Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

باتیں‌رابعہ سلیم کی

باتیں‌رابعہ سلیم کی
Print Friendly, PDF & Email

rabia saleem 1نوٹ: الیکڑانک میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کن مسائل سے دوچار ہیں اس حوالے سے پاکستانی سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں بہت کم بات ہورہی ہے ، رابعہ سلیم جو پاکستانی ٹی وی چینل دن نیوز میں اینکر کی جاب کرتی ہیں ان سے کیا گیا یہ انٹرویو چشم کشا ہے ، انہوں نے انتہائی سادگی سے کچھ ایسے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے جو فیمنسٹ نکتہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، رابعہ سلیم سے بعض پوچهے گئے سوالات پہلی نظر میں بہت سطحی لگتے ہیں لیکن ذرا گہری نظر سے جائزہ لینے پر ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، الیکڑانک میڈیا عورتوں کی نسائیت کو ان کی صلاحیتیوں پہ زیادہ ترجیح دیتا ہے اور ان کو بطور کاموڈیٹی کے استعمال کرنے کی جانب راغب ہے ، رابعہ سلیم کا یہ کہنا ‘میں ان سے کہوں گی کہ شادی کرکے اپنے گهروں کو جائے ،اس فیلڈ میں نہ آئے ، عورت چار دیواری کے لیےہی بنی ہے ‘ایک رجعتی فقرہ لگتا ہے لیکن یہ کام کی جگہ یعنی ورک پلیس کے اینٹی فیمنسٹ اور عورتوں کے لیے ناسازگار ہونے کی جانب بهی اشارہ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ معاشرے میں کام کرنے والی خواتین خاص طور پہ الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والی عورتوں کے بارے میں تنگ نظری کو بهی ظاہر کرتا ہے
‘قلم کار آئندہ بهی ایسے انٹرویو شائع کرتا رہے گا تاکہ اس ایشو پہ اور پہلو سامنے آئیں.

رابعہ سلیم دن نیوز کی نیوز اینکر سے محمد الیاس کا خصوصی انٹرویو
کچھ لوگ جب چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو خود کو بھی بڑا بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر جب ایسے لوگوں کو ہائی کلاس جاب مل جائے تو پھر تو ان کے نخرے ہی نرالے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ نہ صرف ہواؤں میں اڑنا شروع کردیتے ہیں بلکہ ایسی شخصیات کو اپنے ہی ساتھ پلنے بڑنے والے افراد کی پہچان بھی کم ہی رہتی ہے۔لیکن میرا اتفاق ایک ایسی لڑکی سے انٹرویو لینے کا ہوا، جس نے سالوں پہلے ڈیرہ اسماعیل خان سے شہرِ لاہورکارخ کیا اور چھ سال سے دن نیوز میں نیوز اینکر کی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔اگرچہ میں نے لاہور و فیصل آباد کی بہت سی نا مور خواتین جرنلسٹ کے انٹرویوز لیے لیکن رابعہ سلیم کی سادگی، لب و لہجہ میں اپنائیت اور معصومانہ انداز نے مجھے اپنا گرویدا ہی بنالیا۔ رابعہ سلیم میں سینئیر نیوز اینکر ہونے کا نخرا یا غرور تو دور کی بات، وہ ایک عام لڑکی سے بھی عام تر ہو کر مجھ سے محوِ گفتگو ہوئیں۔اس انٹرویو میں ہم نے رابعہ سلیم کی اپنی صحافانہ زندگی کے علاوہ یہ جا ننے کی کو شش کی ہے کہ یہ صحافت کا پیشہ خواتین کے لیے کیسا ہے اور اس شعبہ میں خواتین جرنلسٹ کو کن کن مسا ئل کا سا منا کرنا پڑتا ہے۔
س: پ صحافت کے شعبے میں کیسے آئیں؟
ج: میرا کوئی ارادہ یاشوق نہیں تھا ۔ بس با ئی چا نس صحافت میں آنا پڑا۔
س: صحافت میں آپ کی دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
ج: میری دلچسپی تو ا کاؤنٹنگ میں تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ دلچسپی کا جو تھورا بہت عنصر ہے وہ بڑی بیہن کو دیکھ کر آ یا ہو، جو کہ خود بھی اسی شعبہ سے منسلک ہیں۔
س: آپ کے عزیزو اکارب میں کتنے لوگ اس شعبہ سے منسلک ہیں؟
ج:ؓ بس ایک بڑی بیہن ہیں جو میری طرح نیوز اینکر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
س: آپ کو نیوز میڈیامیں جاب ملنے پر آپ کی فیملی کا کیا ردعمل تھا؟
ج: سب بہت خوش تھے کیونکہ میری ترح انکی نظر میں بھی یہ ایک باعزت جاب تھی۔
س: نیوز میڈیا میں جاب کی وجہ سے گھر میں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: گھر والو کے ساتھ کم وقت گزارنے کو ملتا ہے اور فیملی فنکشنز پر بھی جانے کے لیے وقت نہیں نکالا جاتا۔
س: آپ اپنے ساتھ کام کرنے والے مرد اور باس کے رویے کے بارے میں کیا کہے گیں؟
ج: ملا جلا سا رویہ ہوتا ہے، اچھا بھی اور برا بھی۔ ہر ترح کی نگاہو ں سے دیکھا جاتا ہے۔
س: ٓ آ پ کیا آرگنائزیشن میں مرد اور خواتین کے لحاظ سے تنخواہوں کا تناسب کیا ہے؟
ج: خواتین کی تنخواہ مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
س: کیا غیر شادی شدہ خواتین جرنلسٹ زیادہ محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں نسبتاً شادی شدہ کے؟
ج: جی ہاں بلکل، کیونکہ غیر شادی شدہ خواتین پر گھر کا زیادہ بوجھ نہی ہوتا۔
س: کیا خواتین جرنلسٹ کی پروفیشنل زندگی ان کی ازدواجی زندگی میں مسا ئل کا سبب بنتی ہے؟
ج: جی ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔
س: کیا خواتین جرنلسٹ کو اپنی فزیکل صورت کو زیادہ اہمیت دینا پرتی ہے نسبتاً مردوں کے؟
ج: جی ہاں ۔ آج کل یہ رجحان بن چکا ہے۔
س: کیا میڈیا آرگنائزیشنز ہائرنگ کے وقت خواتین کو زیادہ تر جیع دیتی ہیں نسبتاً مردوں کے؟
ج: جی بلکل خواتین کو زیادہ ترجیع دی جاتی ہے، کیونکہ جس آرگنائزیشن میں خواتین زیادہ ہوتی ہیں ، سکرین پر زیادہ آتی ہیں وہ سکرین زیادہ چلتی ہے اور زیادہ بکتی ہے۔
س:کیا جرنلزم پروفیشن مین موزونیت صنفی بنیاد پر پرکھی جاتی ہے نہ کہ کمیونیکیشن میں مہارت اور قابلیت کی بنیاد پر؟
ج : جی ہاں صنفی بنیاد پر زیادہ ترجیع دی جاتی ہے۔ خواتین کو زیادہ چانسز دیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف پڑھے لکھے قا بل نوجوان جابز کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہوتے ہیں۔میں خود اس کی مثال ہوں، جب میں صحافت میں آئی تو تب میں میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی۔
س: نیوز میڈیا میں انٹری کے وقت خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: ٓاس شعبہ میں خواتین کو سب سے زیادہ ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
س: کیا خواتین کو نیوز میڈیا جوائن کرنا چاہیے؟
ج: میرے مطابق یہ شعبہ لڑکیوں کے لیے اچھا نہی ہے۔ لڑکیاں گھر بار کے لیے بنی ہیں تو انہں گھر بار ہی سنبھالنا چاہیے۔اگر مجبوری نہی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے لوگو میں آنے کی۔
س: کیا آپ کی آرگنائزیشن آپ سے چاہتی ہے کہ آپ ویورز اپنی کو خوبصورتی اور فزیکل ایکسپریشن سے attract کرے؟
ج: جی ہاں، ایسا ہی ہے۔ ہم اپنی پسند کا ڈریس پہننا چاہے تو نہی پہن سکتیں۔
س: کیا آپ نیوز میڈیا جوائن کرنے سے پہلے حجاب یا سر پہ ڈوپٹہ اوڑھتی تھیں؟
ج: حجاب تو نہیں لیکن میں سادہ شلوار قمیض پہنتی تھی۔لیکن یہاں آکر پینٹ شرٹ پہننا پڑتی ہے۔
س: کیا غیر شادی شدہ خواتین جرنلسٹ کو اس فیلڈمیں کام کرنے کی وجہ سے شادی کے معاملات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: کسی حد تک ایسا ہے لیکن میرا خیال ہے شادی کے معاملے میں آپ کی قسمت زیادہ معنی رکھتی ہے۔
س: یہ دیکھا گیا ہے کے نیوز میڈیا میں ٹاپ پوزیشن پر خواتین کی تعداد بہت کم ہے، آپ اس کی وجہ کیا سمجھتے ہیں؟
ج: چونکہ یہ ایک میل ڈومیننٹ سو سائٹی ہے تو لڑکیاں اس طرح اپنے تعلقات نہیں بنا سکتیں جس طرح سے میل بنا سکتے ہیں۔
س: کیا ٹاپ پوزیشن پر جانے کے لیے خواتین جرنلسٹ اپنی خوبصورتی اور فزیکل ایکسپریشن کا استعمال کرتی ہیں؟
ج: جی ہاں بہت ساری خواتین جرنلسٹ ایسی ہوتی ہیں ۔
س: جرنلزم پروفیشن کے لیے خواتین زیادہ موزوں ہیں یا مرد؟
ج: جرنلزم کے لیے مرد زیادہ موزوں ہیں۔
س: آپ اپنا سکوپ کیا دیکھتی ہیں؟
ج: میں چاہتی ہوں کے شادی کرلوں اور اس فیلڈ کو خیر باد کہدوں۔
س: ٓآپ اپنی آگنائزیشن کو آفس کے ماحول کی بہتری کے حوالے سے کوئی صلاح دینا چاہتی ہیں؟
ج: جی، لڑکیوں کے لیے ایک الگ سے روم ہونا چاہیے۔
س: وہ لڑکیا ں جو نیوز میڈیا میں آنا چاہتی ہیں ان کے لیے آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: میں ان سے یہی کہنا چاہوں گی کہ شادی کر کے اپنے گھروں کو جائے ، اس فیلڈ میں نہ آئے۔ عورت چار دیواری کے لیے ہی بنی ہے تو اسے گھر کو ہی سنبھالنا چاہیے۔

Views All Time
Views All Time
437
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خانہ جنگی سے ڈرنا چاہیے ۔۔۔۔۔رائے (آخری حصّہ)
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: