کے
پھر اس کو روئے قمر سے اجال دیتا ہے
بکھیرتا ہے وہ ہرسو نظارے قدرت کے
پھر اس کے بعد وہ نگہءِ جمال دیتا ہے
محال ہوتا ہے جب درد ہجر یار میرا
وہ چند وصل کے لمحے اچھال دیتا ہے
نواز دیتا ہے لوح و قلم سے آئینہؔ
پھر اس کے بعد وہ نطق کمال دیتا ہے

Views All Time
Views All Time
881
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   نثار احمداختر۔ہم آپ کو نہیں بھولے - رضی الدین رضی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: