Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سم ِقاتل – تیسرا حصہ

by جون 24, 2016 افسانہ
سم ِقاتل – تیسرا حصہ
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliخیر بخت آور نے مدرسے جانا شروع کر دیاجہاں اُسے قرانِ حکیم کی تعلیم دی جاتی ۔ گو کہ مدرسے کے طلباء کو چند دنیوی مضامین کی تعلیم بھی دی جاتی تھی مگر آٹے میں نمک کے برابر۔ مدرسے میں جانے سے قبل جو جھجک اور خوف بخت آور کے دل میں تھا وہ دیگر ہم عمر لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے ایک گونہ کم ہو گیا مگر دو ڈر ایسے تھے جنہوں نے اس کے ننھے سے دل میں گھر کر لیا۔ پہلا خوف اللہ میاں کے جلال کا تھا۔ یہ خوف ایسا نہ تھا جو کسی تعمیر ی سوچ اور جذبے کو فروغ دے کر اُس کی شخصیت میں زہد و تقوی ٰ جیسی گراں قد ر صفات پیدا کر سکےبلکہ یہ ایک ایسا خوف تھا جس نے نے اندر ہی اندر اُس کی ذات کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ ابھی وہ ماں کی گود ہی میں تھا کہ اس خوف کا بیج اس کے دل میں بو دیا گیا۔ جب ماں نے اُسے کسی ناپسندیدہ فعل سے باز رکھنا چاہا تو اُسے یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ خبردار ایسا نہ کرنا۔ اللہ میاں ناراض ہو جائیں گے۔ مٹی میں ہاتھ مت خراب کرو۔ اللہ میاں سزا دیں گے۔ کھلونا کیوں توڑا۔ اب اللہ میاں قیامت کے روز تم سے اس کا حساب لیں گے۔ مدرسے میں پہنچا تو قاری صاحب نے اس خوف کے بیج کو پروان چڑھا کر اسے ایک تناور درخت بنا دیا جس کی پرپیچ جڑوں نے بخت آور کی روح کو سختی سے جھکڑ لیا۔ مدرسے میں پہنچ کر اسے جنت اور جہنم کے تصور کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی۔ ماں تو محض مبہم سے انداز میں اللہ میاں کی سزاؤں کا ذکر کر دیا کرتی تھی مگر قاری صاحب نے خصوصیت کے ساتھ ان سزاؤں کے درجے قائم کیے۔ ہر سزا کے بارے میں تمام تر تفصیلات سات سالہ بخت آور کو ذہن نشین کروایں۔
اسے یہ تو بتایا گیا کہ خدا کن کن باتوں سے ناراض ہو کر سزا دیتا ہے مگر یہ کسی نے نہ بتایا کہ وہ کون کون سے عمل ہیں جن سے خوش ہو کر وہ انعام و اکرام سے نوازتا ہے ۔ خدا کے جلال اور قہر کے قصے تو اسے خوب اچھی طرح ذہن نشین کروائے گئے مگر جانے کیوں خدا کی ذات کا رحمت اور محبت والا پہلو اُس سے ہمیشہ مخفی رکھا گیا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ برامد ہوا کہ بخت آور کے ذہن میں خدا کا ایسا تصور قائم ہو گیا کہ گویا وہ ایک جلالی بادشاہ کی طرح اپنے تخت پر بیٹھا اپنی مخلوق کو چھوٹی چھوٹی لغرزشوں پر پکڑ پکڑ کر آگ کی بھٹی میں جھونکتا رہتا ہے۔ بخت آور نے ہر عمل کو سزا و جزا کے تصور کے تحت پرکھنا شروع کر دیا۔ اگر کبھی اُس کی سیاہی کی دوات پھوٹ کر بہہ گئی یا قلم کی نوک بھی ٹوٹ گئی تو اُس نے فوراََ یہ نتیجہ نکالا کہ ضرور خدا نے اُس کے کسی عمل سے ناخوش ہو کر اُسے یہ سزا دی ہے۔دوسرا ڈر جس نے بخت آور کے معصوم دل کو تا عمر اپنے مضبوط شکنجے میں جھکڑے رکھا نیم تاریک حجروں کی مکروہ خاموشی کا تھا۔ مہتمم کے نیم تاریک حجرے کی ایسے سناٹے میں، جو گہری گھمبیرتا کے ساتھ گونجتا تھا، بخت آور کے سامنے کئی مکروہ رازوں سے پردے کشا ہوئے تھے۔ اس کے نا پختہ شعور کو اس شے کا احساس تو ضرور تھا کہ وہ جس فعل کی انجام دہی پر مجبور کیا جارہا ہے وہ گناہ ہے اور خدا کی ناراضگی کا موجب ہے مگر وہ خدا کے عذاب کی نسبت مہتمم کے قہر کو خود سے قریب تر پاتا تھا۔ حجرے کی اس تاریکی اور مکروہ خاموشی نے ساری عمر بخت آور کا تعاقب کرنا تھا۔ اُس نے تمام عمر نیم تاریک گوشوں سے خوف زدہ رہنا تھا اور خاموشی کے عذاب سے بچنے کی خاطر لوگوں کے پرشور ہجوم میں پناہ لینی تھی۔ بخت آور نے حسبِ سابق اس اندوہناک واقعہ کو بھی سزا و جزا کے تصور کے تحت پرکھا۔ اس نے اس واقعہ سے بھی یہی نتیجہ نکالاکہ ضرور اُس نے رب کی کوئی نافرمانی کی ہے جس کے بدلے میں اُسے سزا دی جارہی ہے۔
وقت پر لگا کر اُڑتا رہا۔ آفتاب پورب پچھم کے چکر کاٹتارہا۔ بخت آور کم سنی اور لڑکپن کی منزلیں طے کرتا ہوا جوانی کی دلکش وادی میں اتر گیا۔اب وہ ایک حافظِ قران بن چکا تھا۔ پابندِ صوم و صلوۃ تھا ۔ اُس کے زہدو تقوی ٰکے قصے سب گاؤں والوں کی زبان پر تھے۔ اُس کی شرافت کی شہرت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ گاؤں کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں بلا روک ٹوک اسے جانے کی اجازت نہ ہو۔ اس کے متعلق یہ مشہور ہو چکا تھا کہ آج تک اُس نے گاؤں کی کسی لڑکی کو آنکھ بھر کے نہیں دیکھا ۔ راہ چلتے ہوئے نگاہیں ہمیشہ جھکی رہتیں۔ شرم و حیا کا احساس اس قدر شدت اختیار کر گیا تھا کہ اگر راہ چلتے ہوئے گاؤں کی کوئی لڑکی دور سے آتی دکھائی دے جاتی تو یکسر اپنا راستہ ہی بدل لیتا۔ راجو اب تک ویسے ہی لوگوں کے گھروں میں چھوٹے موٹے کام کر کے گھر کا خرچ جیسے تیسے چلاتی رہی تھی مگراب اس نے اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہمہ وقت بخت آور سے کوئی نوکر ی تلاش کرنے کا تقاضا کر نا شروع کر دیا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ راجو کے تقاضے میں شدت آتی جا رہی تھی۔
ہر وقت اُس کی زبان پر یہی ورد جاری رہتا کہ اُس کی ہڈیاں ساری عمر لوگوں کے گھروں میں کام کرتے کرتے دکھ گئی ہیں۔ اب بخت آور کو چاہیے کہ چار پیسے کما کر گھر لایا کرے تاکہ آخری عمر میں وہ بھی کوئی دو چار دن سکون کے دیکھ لے۔ راجو کی بات کچھ غلط بھی نہ تھی۔ بخت آور میں بھی ماں کی محرومی اور تکلیف کا احساس بدرجہ اتم موجود تھا۔ وہ کسی لمحہ اپنے فرض سے غافل نہ رہتا تھا مگر وہ مجبور تھا۔ اس لیے کیونکہ کے اس کے ہاتھ میں کوئی ایسا ہنر نہ تھا جس کے بل بوتے پر وہ رزق کے چار نوالے ماں کو فراہم کر سکتا۔ اُس کے پاس کوئی دنیوی تعلیم بھی نہ تھی کہ کسی دفتر میں جاکر نوکری کی بھیک مانگتا۔ کچھ ہفتے اُس نے گاؤں کے چند بچوں کو قران پڑھانا بھی شروع کیا تھا جس سے کچھ نہ کچھ آمدن ہو جاتی تھی ۔ راجو کو امید ہو چلی تھی کہ شاید اب گھر کے حالات بدل جائیں گے مگر پھر اچانک ہی تب اُس کے سپنوں کا محل دھڑام سے زمین بوس ہو رہا جب گاؤں والوں نے اپنے بچوں کو بخت آور کے پاس قران پڑھنےکے لیے بھیجنا چھوڑ دیا ۔ کسی نےاس کی کوئی معقول وجہ بھی نہ بتائی۔ بس اتنا کہا کہ بچوں کے لیے ایک اور، بخت آور سے بہتر قاری صاحب کا بندوست ہو گیاہے۔ گاؤں والوں کے روئیے میں اس قدر تبدیلی ضرور آئی کہ اب انہوں نے بخت آور کو آزادی سے اپنے گھروں میں مدعو کر نا چھوڑ دیا۔ اس کی پارسائی کے قصوں کی بھی وہ پہلی سی شہرت نہ رہی۔ اگر کوئی اپنے بچے کو بخت آور کے قریب بھی دیکھ لیتا تو فوراََ آواز دے کر بچے کو بلا لیتا۔
بخت آور کو سمجھ نہ آتی تھی کہ آخر اس نے ایسا کونسا گناہ کیا ہے کہ جس کی خدا اسے اس قدر کڑی سزا دے رہا ہے۔ و ہ جو کہتا ہے کہ میں پتھر میں نہاں ایک حقیر سے کیڑے تک کو رزق دیتا ہوں تو وہ ایک جیتے جاگتے گوشت پوست کے انسان کو، اور ایسے انسان کی جو ہر لمحہ اس کے ذکر میں مستغرق رہتا ہو ، رزق دینے کی ذمہ داری سے کیسے غفلت برت سکتا ہے۔ وہ جتنا اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا وہ اسی قدر زیادہ الجھتی جاتی۔ ایک دن وہ گھر کے سامنے لگے چنار کے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا اسی طرح سوچ کے ڈونگے پانیوں میں غرقاب تھا کہ وہ سوال جس نے سالوں سے اس کے ذہن کی غلام گردشوں میں میں ادھم مچا رکھا تھا ، یکلخت صاف اور سادہ جواب کی صورت اس کے سامنے آن موجود ہوا۔ جواب اتنا غیر مبہم تھا کہ وہ فوراََ ہی ایک اٹل فیصلے پر بھی پہنچ گیا۔ اسے خوب اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ کس طرح اپنی اور اپنی بوڑھی ماں کی مشکل کا عقدہ کشا کرناہے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ماں خود ہی ساری مشکل کی جڑ بھی تھی اور اُس کا حل بھی ، ایک دردناک تبسم اُس کے نیم وا لبوں پرکھیل گیا۔ چنار کے سینکڑوں سوکھے پتوں کی لاشیں جو جا بجا اس کے پیراہن پر چپکی ہوئی تھیں ،وہ جھاڑتے ہوئے اُٹھا توجزا و سزا کے تصور سے یکسر بیگانہ ہو کر کسی بھولے بسرے آوارہ نغمے کی دھن گنگنا نے لگا۔
آج جب اُس کے قدم گھر کی طرف جانے والے کچے راستے پر اُٹھ رہے تھے تو گرد، خشک پتوں، املتاس کے مرجھائے ہوئے زرد پھولوں اور گزشتہ شب کے طوفان کی زد میں آکر مرنے والے سینکڑوں پرندوں کے بھانت بھانت کے پروں سے لدے بگولے، اُس کا طواف کرتے تھے۔ آسمان پر بیسیوں پرندے بے رحم ہواؤں کی موجوں کو چیر کر اپنے اپنے گھونسلوں تک پہنچنا چاہتے تھے۔ہوا کے تند تھپیڑے ان پرندے کو ربڑ کی چھوٹی چھوٹی بے وزن گیندوں کی مانند بے اماں فضاؤں میں بکھیر دیتے تھے۔ کچے رستے کے دونوں طرف دھریک کے بنفشی پھولوں کی ایک چادر سی بچھ گئی تھی۔ پھولوں اور پتوں اور اکا دکا ٹہنیوں کے ساتھ ساتھ پرندوں کی کچھ گھونسلے بھی زمین پر آن گرے تھے۔ وہ ارد گرد کی ہر شے سے بے خبر تیز تیز قدم اُٹھا تا جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ بظاہر وہ پرسکون تھا مگر درحقیت وہ اس آگاہی کے بوجھ تلے دبا جا رہاتھا جس کا ادراک آج اُسے ہوا تھا۔ اُس کی ماں درحقیت شیطان کی ماں تھی۔ اُس کے سار ے مسائل اور خود ماں کے دکھوں کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ شیطان کی ماں تھی۔ آخر کیوں وہ آج تک یہ نہ دیکھ پایا تھا کہ اُس کی ماں بے پردہ، لوگوں کے گھروں میں کام کرنے جایا کرتی ہے۔ دوپٹہ سر سے ڈھلک کر سینے پر آتا ہے اور پھر وہاں سے بھی سرک کر فقط شانے پہ جھولتا رہ جاتا ہے اور اس حالتِ بے حجابی میں ،اتنے برسوں میں جب سے وہ لوگوں کے گھروںمیں کام کر رہی تھی ، جانے کتنے نا محروں کی نظروں نے اُسے دیکھا تھا۔ وہ جو رزق کے ایک ایک لقمے کے لیے ترستے رہتے تھےتو ماں کیوں نہ سمجھ پائی کہ یہ اُسے اُس کی بے حجابی کی سزا دی جارہی ہے۔
اگر وہ بروقت اس بات کا احساس کر لیتی تو آج اُسے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ نہ خود ساری عمر لوگوں کے دروں پر ماری ماری پھرتی اور نہ میں اُس کا بیٹا اس طرح محرومی کی زندگی بسر کر کے آج بھی بے روزگار بھٹک رہا ہوتا۔لیکن آج اسے اور مجھے اس روگ سے مکتی مل کر رہے گی۔ ایسے ہی کئی طرح کے خیالات اُس کے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔
جب وہ گھر میں داخل ہوا تو راجو آفتابہ ہاتھ میں تھامے کیاری میں لگے گلاب کے سفید پھولوں کو پانی دے رہی تھی۔ بھوک سے اُس کے ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی تھی۔ اگرچہ دھوپ کی تمازت کسی قدر کم ہو گئی تھی مگر زمین ویسے ہی گرم تنور کی طرح تپ رہی تھی اور اس گرم زمین پر راجو ننگے پاؤں یوں کھڑی تھی جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ اُس کا پرانا جگہ جگہ سے پیوند لگا دوپٹہ ہمیشہ کی طرح اُسے کے ایک شانے پر جھول رہا تھا۔ ڈوبتے سورج کی زرد روشنی میں اُس کے سر کے سفید بال سونے کی سنہری تاروں کے طرح چمک رہے تھے۔ سفید بالوں میں جابجا راکھ کے ذرے اٹکے ہوئے تھے جو تنور میں جھک کر روٹیاں لگاتے ہوئے اڑ اڑ کراس کے بالوں اور منہ پر چپکتے رہے تھے۔ اندر کو دھنسی ہوئی چھوٹی چھوٹی آنکھیں جن میں جل چکی تمناؤں کی بھوبھل میں اب تک شاید کوئی انگارہ دہک رہا تھا۔ جھریوں بھرے کمزور چہرے پر بیتے زمانوں کی المناکیوں اور محرومیوں کا ایک ایک نقش ثبت تھا۔ جب اُس نے بخت آور کو دروازے سے داخل ہوتے دیکھا تو آفتابہ نیچے رکھتے ہوئے اُس کو جانب لپکی اور مصنوعی غصے کے لہجے میں بولی۔ ” کہاں تھا اتنی دیر سے؟ روٹی پڑی پڑی کب کی ٹھنڈی ہو چکی۔ جا کر کوٹھری میں سے چنگیر اُٹھا لا اور چارپائی پر بیٹھ۔ میں ابھی سالن تپا کر لائی۔” وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلی جا رہی تھی کہ اچانک بخت آور کے بدلے ہوئے سے تیور دیکھ کر ٹھٹک کر رہ گئی۔پھر مری ہوئی سی بے یقین آنکھوں سے اُس نے بخت آور کو نیفے میں سے ایک تیز دھار خنجر برامد کر کے اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔ خنجر کی تیز دھار ڈوبتے سورج کی آخری کرنوں کی زرد پڑ چکی روشنی میں چمکی۔ خون کا ایک فوارہ سا اچھل کر کیاری میں لگے گلاب کے اجلے سفید پھولوں کو رنگ آلود گر گیا۔ ایک "دھپ "کی آواز فریاد کی صورت کون ومکاں کے گوشے گوشے میں گونج گئی۔ مکان کے ایک سوراخ میں چھپا چڑیوں کا جوڑا آواز سن کر اُڑا اور سرمئی آسمان میں گھل گیا۔ اُدھر قریب ہی ایک مسجد سے خطیب کی روح پرور آواز لاؤڈ اسپیکر پر گونجی۔
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْر
"دھپ ” کی اس آواز نے ساری زندگی بخت آور کا تعاقب کرنا تھا۔ سفید پھولوں پر جمی سرخ لہو کی لالی نے کبھی نہ دھلنا نہ تھا۔ اس اذیت کو سہارنا بخت آور کے لیے ممکن نہ تھا۔ ماں کو تو اس نے اپنے تئیں جہنم کے دائمی عذاب سے بچا لیا تھا مگر خود کیسے اس دنیا کے دوزخ میں جلتا رہتا۔ سو آسمان پر اُڑتے پرندوں نے نیچے زمین پر تاحدِ نگاہ پھیلےسرسبز کھیتوں میں اترنا چاہا تو ایک منظر ان کی نگاہوں میں عکس ہوا۔ خون کی دو دھاریں متضاد اطراف سے کچے آنگن میں بہتی ہوئی ایک دوسرے میں گھل رہیں تھیں۔

Views All Time
Views All Time
410
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حساب کتاب-گلزار
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: