اوجِ امکانِ بشر کا سلسلہ ہے کربلا

Print Friendly, PDF & Email

اوجِ امکانِ بشر کا سلسلہ ہے کربلا
عبدیت کی شانِ تسلیم و رضا ہے کربلا

روح ہو بیمار تو خاکِ شفا ہے کربلا
خالقِ اکبر کا زندہ معجزہ ہے کربلا

عشق کی تاریخ سے آواز آتی ہے یہی
زندگی کو وار نے کی انتہا ہے کربلا

گردشِ ایام سے محفوظ رکھنے کے لئے
پنجتن کے اسم اور دل کی دوا ہے کربلا

غمگساری ، دوستداری ، بیقراری کے لئے
کربلا ہے کربلا ہے کربلا ہے کربلا

بانیانِ ظلم مٹ سکتا نہیں ذکرِ حسین
جبر کے ماحول میں تازہ ہوا ہے کربلا

زائرینِ روضہ شبیر ہیں اس سوچ میں
خلد ہے یا خلد کا اک راستہ ہے کربلا

Views All Time
Views All Time
135
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اس راہِ شوق میں میرے ناتجربہ ِشناس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: