عدم برداشت اور ہمارا معاشرہ – تنزیلہ یوسف

Print Friendly, PDF & Email

آج کل جانے کیوں ہمارے رویوں میں خود غرضی کا عنصر تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے میرا کام ہوجائے۔ دوسرا چاہے کتنا ہی لاچار کیوں نہ ہو، اس کا کام رہ جائے، میں دوسرے کو دھکا دے کر گراؤں اور اپنا کام پورا کرکے فاتح بن جاؤں۔
ہم دوسرے کو کیوں برداشت نہیں کرتے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہم میں سے ہر ایک مادیت پرست، خود غرض ہوتا جارہا ہے؟
سڑکوں پربےہنگم ٹریفک، سکولز کے باہر کھڑی بڑی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں، اس پر مستزاد کہ ہر گاڑی والا یہ چاہے کہ وہ کسی طرح اڑ کر اس بے ہنگم ٹریفک سے نکل کر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔
خواتین بچوں کے ساتھ روڈ کر اس کررہی ہیں یا پھر بزرگ لاٹھی ٹیکتے سڑک کی دوسری طرف جانے کے لئے کھڑے ہوں مگر گاڑی والا سوچتا ہے کہ پہلے وہ نکل جائے بھلے کسی کو گاڑی کے نیچے کیوں نہ آناپڑے۔ سب ایک جیسے نہیں ہوتے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خواتین یا بوڑھوں کے لئے احتراما گاڑی روک کر آگے جانے کا اشارہ دے رہے ہوتے ہیں، مگر اکثر کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے ہم پھر کوئی اور۔
یہ معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت ہی ہے کہ سیکیورٹی پر مامور گارڈ نیوز رپورٹر کو تھپڑ دے مارے، یہ عدم برداشت ہی ہے کہ ایک خاتون رپوٹر ڈیوٹی انجام دیتے گارڈ سے الجھ بیٹھے اور نتیجے کے طور پر تھپڑ کھائے اور بدلے میں اسے کوسے کہ تمھارے گھر میں ماں بہن نہیں؟ یہ عدم برداشت ہی تو ہے کہ سیکیورٹی گارڈ شادی ہال کے قریب سے گزرتے بچے کو جو دولہا کی گاڑی پر وارے جانے والے نوٹ اٹھاتے دیکھ کر مارنا شروع کر دے اور اس حد تک مارے کہ بچہ جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔
خواہ سماجی زندگی کے معاملات ہوں یا مذہبی عقائد سے متعلق عقیدت کسی بھی بات کے متعلق درست معلومات جانے.بغیر مشتعل ہوجانا۔ہمارا رویہ بنتا جارہا ہے
ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم جس دین کے پیروکار ہیں وہ ہمیں دوسرے کو برداشت کرنا سکھاتا ہے، خواہ کتنی ہی بڑی بات کیوں نہ ہوتحمل اور برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے مگر ہم خودغرضی میں اس حد تک آگے نکل آئے ہیں جہاں آئینے میں ہمیں اپنا وجود ہی دکھائی دیتا ہے۔ مذہب کے نام پر عدم برداشت، فرقہ بندیاں اندھی تقلید کرنے والوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگل میں لگی آگ کی مانند بڑھتا ہی جارہا ہے۔
ہمارا دین تو امن و سلامتی کا دین ہےجو اقلیتوں کو بھی مکمل مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، مگر یہاں تو ہم اندھی تقلید میں اتنے آگے نکلنے لگے ہیں کہ مذہبیت کے نام پر ملک میں فساد برپا کرنے کو اپنا جائز حق سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔نام نہاد ملاؤں سے تربیت پانے والے افراد ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کرسکتے ہیں کہ جن کے نزدیک صرف ان کا فرقہ ہی نجات پائے گا باقی سب جہنمی ہیں۔ جن کا دین نماز، روزہ کی جبری پابندی کروانے، جسمانی ایذائیں دینے تک محدود ہیں، چاہے یہ جسمانی ایذائیں طلبہ کو دی جائیں یا اصلاح کی آڑ میں بیوی پر تشدد کی صورت میں ہوں کہ بیوی بدکردار ہے، مقصود دونوں نافرمانوں کی اصلاح ہو اور جواز پیش کیا جائے کہ قرآن میں اس کی اجازت ہے۔
یہ عدم برداشت ہی تو ہے کہ آرمی سکول میں نوجوان طالب علم پر اس حد تک جسمانی تشدد کیا جائے کہ غریب جو ملک کی خدمت کا جذبہ لے کر تعلیم حاصل کررہا ہے اس کا مستقبل ہی تاریکیوں میں دھکیل دیا جائے اور بعد میں خبر بھی نہ لو کہ مرتے ہو یا جی رہے ہو؟
اسی پر موقوف نہیں عدم برداشت کے رویے کا ہی کرشمہ ہے کہ بیوی شوہر کے خاندان سے میڈیا پر آکر لڑ رہی ہے اور میڈیا بھی بوڑھے ساس سسر کے آنسو آن ایئر پونچھ رہا ہے۔ اگر بہو کے کپڑوں پر اعتراض ہے تو بیٹے کو بولو جو بیاہ کر لایا ہے۔ پہلے کی محبتیں بعد کا روگ…….
ظاہر ہے جس کی تربیت ہی اس اندازکی ہوئی ہوگی وہ تو وہی سب کرے گا جو بچپن سے دیکھتا آیا ہو۔
اسلام امن و آشتی اور بھلائی کا دین ہے اور ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنے اور عفوودرگزر کی راہ اختیار کرنے کو کہا گیا ہے مگر ہم اپنے دین سے اتنے دور ہوچکے ہیں کہ دین سے دوری نے ہی ہمیں دنیا میں بھی ذلیل وخوار کررکھا ہے اور آخرت . اس کو تو شاید ہم سب ہی بھولے بیٹھے ہیں جبھی تو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ شاید اسی وقت کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤکہ مسلمان بھی ہو؟

Views All Time
Views All Time
309
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انسانی یکجہتی کی ضرورت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: