Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ کافر،فتنہ طاقت ربا کیا-تسنیم عابدی

یہ کافر،فتنہ طاقت ربا کیا-تسنیم عابدی
Print Friendly, PDF & Email

بارہویں جماعت میں اردو کی کلاس میں پڑھا رہی تھی اس ہفتے مجھے خطوط غالب اور غالب کی غزل پڑھانی تھی۔ ان خطوط کو پڑھاتے ہوئے میں اکثر کسی اور فضا میں موجود ہوتی ۔غالب یوسف مرزا کو تعزیتی خظ لکھ رہے ہیں یوسف مرزا کیسے کہوں کہ تیرا باپ مرگیا اور اگر یہ کہوں تو پھر آگے کیا لکھوں پہلے باپ مرا اب بیٹا اگر کوئی مجھ سے کہے کہ بے سر و پا کس کو کہتے ہیں تو میں کہوں گا یوسف مرزا کو ۔ہائے ہائے خط تھا کہ ایک تیر جو کلیجے پر لگ گیا آنکھ میں نمی تیر گئی۔برا ہو ان آنکھوں کا جو ہر پس پردہ جبر پر چھلک چھلک پڑتی ہیں خط میں لکھا تھا کہ "علی کا غلام کبھی مرتد نہیں ہوگا”.کلاس میں ایک سکوت طاری تھا اس سکوت کو ایک آواز نے توڑا میڈم کیا غالب شیعہ تھا؟ میں نے اس کی طرف دیکھا بہت محبت سے دیکھا اور کہا عظیم، سوال کا جواب مل جائے گا مگر پہلے یہ بتاؤ کہ یہ سوال تمہارے ذہن میں کیوں آیا؟ بس تعزیت اور علی کے حوالے سے۔ اچھا اچھا میں نے نرمی سے کہا عظیم ایسے لوگ نہ نام نہاد شیعہ ہوتے ہیں اور نہ ہی سنی۔یہ بڑے دماغ ہوتے ہیں مسلک فرقے مذہب کی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اپنے عقیدے کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ایک اور آواز ابھری میڈم ،عظیم اصل میں وزیرستان کا ہے ۔شیعوں کا پکا دشمن ہے۔ اسی لئے اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے معلوم ہوا کہ غالب یا کوئی اور شاعر اور ادیب شیعہ ہے تو میں اس کلاس کو اٹینڈ نہیں کروں گا۔میں نے پیار سے اپنے طلبہ کو دیکھا کچی عمریں گہری آنکھیں سوال کرتے ہوئے ذہن مجھے ترس آگیا۔ مگر میں اس سوچ پر لرز گئی۔یہ سن انیس سو بیانوے ترانوے کا زمانہ تھا مسلک کی فصل پک کر تیار ہو گئی تھی اور ہر شاخ پر انگارے اگ چکے تھے ۔پھر غالب کی غزل کو پڑھاتے ہوئے آواز آئی میڈم کیا غالب شراب پیتا تھا؟ کیا وہ اردو اسپیکنگ تھا؟ کیا ایسی شاعری پڑھنے سے ہمارا ایمان خراب نہیں ہوگا؟ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا ۔اف خدایا سوالوں کے جواب دینے کے لئے دین کا سہارا لیا کبھی غالب کے شرابی ہونے کے عیب کو شرماتے ہوئے قبول کیا۔ کبھی زاہد اور رند ، واعظ اور گناہگار کی اصلیت کو بیان کیا ۔مجھے اپنے شاگرد بہت عزیز رہے وہ کسی علاقے کسی خطے کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ۔سوال کرنے والے طلبہ کو زیادہ اہمیت دیتی کہ مٹی کی زرخیزی کا احساس ہوتا ۔کبھی غصہ نہیں آتا سوائے اس کے کہ جب سوال کسی اور نے پچھوایا ہو ۔اس وقت بھی سوچتی یہ کچی مٹی ہے جیسے سانچوں میں ڈھالی جائے گی ویسے ہی ڈھلے گی۔ میں اپنی محبت سے ان کے خد و خال نہیں بگڑنے دوں گی ۔ننانوے فی صد میں اس محبت کی تقسیم میں کامیاب رہی کہ محبت کے شجر پر ثمر ذرا دیر سے لگتے ہیں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ مگر میں جو ہر سال پچاس ساٹھ طلبہ کو پڑھاتی ان سے محبت لینے اور دینے کے سودا میں مبتلا رہتی ۔اپنے ارد گرد کے ان اساتذہ کو نہیں سمجھا پائی جو خود تو سامنے نہیں آتے تھے مگر ان نوجوانوں کے ذہنوں کو استعمال کرتے تھے ۔معاشرے کا سب سے منحوس طبقہ وہی ہوتا ہے جو میرٹ کو فریب اور تشدد کے ذریعے نا اہل ثابت کرتا ہے اکثر رفقائے کار بہت اچھے تھے مگر مٹھی بھر فتنہ پرور بھی معاشرے میں کجی پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔ آج کل نجانے کیوں ایک مرتبہ پھر غالب شدت سے یاد آرہے ہیں۔ شاید اسی لئے کل وہ میرے خواب میں بھی در آئے زہے نصیب تسنیم عابدی ! کل خواب میں مرزا غالب سر بہ گریباں آئے اور کہنے لگے کہ بی بی جرنیلی بندوبست میں ہم خطوط نویسی کے ذریعے مورخ بن گئے تھے مگر آج کے شعرا سے کہہ دو کہ اب گلوبل ولیج کا زمانہ ہے اب تو ساری دنیا اجڑی ہوئی دلی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ تاریخ کی طرف سے آنکھ بند کرلو ورنہ جغرافیہ خراب ہو جائے گا ۔سنا ہے کہ نصاب سے میری غزلوں کی تطہیر کا کام بھی جاری ہے ۔اب دیکھنا جیسے دائرہ اسلام نظریاتی اعتبار سے گھٹتے گھٹتے ایک نکتے میں بدل گیا ہے اسی طرح میری غزلیں بھی شاید قطعات کے طور پر پڑھائی جائیں وہ بھی صرف اکا دکا تعلیمی اداروں میں جہاں نصاب مرتب کرنے والے یہ سوال نہ اٹھائیں کہ آخر مستقبل کے ڈاکٹروں ،انجینروں، سائنسدانوں اور خصوصا مذہبی علما کو اس شعر و شاعری سے کیا حاصل ہوگا ؟میں نے غفلت میں مبتلا پھٹے دیدوں کو مزید پھیلا کر کہا اچھا مرزا تو شعرا کو آپ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہنے لگے لگتا ہے کہ تم بھی اب موجودہ ٹی وی اینکرز کی طرح لگتا ہے میرے منہ سے یہ کہلوانا چاہ رہی ہو کہ شعرا جبہ و دستار پہن لیں کیونکہ قلم کے چھینٹے جبہ و دستار تک نہیں پہنچ پاتے ۔

Views All Time
Views All Time
599
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پلوٹو کی سطح کے نیچے گدلا سمندر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: