تاریخ کا بستہ

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedمحرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی کچھ کمرشل لبرل بھاڑے کے سیکولر اور اُمہ فروش جلوس ہائے عزاداری پر منہ مارنے کے ساتھ تاریخ کے اپنی پسند کے پنے پکڑے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں ان میں اکثر تو وہی ہیں جنکے بزرگوں نے کبھی فتویٰ دیا تھا کہ محرم الحرام اور عید میلاد النبیؐ کے جلوس دیکھنے سے نکاح فسخ ہوجاتے ہیں۔ تاریخ پر اعتراضات اور تاریخ میں درج واقعات سے مکمل انکار دو الگ الگ سوچیں ہیں۔ مسلم تاریخ پر اعتراض کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ لکھنے والوں میں سے کچھ ملوکیت پر استوار نظام کے وظیفہ خوار تھے سو انہوں نے تاریخ نویسی کے بنیادی تقاضے تحقیق کو پسِ پشت ڈال کر اپنے اپنے عہد کے صاحبانِ اقتدار اور بالادست خاندانوں کی خوشنودی کو مقدم سمجھا جس سے مسلم تاریخ کا اصل چہرہ مسخ ہوا اور اعتراضات اٹھانے والوں کی پیروی کرتے ہوئے ایک طبقہ انتہا پسندی کی طرف راغب ہوا۔ دوسرا طبقہ بعض تاریخی واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے ہی انکاری ہے۔ ان میں سے کچھ کی رائے یہ ہے کہ تاریخ لکھنے کا عمل چونکہ ظہورِ اسلام سے دو سو سال بعد شروع ہوا اسی لئے اس پر صاد کرنا ممکن نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منکرین تاریخ نے اپنے مؤقف کے حق میں جو دلائل دیئے ان میں زیادہ تر ان لوگوں کی آراء کو مقدم سمجھا گیا جو بعض واقعات کے ذمہ داروں کے خوشہ چیں تھے اور اس امر کے دعویدار بھی کہ فلاں واقعہ؟ وہ تو ہوا ہی نہیں ،یہ فلاں ابنِ فلاں نے گھڑ لیا۔ اس رائے کے حاملین کی خدمت میں جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ حضور دیگر بہت ساری چیزوں کی تدوین بھی تو دو سو سال بعد شروع ہوئی تو کیا اس صورت میں یہ درست نہ ہوگا کہ ان کا بھی انکار کر دیا جائے؟ یہ سوال جونہی زبانوں پر آتا ہے تو منکرینِ تاریخ لٹھ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایک طالب علم کے طور پر یہی عرض کر سکتا ہوں کہ تاریخ کے معاملات میں بھی واقعات بیان کرنے والوں کی شخصیت، دیانت، خاندانی پسِ منظر اور نظریاتی تعلق کو دیکھنا پڑے گا۔ دوسرا بلکہ پہلا سوال تو بنیادی طور پریہی ہے کہ آخر اس کی ضرورت محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی کیوں پڑتی ہے؟ ’’دردِ تاریخ و شخصیات‘‘ کے مریض باقی گیارہ مہینے چھٹی پر کیوں ہوتے ہیں؟ مکرر عرض ہے کہ تاریخ علم ہے حضور عقیدہ نہیں۔ علم میں تحقیق پر پابندی نہیں ہوتی۔ عقیدہ تو چوں چراں کے بغیر سر نیہوڑانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پھر بھی اگر کسی شخص یا طبقے کو محرم الحرام سے قبل تاریخ کا بستہ کھول کر بیٹھنے کا شوق ہے تو خود اسے یا انہیں اپنی علمی حیثیت کا ثبوت دینا ہو گا ۔ جبکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ معرکۂ کربلا پر مرضی سے منہ مارنے اور عقیدوں کا جادو جگانے کے بجائے اسے ارشاداتِ سرکارِ دو عالم ﷺ کی روشنی میں دیکھنا ، سمجھنا ہو گا۔ جو احادیث و تواریخ کی ساری کتابوں میں موجود ہیں۔محبتِ احمد مرسل ﷺ ہی مقدم رہے تو ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔
میرے ایک عزیز سید صالح شاہ بخاری کو بعض تاریخی واقعات کو تسلیم کرنے میں بہت قباحت رہی اکثر کہا کرتے تھے ،، شاہ یہ سب گھڑی گھڑائی باتیں ہیں۔ چند برس قبل کی ایک نشست میں ہم دونوں کافی دیر تک اپنا اپناموقف ایک دوسرے کو سمجھاتے رہے ، بالاخر میں نے عرض کیا صالح شاہ ایسا نہ کریں کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ تاریخ کے توسط سے ملنے والی ہر چیز کا انکار کرکے آگے بڑھیں ، صالح شاہ نے حیرانی سے کہا ہر چیز سے انکار کیسے ممکن ہے ، ہے ، عرض کیا ، اپنا خدا خود تراشتے تلاشتے ہیں ، لیکن خدا کی طرف رہنمائی تو حضرت محمدؐ نے فرمائی ہے صالح بولا ،، درست ، میں نے کہا ، مگر ہم تک تو یہ بات تاریخ کے توسط سے پہنچی ہے اور تاریخ سے تم انکاری ہو ، دیکھو صالح شاہ ، تحقیق کا دروازہ بند نہیں ہوا ، ضد بھرے انکار سے اقرار کی مستی زیادہ قیمتی ہے ، جس رسولﷺ نے خدا کی طرف رہنمائی فرمائی اُسی ذات مقدسؐ نے ارشاد فرمایا تھا ، علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے ،، ہمارے اشکالات فقط علم ہی دور کرسکتا ہے ، فیصلہ صرف اس بات کا کرنا ہے کہ علم ہے کیا ، دیہاڑی دار مزدور بنانے والا نصاب علم ہے یا اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ حق شناسی کی آگہی عطا کرنے کو علم کہیں گے؟

Views All Time
Views All Time
801
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نہ ملا کر اداس لوگوں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: