یہیں کہیں میرا قاتل ہے خود میں ڈھونڈ اسے – تسنیم عابدی

Print Friendly, PDF & Email

مشعال خان تمہارا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کروں اس ہجوم کے جو تمہیں بظاہر مار رہے تھے یا وہ قاتل جو دراصل ماسٹر مائنڈ ہیں یہ خرد دشمن نام نہاد مذہبی سرمایہ داروں کی طرح دین کی دولت پر قبضہ کرکے عوام کو ثواب و عذاب کا تبرک بانٹ رہے ہیں ۔۔۔۔
مشعال خان تمہارے قتل سے امید کا ٹمٹماتا دیا بھی بجھنے کو ہے مجھے یہ کیوں لگ رہا ہے کہ تم نہیں معاشرہ مر چکا ہے ۔۔۔مشعال خان تم سے کس نے کہا تھا کہ زندہ لاشوں کے درمیان زندہ ہونے کا ثبوت دو نشریاتی ادارے تمہارے قتل کی خبر نشر کرکے ریٹنگ کا بازار گرم کریں گے ریاستی ادارے مذمتی بیان دیں گے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے تانے بانے دہشت گردی کے معاملے سے جوڑیںگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم اسودۂ خاک ہوکر اپنے پیاروں کو بےقرار کرتے رہو گے
مشعال خان میں تمہیں نہیں جانتی تم کون ہو تمہارا جرم کیا ہے معاشرہ تم سے کیوں اتنا خوف زدہ تھا بس مجھے تو یہ فکر کھا رہی ہے کہ کیا تمہارا جرم ایسا تھا کہ تم کو قتل کے بعد برہنہ کیا جاتا اور لاشوں پر ڈنڈے بر سائے جاتے اور تماشائی تماشا دیکھتے یا عبرت حاصل کرتے ؟؟؟؟
کیادانشگاہیں اب عقوبت خانے بن جائینگے کیا اب پروفیسرز ،دانشور، طالب علم سب کے نصیب میں خاک اڑانا رہ گیا ہے کیا ریاست نے قانون کو طاق پر رکھ دیا ہے گمشدگی ،جبری گرفتاری، قتل و غارت گری ۔۔۔۔۔۔یہ دراز ہوتا ہوا سلسلہ کب ختم ہوگا میرا دل چاہتا ہے کہ غزل لکھوں قصیدہ لکھوں وطن کی محبت میں سرشار نظمیں لکھوں مگر میرے قلم سے بھی بس خون ٹپک رہا ہے کسی کے قتل کا کسی کی گمشدگی کا پچھلا قطرہ جمتا نہیں کہ نیا خون کا دریا ابل پڑتا ہے ۔۔۔۔۔کچھ روشن خیال انسان دوست خدا ترس نوجوان اگر دکھ کااظہار کریں تو انہیں موم بتی مافیا کہہ کر مذاق اڑا یا جائے اور انہیں ہر گھڑی ذلت اور جبر کا شکار بنایا جائے
ہر شخص مسئول ہے وہ اپنے اپ سے پوچھے کہ اس جہالت زدہ ماحول کفروغ دینے میں اس کا حصہ کیا ہے یا پھر اس جہالت کی تاریکی کو دور کرنے میں اس نے اپنے حصے کی روشنی جلائی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔سوال کریں اپنے ضمیر سے اپنے دل سے اپنے اپ سے ؟؟؟؟؟؟

Views All Time
Views All Time
909
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: