Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جشنِ میلاد مصطفیٰ ﷺ کا اصل مقصد اسراف؟؟؟ – تنزیلہ یوسف

by دسمبر 12, 2016 بلاگ
جشنِ میلاد مصطفیٰ ﷺ کا اصل مقصد اسراف؟؟؟ – تنزیلہ یوسف
Print Friendly, PDF & Email

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جشن عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ لوگ اپنےگھروں،گلیوں،بازاروں کو سبز رنگ کی جھنڈیوں اور دیگر سجاوٹی لوازمات سے سجا کر یہ دن مناتے ہیں۔ 
بہت سے لوگ بریانی کی دیگیں پکا کر تقسیم کرتے ہیں۔ ہر سال اس مہینے میں گلیوں بازاروں کی سجاوٹ پر لاکھوں روپیہ لگایا جاتا ہےاور ہر سال ہی یہ شرح پچھلے سال کی نسبت بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ 
بازاروں کی سجاوٹ کے لئے ہر دکان دار سے کچھ رقم وصول کی جاتی ہے جسے اکٹھا کرکے پورے بازار کو سجایا جاتا ہے اور جو دکان دارمطلوبہ رقم نہ فراہم کرے یا ہلکا یا ڈھکا چھپا احتجاج کرے تو اس پر جذباتی دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ تم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے عاشق نہیں جو ایسی بات کر رہے ہو۔ عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے بازار سجانا ہے وغیرہ وغیرہ،اس طرح سے جذباتی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

دیکھا جائے تو اس سے کیا ہوتا ہے کہ ایک دن کے لئے گلیوں بازاروں کو سجایا جاتا ہے اور بعد میں وہ سب کوڑے کی نظر ہو جاتا ہے۔ 
دیگیں پکا کر ہم اپنے بھرے پیٹوں کو بریانیوں سے مزید بھر لیتے ہیں۔
پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ مگر جناب یہاں گورنمنٹ غریب اور عوام امیر ہے وہ اس لحاظ سے کہ ہم ایسی قوم ہیں کہ جو فضولیات پر دل کھول کر روپیہ پیسہ برباد کرتے ہیں مگر جب کسی ضرورت مند کی مدد کی بات ہو خالی ہاتھ جھاڑ کردکھادیتے ہیں،ہاتھ کی تنگی یا کاروبار میں نقصان کا رونا رونے لگتے ہیں۔ 
بہت سے مجبور لوگ غربت کے ہاتھوں فاقے کرنے کو ترجیح دیتےہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ان کی خودداری اس کو گوارہ نہیں کرتی۔ 
بحیثیت سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا تو یہ چاہیئے کہ ایسے ضرورت مندوں کو ڈھونڈ کر خاموشی سے ان کی مدد کی جائے۔
کسی غریب کی بیٹی جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے باپ کے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہے اس کی شادی کروائی جاسکتی ہے۔ 
ہمارا دین ہمیں اسراف یا بخل کی جگہ میانہ روی کی راہ دکھاتا ہے۔ اور اگر برابر والے گھر میں پڑوسی بھوکا سویا ہے تو اس پر بھی بازپرس ہوگی۔ 
بہت سے لوگ کوڑے کے ڈھیر سے کھانا تلاش کررہے ہوتے ہیں۔
یہاں تو ہمارا رویہ یہ بنا ہوا ہے کہ کسی کا پردہ اٹھا کر یا اس کا ننگا پیٹ تو سب کو دکھا رہے ہوتے ہیں مگر مدد کرنا گوارا نہیں کرتے ،دوسرے کی ٹوہ میں تو رہتے ہیں مگر اس کے مسائل کے حل کی بات پر یہ کہ کر پیچھے ہو جاتے ہیں کہ میں کہاں اتنا کرسکتا ہوں، ارے بھئی بارش کا پہلا قطرہ کسی کوتو بننا ہوتا ہے ناں مگر ہم اس طرف نہیں آتے۔
کیا ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کی تھی کہ میرا یوم ولادت گلیوں بازاروں کو سجا کر، بڑے بڑے لاؤڈسپیکر لگا کر منانا ورنہ تمہاری شفاعت نہیں ہوگی۔ کہیں سے ایسی کوئی روایت ملتی ہے؟ نہیں ناں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آخری وقت بھی امت کے درد میں تڑپ رہے تھے کہ کسی طرح جبریل امین آکر خوشخبری دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی بخشش ہو چکی ہے۔ پھر جب اللہ کریم کے پیغام بر نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر خوشخبری دی کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی زیادہ ہوں گے تب عزرائیل کو روح قبض کرنے کی اجازت ملی۔ 
پاکستان میں اگر دولت کی تقسیم مساوی ہو جائے تو شاید ہی ہمیں بیرونی امداد کی ضرورت پڑے۔
تنزیلہ یوسف۔ لاہور

Views All Time
Views All Time
276
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سیلف ڈیفینس اور جنسی آگاہی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: