"اے میرے شہر تیرے لوگ بھی اب تیرے نہیں "

Print Friendly, PDF & Email

جناب! آئیے آپ کو اپنے پیارے شہر کراچی کی سیر کروائیں یہ شہر میرا مولد ہے مدفن ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ مجھے یہ شہر اتنا عزیز کیوں ہے؟ اس کیوں کا جواب میرے پاس نہیں کیونکہ وضاحت سے تعلقات کا ریشم الجھ جاتا ہے مجھے اس کے کچرے کے ڈھیر برے لگتے ہیں مگر میں نے اس مسئلہ کو نصیب سمجھ کر قبول کر لیا ہے اسی لئے اب کچرا کنڈی نما گلیاں چوبارے کم متعفن لگتے ہیں۔ میں اس شہر کی وفادار باسی ہونے کی ساتھ ساتھ اس تکلیف دہ مسئلہ کے حوالے سے کبھی بےاختیار مئیر کی جانب دیکھتی ہوں جسے منصب تو دے دیا گیا ہے مگر اس کے ہاتھ سے اختیارات کا قلم لے کر توڑ دیا گیا ہے اور کبھی ہارے ہوئے ان لوگوں کی جانب جو جمہوریت کی ڈگڈگی بجا کر عوام کو نچوا رہے ہیں۔

یہ شہرِ آسیب ہے جہاں بیک وقت اچھے اور برے مناظر اس کے افق پر نظر آتے رہتے ہیں۔ اسی لئے میں بھی یہاں کے سماجی تغیرات پر فلم کے بدلتے سین کی طرح چوکنا رہتی ہوں۔

ہے عجب عالمِ عجلت کہ یہاں ہر لمحہ
دوسرے لمحے کو کھا جاتا ہے قاتل بن کے

ابھی ایک دلفریب منظر کے حصار میں مبتلا ہو نہیں پاتے کہ کوئی اندوہناک واقعہ ذہن کو مفلوج کر دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کی روداد لکھنے کا ارادہ تھا سر سے پاؤں تک عالمِ سرشاری میں مبتلا تھی چیف جسٹس ثاقب نثار کے دلائل اور دو ٹوک گفتگو نے مجھے ان کا اسیر بنادیا پہلی مرتبہ کراچی کے مسائل پر کسی کو اس طرح مخاطب ہوتے دیکھا۔پرائیوٹ میڈیکل کالجز کی فیس اور معیار پر ان کی تشویش، ملاوٹ شدہ دودھ (ٹیکوں) کی مدد سے جو انتہائی مضرِ صحت ہے اس پر ان کا برانگیختہ ہونا، وی آئی پی موومنٹ کا تدارک۔ اف خدایا یہ عدالت کا کمرا تھا یا مسیحا کا آستانہ جہاں دوا اور دعا دونوں کا انتظام نظر آیا اور پھر جب شاہ رخ جتوئی کیس کا نمبر آیا تو ایسا لگا کہ جیسے سر پھرے سودائی جبران ناصر، طلحہ رحمان اور دیگر نوجوانوں کے عزم کا عکس چیف جسٹس کے فیصلے اور بیانات میں نظر آیا تو کیا خوابوں کی تعبیر کا موسم آ گیا۔ اف یہ خیال ہی احساس کو عجب کیف میں مبتلا کرتا رہا

یہ بھی پڑھئے:   وہ صورتیں الہی-سید زیدی

مگر ابھی میں کچھ لکھ بھی نہ پائی تھی کہ پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا جس شہر میں وکیل، ڈاکٹر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے رہے وہاں اب کی مرتبہ قرعہ پروفیسرز اور دانشوروں کے نام نکلا ہے حسن ظفر صاحب آپ کو بھی کیا پڑی تھی کہ قوم کے غم میں مبتلا رہے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بیعت کر لیتے زندگی آسان ہوجاتی مگر برا ہو اس حقیقی دانشوری کا جو اپنے نظریے اور دلائل کے سامنے بندوق کو بھی خاموش کروا سکتی ہے۔ اب چین سے منوں مٹی کے نیچے آرام فرمائیے کہ جس قوم کے لئے آپ بے آرام ہوئے اس کے افراد بہت آرام سے آپ کے قتل کی خبر سن رہے ہیں، قیاس آرائیاں کر رہے ہیں اور اگلے جنازے کے منتظر لگ رہے ہیں میرا سلیوٹ ہے آپ کو کہ آپ کی موت کی وجہ سے ریاست محفوظ ہوگئی سچ ہے ایک ستر سالہ شخص اگر کسی نظریے کا حامل ہو تو توپوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے تو حسن ظفر عارف صاحب! الوداع، الوداع الوداع۔۔۔ملتے ہیں اگلے جنازے یا اگلے کسی سانحہ پر۔

Views All Time
Views All Time
290
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: