قوم کے دردمند دلوں کے نام

Print Friendly, PDF & Email

Qurat ul Ain Haiderدنیا میں مختلف ادوار میں مختلف قومیں گزری ہیں جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں ایسی ہی ایک روش میری قوم میں بھی پائی جاتی ہے جو ہر کسی کا خاصا نہیں ہوتی- جی ہاں اور وہ روش ہے دردمندی کی اگردیکھا جائے تو پاکستانیوں سی زیادہ کوئی دردمند قوم پائی نہیں جاتی. جی ہاں یہ figures facts and آپکو google یا کسی website پر نہیں ملیں گے. لیکن اگر آپ غور کریں تو ایسے درد مند دل کے حامل افراد آپ کو اپنے ارد گرد ہی ملیں گے.”جو نیل کے ساحل سے لےکرتابخاک کاشغر” تک کے مسلمانوں کے لئے تڑپ اتے ہیں. اگر برما میں مسلمان تکلیف میں ہوں تو انہیں سکون نہیں ملتایہ لوگ آپکو دعائیں مانگتے ہویے اور انکی امداد کے لئے رقم اکٹھی کرنے کی اپپلیں کرتے ملیں گے. اگر فلسطینی دشمن کی زد میں ہوں تو ان کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے آپ کو facebook پر اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نظر آئیں گے. اگر شام میں ہلاکتیں ہوں اور بشارالاسد کو کوسنا ہو تو آپ کو یہ حضرات پیش پیش نظر آئیں گے.یہ حضرات چھ سات سال پرانے کسی واقعے کے زخمیوں کی تصویریں لگا کرآنسو اور آہوں کے ساتھ شامی حکومت کو نیست ونابود ہونے کی بد دعا کرتے نظر آئیں گے. لفظ کم پڑ جاتےہیں اگر آپ تعریف کرنے بیٹھیں تو.لیکن عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے کیسے اتنے درددل رکھنے والے اپنےہی ملک میں ہونے والے قتل عام پر چپ سادہ لیتے ہیں کے صم بکم عمی کی سراپا تفسیر بن جاتے ہیں. ان کو مذہب کے اقلیت کے بلاسفمی کے نام پر مرنے والوں کا نہ لہو مضطرب کرتا ہے نہ ان کی تصویریں ان کی selective sympathy کو جگا سکتی ہیں. یہ طرہ امتیاز بھی اسی قوم کو جاتا ہے یہ میلوں دور مرنے والے کے قاتل کو تو گالیوں سے نوازیں گے لیکن اپنے وطنوں کے قاتل کا نام تک نہ لیں گے اگر ہوسکے گا تو اپنی بونگی دلیلوں سے مقتول کو ہی اس کے قتل کا مورد الزام ٹہرائیں گے. مجھے دکھ نہیں تعجب ہے اپنے اہل وطن پہ جو اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی ظلم پہ تو چپ سادہ لیتےہیں لیکن دنیا میں ہونے والے واقعات پہ احتجاج اور آہ وبقا کرتے نظر آتے ہیں. ایسے درد مندوں کی تعریف میں عرض ہے کہ جناب ایسا نہ ہو کہ جن کی پردہ پوشی آپ کرتے ہیں کسی دن انہی کا لقمہ بن جایں کیونکہ گندم تو پس ہی رہی ہے آپ بھی گیہوں کی طرح رگڑے گئے تو کس گنتی میں آئیں گے؟ خدا آپ کو توفیق دے اور آپ کی قریب کی نظر تیز کر دے تا کہ آپ برما، شام اور فلسطین میں ہونے والے ظلم کے ساتھ اپنے ہی کوچوں، بستیوں اور شہروں میں برپا مظالم کو دیکھ اور محسوس کر سکیں. جو آگ آپ کے اردگرد ہی لگی ہے اگر آپ اس کو بجھانے والوں کی بجائے پھونکیں مارنے والوں کی صف میں کھڑے رہے تو یہ آگ آج یا کل آپ کے مکان تک بھی آئے گی.تو جناب والا دوسروں کولگنےوالی آگ پر ہاتھ سینکتے سینکتے اپنادامن کب تک بچایں گے ؟

Views All Time
Views All Time
796
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہر با س پر ایک با س مسلط ہے

2 thoughts on “قوم کے دردمند دلوں کے نام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: