Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاناما سے گلا لئی تک مندی کا رجحان ہے | تسنیم عابدی

by اگست 5, 2017 حاشیے
پاناما سے گلا لئی تک مندی کا رجحان ہے | تسنیم عابدی

برطانیہ کے ٹی وی اسٹار جمی سیول آج کل پھر حوالے کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں جس کے مرنے کے بعد بہت سارے لوگوں نے بتایا کہ وہ کس طرح لوگوں کو جنسی حوالے سے ہراساں کرتا تھااور بہت سارے لوگوں کو اس نے کس طرح اپنی ہوس کا نشانہ بنایا
پھر اس کے مرنے کے بعد چند جرات مندوں کی وجہ سے حقیقت آشکار ہوئی اور فریب کا پردہ چاک ہوا۔ اس سارے مصالحہ کو گلا لئی کے لگائے ہوئے الزام کے حوالے سے پیش کیا جا رہا ہے اور اس بات کو تقویت دی جا رہی ہے کہ اگر گلا لئی نے چار سال بعد ان باتوں کا انکشاف کیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ممکن ہے کہ وہ دباؤ کی وجہ سے پہلے بتا نہ پائی ہو ؟؟
حضور! جنسی ہراساں کرنا، رشتہ بھیجنا، تقریر نہ کرنے دینا یا ٹکٹ نہ دینا میں اس الجھی ڈور کو سلجھانا چاہ رہی ہوں کچھ ہاتھ نہیں آپا رہا کہ اصل شکایت کیا ہے ؟؟؟میں ایک غیر سیاسی غیر جانبدار ادیب ہوں تدبر کرنے والے طبقے سے تعلق رکھتی ہوں اور مردانہ معاشرے میں رعایتی سلوک کو حد درجہ نا پسند کرتی ہوں۔ عزت اور ذلت کے درجہ اولٰی پر کسی کو جنس کی بنیاد پر فائز نہیں کرتی۔ گناہ گار عورت ہو یا گناہ گار مرد جھوٹا مرد ہو یا جھوٹی عورت بے حیا مرد ہو یا بے حیا عورت جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے بات نہیں کرتی ۔
سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا پر ہر دو طرف سے طوفانِ بد تمیزی برپا ہے چینلز بدحواسی میں اپنی اسکرین کو دنگل بنائے ہوئے ہیں۔ اخبار صحافتی اقدار کو فراموش کرکے زردی مائل یرقان زدہ شہ سرخیوں کو پیلا رنگ دے رہے ہیں۔ یرقان زدہ خبروں کا بازار گرم ہے۔ ان صحافیوں کو قوم کے نقصان کا اندازہ نہیں انہوں نے قارئین کے ایک ایسے طبقے کو پروان چڑھایا ہے جو سنسنی خیزذائقے کے عادی ہو چلے ہیں جو مخالف جماعت کے نظریات پر تو مٹی ڈالتے ہیں مگر کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما یا کارکن کے گھر میں برتن بھی چٹخ جائے تو ان کا دل کلی کی طرح چٹک جاتا ہے۔ ٹوئٹر اور فیس بک کی دنیا میں تو شام کو مقدمہ آتا ہے اور صبح تک مخالف کو سنگسار کرکے اس کی لاش کو بھنبھوڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ باقی چیلوں کو بھی راتب میسر کیا جاسکے۔
واہ صاحب واہ ان خبروں کے تخلیق کاروں کو اندازہ نہیں کہ لوگوں کو اخلاقی دیوالیہ بنانے میں ان کی فیکٹری کیسی زود اثر پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ چند مشہور ٹی وی چینل تو سیاسی جماعتوں کامیڈیا سیل بن چکےہیں
نواز شریف پاناما کیس میں سزاوار قرار پائے تو مصاحبین نے ان سے حلف وفاداری نبھاتے ہوئے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کیا۔ مسلم لیگ میں ایک شاہی خاندان کی غیر منقول جائداد لگی گھر میں سیاسی وارث کا پیدا ہونا عیب نہیں مگر یہ اسی صورت میں قابل قبول ہونا چاہئے جب بھٹو کی بیٹی بھی بھٹو جیسی صلاحیت کی حامل ہو ورنہ جمہوریت ایک خود فریبی کے نعرے کے سوا کچھ نہیں جمہوریت اور مطلق العنانیت تو مزاجوں کانام ہے کیا ہم نے ایسی کوئی نرسری لگائی ہے جس میں اختلاف بھی احترام کے ساتھ کیا جائے؟ ہم ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت تو کرتے ہیں مگر اپنے دل و دماغ کو مطلق العنانیت سے نہیں بچا پاتے۔ بھائی صاحب جمہوریت کا پودہ تو اختلاف رائے اور احترامِ ذات کی اب و ہوا میں پروان چڑھتا ہے ذرا ماحول کا جائزہ لیجئے آب و ہواکہیں افراط و تفریط کی آندھی کی زد میں تو نہیں۔

Views All Time
Views All Time
179
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: