Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سمِ قاتل –دوسرا حصہ

by جون 21, 2016 افسانہ
سمِ قاتل –دوسرا حصہ
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliدیسی گھی کی سوندھی سوندھی مہک سے رچے موتی چور کے لڈؤں کے کئی خاکی تھیلوں سے لدے مولا بخش نے ،جب گھر کے آنگن میں قدم دھرا تو راجو نے ادوائن کی چارپائی پر بمشکل کروٹ بدلتے ہوئے خاصی حیرت سے اسے دیکھا۔ گاؤں بھر کی عورتوں، میراثنوں، ڈومنیوں اور نائنوں نے راجو کو گھیر رکھا تھا۔ مولا بخش کو دیکھتے ہی انھوں نےبہ یک وقت اس پر مبارک باد کے ڈونگرے برسانے شروع کر دئیے۔ اُس نے مسکراتے ہوئے ہر ایک کی ہتھیلی پر پانچ پانچ روپے کے نکور کڑکڑاتے نوٹ رکھے۔ پھر اُس نے جھٹ سے پاس ہی پڑے پتیل کےایک بڑے تھال میں لڈؤں کی ایک تھیلی اُلٹ کر عورتوں کے سامنے رکھ دیا۔ عورتوں نے ایک رشک بھری نگاہ راجو پر ڈالی جو سکتے کی سی حالت میں یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی اور پھر لڈؤں پر پل پڑیں۔ اسی اثنا میں محلے کی مسجد کے پیش امام بھی آن پہنچے۔ اُن کی تواضع بھی حسبِ استطاعت شکر کےٹھنڈے شربت اور خوش مزہ لڈؤں سے کی گئی۔ مولوی جی نے نومولود کے کان میں اذان دی اور پھر انہی کے مشورے سے بچے کا نام بخت آور رکھا گیا۔ جب بچے کا نام رکھا جا رہا تھا اُس وقت تقدیر چارپائی کے سرہانے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ایک ایک کر کے جب سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے ،تو راجو نے کہنی کے سہارے سر اوپر اُٹھایا اور خاصی کرخت آواز میں مولا بخش کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔
” میں پوچھتی ہوں یہ اتنے سارے لڈؤں اور کمی کمینوں پر لٹا نے کے لیے اتنا پیسہ آیا کہاں سے تیرےپاس؟ کیا کہیں ڈاکہ ڈالا ہے؟”
"او ے نیک بخت۔ نہ اول فول بکتی رہا کر۔ یہ تو اپنے چوہدری جی نے۔۔۔مولا لمبی حیاتی دے ان کو۔۔۔قرض دیا ہے۔”
"قرض دیا ہے ؟ کیا مطلب؟ رہن رکھوانے کے لیے تیرے پاس کونسی قیمتی شے تھی؟”
بیوی کے ان پہ در پہ سوالات سے مولا بخش کچھ بوکھلا سا گیا۔ بس سر جھکائے چپ کھڑا رہا اور داہنے پیر کے انگوٹھے سےصحن کی کچی زمین کو کریدنے لگا۔ بیوی نے جب بار بار وہی سوال دہرایا تو آخر مولا بخش نے رندھی ہوئی سی آواز میں سارا ماجرا بیان کر دیا۔ یہ سننا تھا کہ راجو نے سینہ پیٹنا اور اونچی اونچی آواز میں رونا چلانا شروع کر دیا۔
” اوے مردود۔ لڈو خریدنے کے لیے ساری زمین رہن رکھوا دی؟ کھایں گے کیا؟ اوے اس ننھی سی جان کو کیسے پالیں گے؟ ہائے لوگو میں لٹ گئی ۔اگر اتنا ہی شوق تھا کوئی میٹھی چیز بانٹنے کا تو مجھے بتاتا میں سوکھے چاولوں میں چینی ملا دیتی۔ مگر نہ ۔ یہ نواب کا پتر دیسی گھی کے لڈو بانٹے گا”۔
مولا بخش تو پہلے ہی ضبط کیے بیٹھا تھا۔اب جو یوں بیوی کو واویلا کرتے دیکھا تو اُس کے ضبط کا بند بھی کچی دیوار کی طرح اُس کے آنسوؤں کے سیلاب میں بہہ نکلا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا بیوی کے پاس پہنچا اور وہیں چارپائی کے سرہانے کی طرف نیچے زمین پر بیٹھ گیا۔
بیوی نے بھی جو یوں شوہر کو بچوں کی طرح بلکتے اور ہاتھ جوڑتے دیکھا تو اور زور زور سے رونے لگی۔ "نہ مولا بخش نہ۔ تو نہ رو۔ میں تو غصے میں جانے کیا کیا کچھ بک جاتی ہوں۔ تو دل چھوٹا نہ کر۔ جس رب سوہنے نے پیدا کیا ہے وہ رزق بھی دے گا۔” پھر جب دونوں روتے روتے تھک گئے تو آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے رہے۔ آسودہ مستقبل کی امیدیں دلاتے رہے۔ بخت آور کے مستقبل سے متعلق رنگین خواب بنتے رہے ۔ راجو کے پہلو میں میٹھی نیند سوتے بخت آور کو، اپنی تشنہ کام آرزؤں کا محور بنا کر ، انہوں نے خوابوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی جو جنت تعمیر کی تو اُس کی خوشنمائی کے سامنے شداد کی جنتِ اراضی کے نظارے بھی ہیچ معلوم ہوتے تھے۔ پھر یوں ہی باتیں کرتے کرتے کب نہ جانے دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ گجر دم جب چڑیوں نے پیڑوں پر چہچہا نا شروع کیا اور مشرقی افق پر سورج نے اپنی گلابی چنری لہر ادی، تو راجو کی آنکھ کھلی۔ دیکھا تو مولا بخش وہیں چارپائی کے کنارے پر سر رکھے سو رہا تھا۔ اُس نے مسکراتے ہوئے اس کے بازو پر ایک ہلکی سی چٹکی بھری مگر وہ ویسا کا ویسا بے حس و حرکت پڑا رہا۔ بازؤں سے پکڑ کر جنجھوڑنا چاہا تو اُس کا سر چارپائی پر ایک طرف کو لڑھک گیا۔ مولا بخش سالوں سے ضعفِ قلب کے روگ میں مبتلا تھا مگر وہ اور دیہاتی لوگوں کی طرح کبھی اپنی بیماری کو خاطر میں نہ لایا تھا۔ بے احتیاطی اور مناسب خوراک کی عدم دستیابی مرض کو مزید ترقی دیتی گئی۔ اب جواچانک اُس پر طرح طرح کے اندیشوں نے یورش کی تو اس کے دل نے مزید پریشانیوں کا بوجھ سہارنے سے انکار کر دیا۔ رات سوتے ہوئے نہ جانے کس وقت اُس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ خواب مرتے نہیں تو بالکل غلط کہا تھا کیونکہ مولا بخش کے خواب اُس کے ساتھ ہی منوں مٹی تلے، زمین کے سینے میں دفن ہوگئے۔
جیسے ہی گاؤں میں مولا بخش کی ناگہانی موت کی خبر پھیلی، چوہدری اللہ داد نے بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے مولا بخش کی زمین پر قبضہ جما لیا۔ راجو نے چوہدری کی لاکھ منت سماجت کی، اللہ رسول کے واسطے دئیے ، تھانہ جا کر دہائی دی مگر کسی در پر اُس کی شنوائی نہ ہوئی۔ لاچار صبر کر کے بیٹھ رہی۔ مولا بخش نے تو جانا تھا سو چلا گیا مگر راجو نے دل ہی دل میں قسم کھائی کہ اپنے بچے کو فاقوں نہ مرنے دے گی۔ چاہے خود کو سولی پر بھی چڑھانا پڑے مگر بیٹے سے متعلق مولا بخش کے سارے خواب پورے کرے گی۔ رزق کا کوئی اور وسیلہ نہ بن پڑا تو اُس نے لوگوں کے گھروں میں چھوٹے موٹے کام کرنے شروع کر دئیے۔ اُس کی مہینہ بھر کی آمدن یوں کفایت کرتی کہ اُسے ہر دوسرے تیسرے روز فاقہ کرنا پڑتا مگر وہ صبر و شکر کے ساتھ جیون کی گاڑی کو دھکا لگاتی رہی۔ جب تک بخت آور چھوٹا تھا تو کسی نہ کسی طور گھر کا خرچ پورا ہو تا رہا مگر جب وہ سکول جانے کی عمر کو پہنچا تو راجو کو یکدم احساس ہوا کہ اُس کے وسائل تو اس قدر ناکافی ہیں کہ بچے کو سکول تک نہیں بھیج سکتی۔ پھرکی کی طرح، ہر در پر جہاں سے مدد کی کوئی موہوم سی امید بھی ہو سکتی تھی۔ گھوم گئی مگر کسی نے اس کے سر پر دستِ شفقت نہ رکھا۔ ایک تنِ تنہا بیوہ جس کے پاس کوئی ہنر بھی نہ ہو محض چند خوابوں کے سہار ے کہاں تلک تگ و دو کر سکتی ہے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ بچے کو گھر پر بٹھا نے سے بہتر ہے کہ اُسے کسی مدرسے میں داخل کر وا دے۔ مدرسے میں تعلیم کا خرچ اس قدر کم ہے کہ باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ ماں بیٹے دونوں کی دنیا آخرت بھی سنور جائے گی۔ بات راجو کے دل کو لگی سو اُس نے اسی روز لڑکے کو گاؤں سے کچھ دور ایک مدرسے میں داخل کروا دیا۔ گو کہ مدرسہ اُس کے گھر سے خاصا دور تھا اور پھر مدرسے کے مہتمم کی شہرت بھی کچھ زیاد ہ اچھی نہ تھی۔اُس کے متعلق طرح طرح کی ناقابلِ بیان افوہیں گاؤں والوں کے درمیان گردش کرتی رہتیں تھیں، مگر راجو کے پاس اس کے سو ا دوسرا کوئی راستہ بھی تو موجود نہ تھا۔
جاری ہے۔۔۔
پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں‌کلک کریں

Views All Time
Views All Time
532
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محبت
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: