سمِ قاتل – پہلا حصہ

Print Friendly, PDF & Email

qasim aliپورنماشی کا چاند، آنگن کی پوربی سمت لگے دھریک کے پیڑوں کی سب سے اونچی شاخوں میں الجھا گویا سوچتا تھا کہ اب افق پر زرا اوپر کو سرک جاؤں یا مزید کچھ لمحے پتوں کی اوٹ میں ٹھہرا رہوں۔ شبنم کے پہلے قطروں سے لدی چاندنی سہج سہج کر منڈیروں ، دیواروں، مٹی کے کچے چولہے، اور ٹوٹے پھوٹے آنگن میں اترتی تھی۔ دھریک کے بنفشی پھولوں کی خواب آور مہک سارے صحن میں اُڑتی پھرتی تھی۔ عرش سے لیکر فرش تک ہر شے یوں گہرے سکوت کی چادر میں لپٹی ہوئی تھی گویا کسی مانوس آہٹ پر کان لگا رکھے ہوں۔ یوں ہی صدیاں گزر گئیں ۔ کتنے زمانے آئے اور اپنا نقش چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر ان زمانوں کے نقوش پر آئندہ آنے والے دنوں کی گرد بچھتی گئی اور یوں گزر گئی صدیوں کے وہ نقش بھی معدوم ہو گئے، مگر سب کچھ ویسے کا ویسے دم سادھے خاموشی کی آغوش میں دبکا رہا۔ پھر اچانک ایک نومولود بچے کے رونے کی آواز نے گہرے سکوت کی ہموار چادر کو تار تار کر دیا۔ ساتھ ہی ایک عورت کی جذبات سے لبریز آواز کچے آنگن میں گونجی”مولا بخش ! تجھے مبارک ہو۔ تیرے ہاں ایک چاند سا بیٹا پیدا ہوا ہے۔” مولا بخش فرطِ جذبات سے لرزتے ہونٹوں کو بھینچے ، گویا قلانچیں بھرتا ہوا اُس کوٹھری کی اور لپکا جس سے بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ کوٹھری طاقچے میں دھرے کڑوے تیل کے دیے سے روشن تھی۔ چراغ کی زرد لرزتی ہوئی روشنی میں اُس نے دیکھا کہ اُس کی بیوی کے پہلو میں کالا بھجنگ، موٹے موٹے ہونٹوں اور پچکی سی ناک والا ایک بچہ پڑا روتا ہے۔ چاند کے اس ٹکڑے پر پہلی نظر پڑتے ہی مولا بخش کی آنکھوں سے اشکوں کی ایسی لڑی بہہ نکلی کہ ٹوٹنے کا نام نہ لیتی تھی۔پاگلوں کی طرح کبھی وہ بچے کو دیکھتا ، کبھی دائی کو اور کبھی آسمان کی طرف ۔ ہچکیوں کے نہ ٹوٹنے والے سلسلے کے درمیان وہ کلماتِ شکر بھی ادا کرتا جاتا تھا۔ مولا بخش کی سفید ریش آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر لرزتے ہاتھ بڑھا کر اُس نے بچے کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ یہ جو بظاہر گوشت کا ایک ننھا سا لوتھڑا اُس کے سوکھے بازؤں میں تڑپ تڑپ جاتا تھا جانے کتنی منتوں مرادوں کا ثمر تھا۔ چوبیس سالوں میں مولا بخش اور اُس کی بیوی راجو نے سینکڑوں مزاروں کے ہزاروں چکر لگائے تھے۔ درجنوں درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخوں سے بیسیوں لال اور ہرے ریشمی کپڑوں کی منتوں والی پٹیاں باندھی تھیں۔ کتنے ہی مزاروں کے مجاوروں اور مساجد کے پیش اماموں کے پیٹ ، راجو کے ہاتھ کے بنے دیسی گھی کے حلوے اور شیرینی سے بھرپور زردے سے پُر ہوئے تھے۔ کئی پیر فقیر او ر تعویذ گنڈے والے بھی تھے جن کےازلوں کے گرسنہ دہن مولا بخش کے دیسی خوراک پر پلے ہوئے پہاڑی بکروں کے گوشت کے سواد سے آشنا ہوئے تھے ۔ کئی اللہ والے، پہنچے ہوئے بزرگ، ایسے بھی تھے جن کے ایمان کی دولت سے معمور سینے اُن روپوں کی تسکین بخش حرارت سے سلگ سلگ اُٹھے تھے، جو مولا بخش نے جون کی تپتی دوپہروں اور جاڑے کی ٹھٹھرتی شاموں میں اینٹیں اور بجری ڈھو ڈھو کر کمائے تھے۔ چوبیس سالوں میں ہر رات جب ستارے تھک کر اُونگھنے لگتے اور دور ویرانوں میں گیڈر خوفناک آوازوں میں بین کرتے تو یہ دونوں میاں بیوی ساتھ ساتھ مصلے بچھا کر بیٹھ جاتے۔۔۔ زندگی پیدا کرنے والے رب سے اُس کی رحمت کا سوال کرتے۔ اتنے جتن کیے تب جا کر ابرہیمؑ اور سارہؑ کے رب نے مولا بخش اور راجو کی چوبیس سالوں کی دعاؤں کو اذنِ قبولیت دے کر پلٹایا۔ ایک اور جسم میں زندگی کی روح پھونک کراُسے کچے صحن والے گھر کی نیم روشن کوٹھری میں اتارا۔
اگلے روز جب سورج ابھی آلکس سے آنکھیں موندے پوربی وادیوں میں پڑا تھا، کھیتوں کو جاتے کسانوں نے قدرے حیرت سے دیکھا کہ مولا بخش تیز تیز قدم اُٹھاتا، کبھی کم سن لڑکوں کی طرح کھیتوں کی مینڈوں کو پھلانگتا اورکبھی بیری کے چھدرے درختوں پر شور مچاتی چڑیوں کے غولوں کو پتھر مار کر اُڑاتا ، گاؤں کے چوہدری کی حویلی کی طرف جا رہا ہے۔چوہدری اللہ داد نے اپنی حویلی گاؤں کی آبادی سے قدرے ہٹ کر بنوا رکھی تھی، تاکہ وہ اور اس کا گھرانہ گاؤں والوں کی بے جا مداخلت سے دور، مکمل سکون سے رہ سکے۔حویلی کو چاروں طرف سے مالٹے، سیب ، ناشپاتی اور انار کے گھنے باغات نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا سو دور سے دیکھنے پر حویلی مکمل طور پر نظر نہ آتی تھی ۔ قدرے قریب پہنچ کر بھی صرف حویلی کے سفید عالی شان مینار ہی سرسبز درختوں کے جھنڈ میں سے بلند ہو کر آسمان کی بلندیوں سے ہمکلام دکھائی دیتے تھے۔پھلوں کے باغات کے بعد تا حدِ نظر باجرے اور مکئی کے ہرے بھرے کھیتوں کا سلسلہ پھیلاہوا تھا۔ نظر کی حد جہاں ختم ہوتی تھی اور اُس کے آگے افق کے سوا کچھ نظر نہ آتا ہے، اُس سے بھی کئی آگے تک، تمام اراضی بلاشرکت غیرے چوہدری کی ملکیت میں تھی۔
چوہدری اللہ داد کا روزانہ کا معمول تھا کہ دن چڑھے چوپال پر آتا تھا اور گاؤں والوں کے بیچ کے تنازعے حل کرتا تھا۔شنید ہے کہ آج تک چوہدری نے کوئی ایسا تنازعہ حل نہ کیا تھا جس میں اُسے اپنا کوئی نہ کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔ سو وہ ہر معاملہ میں خود کو نفع پہنچانے کاکوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ ہی لیتاتھا۔ مولا بخش سے تو یہ کس طور ہو سکتا تھا کہ وہ دن چڑھے تک چوہدری کے چوپال پر آنے کا انتظار کرے سو وہ منہ اندھیرے ہی چوہدری کی حویلی کی طرف چل پڑا۔
مولا بخش جب حویلی سے متصل، چوہدری اللہ داد کے مویشیوں والے ڈیرے پر پہنچا تو وہ ایک نواڑی پلنگ پر بیٹھاکڑوے تباکو کا حقہ پی رہا تھا، جس کی نَے پر چاندی کی باریک تاریں لپٹی ہوئیں تھیں۔ کچھ ملازم بھینسوں کا دودھ دوہ کر پیتل کی بڑی بڑی بالٹیوں میں ڈالے حویلی کے اندر لے جارہے تھےجبکہ چند ملازم پھاوڑے سنبھالے مویشیوں کا گوبر صاف کرنے میں مصروف تھے۔ ایک طرف اعلیٰ نسل کے ولایتی کتّے چوبی کھونٹوں سے بندھے، بڑی رغبت کے ساتھ راتب کھا رہے تھے۔ مولا بخش کچھ جھجکتا ہوا چوہدری کے پلنگ کے قریب پہنچا ۔پہلے نیچے جھک کر اُس کی جوتیوں کو ہاتھ لگایا اور پھر وہی ہاتھ ماتھے تک لے جا کر سلام کیا۔ چوہدری اللہ داد نے کچھ اچھنبے اور کچھ ناگواری کے سے تاثرات کے ساتھ مولا بخش کو گھورا ،جو اب ہاتھ جوڑے پلنگ کی پائینتی طرف بے جان مجسمے کی طرح ایستادہ تھا۔
"اوے تو کس طرح آج صبح ہی صبح اس طرف آ نکلا۔” چوہدری نے اپنی گرجدار آواز میں مولا بخش کو مخاطب کیا۔
"چوہدری جی اللہ کابڑا احسان ہوا مجھ غریب پر ۔ رات میری ٹبری نے ایک لڑکا جنا ہے۔ آپ کو تو پتا ہی ہے جی چوبیس سال سے بے اولاد تھا۔ بڑا کرم ہوا جی۔” جواب دیتے ہوئے بے اختیار اُس کی باچھیں کھل اُٹھیں۔
"اوے یہ تو بڑا چھا ہوا۔ مبارک ہو تجھے لیکن کیا اتنے سویرے سویرے اتنی دور سے صرف یہ بتاتے آیا ہے مجھے؟” چوہدری کے لہجے میں بیزاری اور بے اعتنائی کی جھلک صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔
"وہ دراصل چوہدری جی میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی اللہ سوہنے نے مجھے یہ خوشی دی تو پورے گاؤںمیں مٹھائی بانٹوں گالیکن میرے گھر کے حالات کا تو آپ کو پتہ ہی ہے۔میں سوچ رہا تھا کہ اگر آپ کی طرف سے کچھ عنایت ہو جاتی تو میری یہ خواہش بھی پوری ہو جاتی۔”
"ہاں ہاں کہو کیا چاہیے” چوہدری نے پلنگ پر پہلو بدلتے ہوئے جواب دیا۔
"چوہدری جی اللہ آپ کی حیاتی لمبی کرے۔ آپ کا سایہ ہم غریبوں کے سر پر سلامت رکھے۔ اگر آٹھ نوہزار قرض مل جائیں تو غریب آپ کو دعائیں دیں گے۔”
یہ بات سنتے ہی چوہدری کی حریص آنکھیں کسی خوشنما خیال سے چمک اٹھیں۔
لہجے کی ساری بیزاری رخصت ہو گئی اور خلافِ توقع انتہائی شگفتہ لہجے میں بولا۔” لو بھلا یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ آخر تم لوگوں کا خیال ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟”
چوہدری کے طرز تخاطب اور پھر اس کی طرف سے قرض دینے کی رضامندی ظاہر کرنے پر مولا بخش کی مری مری سی آنکھوں میں گویا آتشبازی کے رنگ رنگ کے انار چھوٹنے لگے تھے۔
"جتنا قرض چاہیے مل جائے گا مگر اس کے لیے کوئی شے تمہیں میرے پاس رہن رکھوانی پڑے گی۔ ہے تیرے پاس کوئی ایسی شے؟” چوہدری نے سلسلہِ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔
مولا بخش کی آنکھوں میں جھلمل کرتے چراغوں کی لویں یکبارگی بجھ گئیں۔
"ایسی تو کوئی چیز نہیں میرے پاس مگر رب سوہنے کی قسم میں آپ کا قرض جلد ہی لوٹا دوں گا۔”
"نہ مولا بخش نہ۔او ے بیوقوف بھلا تو خود ایماندری سے بتا ایسے کس طرح میں اتنی بڑی رقم تجھے بغیر کوئی شے رہن رکھے دے دوں؟ کل کو جو تو میرا روپیہ کھا کے دوڑ جائے یا کہیں مر کھپ جائے تو میرا نقصان کون پورا کرے گا؟”
"چوہدری جی آپ مجھ سے اللہ رسول کی قسم اٹھوا لیں۔ بے شک قران پر ہاتھ رکھوا لیں جو میں آپ کی ایک ایک پائی واپس نہ کروں تو میرا انجام یزید کے ساتھ ہو۔”
"اوے مولا بخش روپے پیسے کے معاملات یوں اللہ رسول کی قسموں سے طے نہیں ہوتے۔ کسی شے کا بندوبست کر پھر قرض لینے آنا۔”
پھر جیسے چوہدری کو کچھ یاد آ گیا ہو۔
فوراََ بولا۔”تیرے پاس وہ جو نقرے بیلوں کی جوڑی ہے وہ رہن رکھوا دے۔آخر تجھے پتر کی خوشی سے زیادہ عزیز تو نہیں ہوسکتی نابیلوں کی ایک جوڑی۔”
"مائی باپ اگر بیلوں کو رہن رکھوا دوں گا تو کھیتوں میں ہل کیسے چلاؤں گا۔ یوں تو میں اور میرے گھر والے بھوکے مر جائیں گے۔”
اس ساری گفتگو کے دوران مولا بخش نے اپنی کمر کا خم نکالا نہیں تھا بلکہ مزید ہی جھکتا جاتا تھا۔
"اس کا ایک ہی حل ہو سکتا ہے پھر۔۔۔” چوہدری نے معنی خیز انداز میں کہا۔
"وہ کیا مائی باپ؟” مولا بخش جھٹ بیقراری سے بولا۔
چوہدری اللہ داد نے جو حل پیش کیا وہ یہ تھا کہ مولا بخش اپنی چار بیگھے زمین اس کے پاس رہن رکھوا دے اور جب تک تمام قرض ادا نہیں ہو جاتا، زمین کی کل کاشت میں سے ایک چوتھائی حصہ بھی اسے دیتا رہے۔ مولا بخش تو پہلے ہی فاقوں مرتا تھا۔ اب کل کاشت کا ایک چوتھائی حصہ چوہدری کے حوالے کر کے کیسے بسر اوقات کر سکتا تھا ۔ پھر یہ بھی یقین کے ساتھ کہنا ناممکن تھا کہ چوہدری اُس کی ساری زمین کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ہتھیا نہ لے گا۔ مولابخش سخت تذذب کا شکار ہو گیا۔ گو کہ ہزاروں قسم کے اندیشے اُس پر یورش کرتے تھے مگر آخر تھا تو وہ ایک سادہ لوح کسان ہی جس کی وقتی خوشی مستقبل کے سارے اندیشوں پر غالب آئی۔ بلا چون و چراں لیکن سخت بوجھل دل کے ساتھ اس نے چوہدری کی تجویز منظو ر کر لی۔ لاکھوں کی زمین رہن رکھوا کر اس نے چوہدری سے سات ہزار روپے بطور قرض حاصل کیے اور انہیں شلوار کے نیفے میں اُڑستا گاؤں کے واحد حلوائی کی دکان کی طرف دوڑا۔
جاری ہے۔۔۔

Views All Time
Views All Time
806
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مجبوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: