Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ٹمپریچر-شاہد شکیل

by اپریل 19, 2017 بلاگ, صفحہ اول
ٹمپریچر-شاہد شکیل

بخار ہو جائے، پانی یا دودھ ابلنا شروع کریں یا انسان شدید رنج و غصے کی حالت میں آپے سے باہر ہو جانے کی صورت میں اگر ساتویں آسمان پر پہنچ جائے تو ظاہر بات ہے کہ دودھ اور پانی کی طرح انسان کی بھی وہی حالت ہو جاتی ہے جیسے بخار میں تپنے والے کی یعنی پارہ چڑھ جانے پر کوئی بھی اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا اور جو بھی جلا کٹا مواد اپنے اندر جمع کر رکھا ہوتا ہے اسے ہر حالت میں باہر اگلنا چاہتا ہے ایسی ہی کچھ حالت سورج کی بھی ہوتی ہے۔

کائنات کی کوئی بھی شے بے مقصد نہیں لیکن کئی بار انسان کیلئے مفید ہوتے بھی وبال جان بن جاتی ہے اور شدید نقصان ہوتا ہے سورج ہی کیا دنیا کی ہر شے انمول ہے بس قدر دانوں کا فقدان ہے، سورج کو جب بھی تپ چڑھتی ہے تو اسکا خمیازہ ہر ذی روح کو بھگتنا پڑتا ہے جیسے سمندر پبھر جائے تو انسانوں کے سمندر پر چڑھ کر انہیں تہس نہس کر دیتا ہے دنیا میں کہیں بھی کسی ناگہانی آفت کے آنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک سیارہ ہے اور ہم سب اس سیارے میں رہنے والے چند سالوں کے مہمان، جیسے محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ایسے ہی اس سیارے کے مسافروں کو بھی زندگی کے مختصر سفر میں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

موسم سرما میں سب کے دماغ برف کی مانند ٹھنڈے ٹھار ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی سورج اپنے جوبن یعنی تپش کی شعاعیں زمین پر چھوڑتا ہے تو سب انسانوں کا پارہ بھی چڑھ جاتا ہے اور برداشت نہ کرنے کی صورت میں جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے ،موسمیاتی تبدیلی کیوں انسان پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ کیوں جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے؟محقیقین کے مطالعے میں بتایا گیا کہ گرمی پر منحصر ہے کہ وہ کہاں اور کتنی شدت سے پڑ رہی ہے اور انسان کیسا محسوس کرتے ہیں مثلاً کئی ممالک میں لوگ دھوپ کی تمازت جسے سن باتھ بھی کہا جاتا ہے لطف اندوز ہوتے ہیں ،کئی لوگ سوئمنگ کوسٹیوم میں رہنا پسند کرتے ہیں یعنی سوئمنگ پول وغیرہ اور کئی ممالک میں کچھے ،بنیان اور ململ وغیرہ کے ڈریس کو گرمی سے بچاؤ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کوئی کچھ بھی کرے جسم ٹھنڈا ہو یا نہ ہو دماغ گرم ہی رہتا ہے کیونکہ سورج کی تیز تلوار کی دھار جیسی شعائیں، تپش انسان کی کھوپڑی کے چودہ پندرہ طبق روشن کر دیتی ہے۔موسم گرما میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دفاتر ، گھروں یا کاروں میں اے سی نہ ہونے سے مختلف واقعات رونما ہوتے ہیں مثلاً کوئی جاہل چالیس پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں معصوم بچے کو کار میں بند کرے کار کے شیشے بھی نہ کھلے ہوں اور شاپنگ کرنے نکل پڑے تو بچے کی سانسوں کا چلتا رہنا معجزہ ہی ہو سکتا ہے یا دفاتر میں حبس کے سبب فائلوں کا ردو بدل ہونا بھی عام سی بات ہے کیونکہ تپش،لو،حبس اور دہکتی آگ کے مانند گرمی کوئی ذی روح برداشت نہیں کر سکتا انسان کتنے ہی مضبوط اعصاب کا مالک کیوں نہ ہو گرمی مت مار دیتی ہے جس کے نتیجے میں سستی پیدا ہونا یا کسی بھی عمل سے مطمئن نہ ہونا اور ہر معمولی شے میں کیڑے نکالنا بھی عام سی بات ہوتی ہے پانی سے پیاس نہیں بجھتی پسینے میں شرابور ہو کر آخر کب تک انسان ایسی گرمی میں دنیاوی جھمیلوں میں رہ کر گزارہ کرے اور نوبت ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔

انسٹیٹیوٹ فار انٹر ڈسپلن کونفلکٹ اور تشدد پر ریسرچ کرنے والے پروفیسر آندریاس زِک کا کہنا ہے درجہ حرارت انسان کے جوش وخروش میں اضافہ کرتا ہے لیکن انحصار اس بات پر بھی ہے کہ انسان کتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہے اور کس موسم میں کتنی سردی یا گرمی برداشت کر سکتا ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ محض گرمی کی شدت سے موڈ خراب ہے یا یخ بستہ سردی میں ہی انسان خوشگوار موڈ میں رہتا ہے انسان کا رویہ موسمیاتی تبدیلی کا حصہ ضرور ہے لیکن انسان اس سچائی سے بھی منہ نہیں موڑ سکتا کہ وہ کمزور اعصاب کا مالک ہے کیونکہ انسان کے جسمانی اور نفسیاتی عوامل ہی اسکے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔انیس سو ساٹھ میں امریکی محقیقین نے تپش،گرمی اور جارحیت پر مطالعہ کیا اور یہ نتائج برامد ہوئے کہ شدید گرمی کے سبب انسان تشدد کرنے پر باآسانی راضی ہو جاتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گرمی مختصر مدت ہو یا لانگ ہاٹ سمر ،مثلاً انسان کے اعصاب مضبوط ہوں تو کوئی شے اسے متاثر نہیں کر سکتی دو تین دن کی شدید گرمی اور موسلا دھار بارش کے بعد ٹمپریچر نصف ہو جائے تو کئی لوگ متاثر نہیں ہوتے جبکہ بدستور کئی ہفتوں تک سورج کا پارہ چڑھا رہے تو انسان کا بھی پارہ چڑھا رہتا ہے کیونکہ کوئی انسان بدستور ہیٹ برداشت نہیں کر سکتا ۔ مغربی ممالک کی مثال ہے کہ موسم گرما کے طویل دنوں میں لوگ عام طور پر الکوحل سے انجوائے کرتے ہیں دن کی طوالت اور زیادہ الکوحل کے استعمال سے ان کا رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے جس کے سبب جرائم کا جنم ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی گرمی تشدد کو فروغ دیتی ہے؟امریکی ماہرین جن کا تعلق سماجی جارحیت پر ریسرچ کرنا ہے کا کہنا ہے گرمی برداشت نہ کرنے کی صورت میں اگر کوئی کسی سے لڑائی جھگڑا کرے ، چھری چاقو نکال لے یا بندوق تان لے تو یہ جرم ہے انسان کو کائنات کی ہر شے کو قبول کرنا چاہئے چار موسم ہیں اور ان کا قدرتی طور پر وقت بھی متعین ہے انسان کو وقت کے ساتھ چلنا ہے اور اپنے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں گرمی سردی سے بچاؤ کا معقول انتظام ہی بہترین عمل ہے نہ کہ کسی انسان کو اپنے موڈ کی خرابی کا بہانہ بنا کر گزند پہنچانا،انسان کو ہمیشہ پر امن رہنا چاہئے جسے عام طور پر کول مائنڈ بھی کہا جاتا ہے بہت اہم ہے ،یہ بات درست ہے کہ ہر انسان میں برداشت کی ہمت نہیں ہوتی لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ اپنی کمزوری کا ذمہ دار کائنات یا موسم کو ٹھہرایا جائے صدیوں سے موسم آتے جاتے ہیں اور انسان زیادہ سے زیادہ سو برس تک ہی جیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے جب محسوس کریں کہ گرمی زیادہ ہو گئی ہے اور آپ کا ٹمپریچر ہائی ہو رہا ہے تو وقفہ کیا جائے ،ٹھنڈا پانی پئیں ،دھوپ کی بجائے سایہ دار جگہ کا انتخاب کریں اور سب سے اہم بات اپنے اعصاب کو قابو میں رکھیں ،معمولی سی بات کو رائی کا پہاڑ نہ بنائیں کیونکہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حل نہ کیا جاسکے،کسی قسم کے تشدد سے گریز کریں کیونکہ ایک انسان کی جان لینے سے کئی خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ایسی صورت حال میں قصور اور غلطی انسان کی اپنی ہوتی ہے گرمی ،سردی یا ٹمپریچر کی نہیں اسلئے اپنے دماغ کے درجہ حرارت کو متوازن رکھیں جس سے سب کا بھلا ہو گا۔

from=geourdu.com

Views All Time
Views All Time
168
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: