Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بیاں سرِ شہادت کی گر تفسیر ہو جائے | سید تصور حسین نقوی – قلم کار

Print Friendly, PDF & Email

اپنی قسمت پر نازاں اور مقدر پر رشک کرتے ہوئے نوحہ ، ماتم، مرثیے، قصیدے اور درود و سلام پڑھتے ، یزیدیت کے منہ پر طمانچے مارتے اور اس کے سینے پر قدم رکھ کر بارگاہ امام حسین علیہ السلام کی طرف لاکھوں کی تعداد میں عاشقانِ نواسہ رسول ﷺ کا پیدل سفرِ مودت اور روضہ اقدس کے گرد لاکھوں کی تعداد میں زائرین کے روح پرور مناظر دیکھ کر تسکینِ عشق کے لئے دیدارِ کربلا کو بے چین آنکھیں پھر سے کربلا معلی پہنچنے کی مشتاق ہیں۔ العجل العجل کی صدائیں بلند کرتے اورنہایت ہی پرامن، منظم اور پر وقار انداز میں اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کرنے والے اور ظالم اور مظلوم کے درمیان خونی لکیر کھینچنے والے ابنِ رسول اللہ ﷺاور ان کی نگری سے عشق کی انتہا کی منزل پر فائز یہ وہ دیوانے ہیں جو گرمی ، سردی، بھوک، پیاس، رات اور دن کی پرواہ کئے بغیر انا مجنون الحسین کی صدائیں لگاتے سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے بھائیوں اور بیٹوں کی نگری آباد کرنے اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا و اسیرانِ اہلِ حر م کی سنت ادا کرنے کے لئے چہلم کے موقع پر اپنے اصل ٹھکانے کربلائے معلی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کے استقبال کے لئے عرش معلی والے چشمِ براہ اور کائنات کے پیغمبر اپنا عمامہ اتار کرزمین پر بیٹھے ان کی عزاداری میں شریک ہیں۔ کربلا پہنچنے والے زائرینِ امام حسین ؑ میں شامل بوڑھے ، بچے ، جوان، خواتین کو خونِ امام حسین ؑ کی کشش ہے جو انہیں اپنی جانب کھینچ رہی ہے اور بلا شبہ شہادتِ امام حسین ؑ ، قتلِ امام حسین ؑ و خونِ امام حسین ؑ میں ایسی تڑپ اور حرارت موجود ہے جو ہمیشہ کے لیے مومنین کے دلوں کو گرماتی رہے گی اور ہر گز یہ تڑپ اور حرارت ٹھنڈی نہیں ہوگی اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔عقلِ انسانیت دنگ ہے کہ جن کی لاشوں کو تین دن تک بے گور و کفن چھوڑا گیا ہواور گھوڑوں کے ٹاپوں سے پامال کیا گیا ہو اورجن کی قبروں پر بارہا ہل چلائے گئے ہوں اور ان کو مٹانے کے لئے ان پر پانی چھوڑاگیا ہو وہ آج بھی زندہ ہیں اور لوگ ان کے نام پر مر مٹنے کے لئے ہم وقت تیار اور لبیک یا حسین ؑ کی صدائیں بلند کرتے ان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔یہ عشق کی انتہا ہے کہ سفرِ مودت میں اٹھنے والے قدموں کو جہاں لوگ چومنے کی تلاش میں ہیں وہاں ان کے پاؤں کی خاک کو اپنے پاس تبرک کے طور پر محفوظ کیا جارہا ہے۔ کائنات میں ایسے عشق کی مثال نہیں ملتی جو زوارِ حسین ؑ اور خاندانِ عصمت و طہارت کے ساتھ ہے۔ دنیائے ارضی پر انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع جس میں تین کروڑ سے زائد زائرین کے سفری انتظامات ، رہائش ، کھانے پینے سمیت طبی سہولتوں کا بہترین بندوبست ، یہ سب امام حسین ؑ کا زندہ و جاوید معجزہ ہے جسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں گزشتہ کئی سالوں سے عاشورہ پر مسلسل سرزمینِ کربلا پر نواسہء رسول ﷺ کے قدموں میں سجدہ ریز ہوکر مغفرت وبخشش کا طلبگار ہو رہاہوں لیکن یہ روح پرور مناظر دیکھ کر دیدارِ کربلا کو بے چین آنکھیں کربلا پہنچنے کے لئے روح کو بے قرار کرتی ہیں کہ کاش دوبارہ ابنِ رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں حاضری ہوجائے اور کعبۃ القلوب کے سامنے سجدہ ریز ہو سکوں۔ تین کروڑ کے اجتماع میں یہ خونِ امام حسین ؑ کا معجزہ ہے کہ نہ کوئی بھگدڑ ، نہ کوئی بھوکا پیاسا، نہ کوئی زخمی اور نہ کوئی پریشانی، کسی نے آج تلک اپنی چپل بھی گم ہونے کی شکایت نہیں کی۔کربلا جانے والے تمام راستوں میں عاشقانِ نواسہ رسول اور خاندان عصمت و طہارت کی طرف سے نذر و نیاز، مفت اشیاء خورد و نوش، مناسب رہائش اور پیدل چلنے والے زائرین کی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے جگہ جگہ انکی مالش اور ان کے جوتے پالش کرنے اور کپڑے دھو کر انہیں استری کرکے دینے والے اور زائرین کے جوتوں اور ان کے پاؤں کو چومنے اور ان کے پاؤں کی خاک کو خاکِ شفا سمجھ کر اپنے پاس محفوظ کرنے والے اور انکے قدموں پرسر رکھ کر انکی قدم بوسی کرکے انکا پرتپاک استقبال کرنے والے بظاہر تو مخلوقِ انسانی نظرآتے ہیں لیکن در حقیقت وہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ وہ مجتہدین، معزز علمائے کرام، تعلیمی اداروں کے اساتذہ، اعلی عدلیہ کے جج، پارلیمنٹ اور شوری کے ممبران، وزیر، سفیر، فوجی حکام، سیکورٹی پر مامور اداروں کے ارکان، ڈاکٹرز، انجینئرزاور کروڑں کی جائیدادیں رکھنے والے عاشقانِ امام حسین ؑ ہیں جو اپنے دِلوں میں ولائے علی ؑ و حسین ؑ رکھتے ہوئے زائرین کے جوتوں کی صفائی کرتے اور ان کی دھول اپنے منہ پر ملتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ ایسے ہوتے ہیں علی ؑ و حسین ؑ کے نوکر اور یہی عشقِ حقیقی اور حسینی ؑ عشق ہے جس کے ہم مجنون ہیں جو ہمیں خالقِ حقیقی سے ملاتا ہے۔ یہاں پر کچھ نہیں بکتا، سوائے عشقِ حسین ؑ و غمِ حسین ؑ ۔ اقبال نے انہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ: بیاں سرِ شہادت کی گرتفسیر ہوجائے، تو پھرمسلمانوں کا قبلہ روضہء شبیر ؑ ہوجائے۔
کعبۃ القلوب اور فنا فی اللہ کے راستے میں موجود حسینی ؑ خدمت گار ایک طرف زائر حسین ؑ کی قدر و منزلت بتا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر کربلا ء اور نواسہ ء رسول ﷺکے زائر کا مقام یہ ہے تو رحمت اللعالمین اور وجہ ء تخلیقِ کائنات کے زائر اور خانہ ء خدا کے گھر کے مہمان کا کیا مقام ہے جسے وہاں کے قابضین آل سعود نے اربوں ڈالر کمانے، لوٹنے اور ہرسال ہزارو ں حجاج کے خون سے کھیلنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ کربلا کی سرزمین سے ایک اور پیغام اٹھ رہا ہے کہ اے دنیا والو اگر اسلام کا حقیقی چہرہ اور اس کو بچا کر ہم تک پہنچانے والوں سے عقیدت، محبت، حقیقی عشق اور مودت اور سچے عقیدے کا اظہار اور اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہے اور مذہب حقا کو دیکھنا اور پہچاننا ہے تو کربلا چلو اور اباعبداللہ الحسین ؑ کے زائرین کی عقیدت اور ان کے عقیدے کی انتہا اور عشقِ حسین ؑ اور غمِ حسین ؑ میں غرق انسانوں کے دلفریب مناظر اور محمد و آل محمد ﷺ کے عاشقان اور ان کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا محمد و آل محمد ﷺ کے غلاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور دوسری طرف کعبے کے زائرین کو اپنے پاؤں سے کچلنے اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی اور روضہ رسول کے سامنے کھڑے ہوکر دعا مانگنے اور ان کی مقدس جالیوں کو چومنے اور جنت البقیع میں نبی کی لاڈلی بیٹی سیدۃ النسا ء العالمین اور ان کی اولاد کی قبور اور ان کی زیارت کرنے والوں کے ساتھ ہونے والا حشر دیکھ لوتاکہ تمہیں حقیقی اسلام اور اس کے حقیقی وارثوں کا پتہ چل سکے۔ پیروکارانِ امام حسین ؑ کربلا سے یہ پیغام دیتے نظر آتے ہیں کہ ایک طرف کعبہ کے زائرین کو پاؤں تلے کچلا جاتاہے تو دوسری طرف کعبے کی حرمت ، عزت و تکریم کو بچانے اور وہاں پر ہونے بلند ہونے والی اذان کے محافظ کی نگری کربلا میں زائرین کے پاؤں اور ان کے جوتوں کو چوما جاتا ہے اوروہ اس تلاش میں ہیں کہ ان زائرین میں کوئی ایسی ہستی بھی ہوسکتی ہے جس کی زیارت کرنے کے لئے سب زائرین یہاں آرہے ہیں۔ہوسکتا ہے میرا خیال غلط ہو، کسی کا عقیدہ مجھ سے بلند ہو، علمی اعتبار سے بلند پایہ علمائے کرام بھی موجود ہیں، ہو سکتا ہے کہ کربلا کے مناظر کسی کے دل و دماغ پر اثر نہ کریں مگر اسے دل و دماغ کی گہرائیوں سے سوچیں اور اس راز اور مقصد کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کیجئے جو کربلا اور کربلا والو ں کی قربانیوں میں چھپا ہے اور جسے شہادت امام حسین ؑ کے بعد ہر ایک موڑ پر شہید ہونے والی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے درباروں اور بازاروں میں اپنے خطبات کے ذریعے ہم تک پہنچایا ہے ۔

Views All Time
Views All Time
507
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان، اقلیتیں اور مجموعی عوامی رویہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: