Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زندان کی چیخ ۔اکتیسویں قسط

دو دن ملے سوچنے کے لئے۔ سوال یہ تھا کہ آخر ایسے جرم کا اقراری کیونکر ہوا جائے جو سرزد

Read more

زندان کی چیخ ۔تیسویں قسط

زندان کی چیخ ۔تیسویں قسط جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی تاریخ کو جس طور تبدیل کرنے کا

Read more

زندان کی چیخ ۔انتیسویں قسط

جھوٹ فقط مارشل لاء کے تحت گرفتار ہونے والے سیاسی قیدیوں سے شاہی قلعہ، کورنگی کریک کیمپ اور دیگر تفتیشی مقامات

Read more

زندان کی چیخ ۔اٹھائیسویں قسط

بیماری نے طول پکڑا مہینہ بھر سے اوپر البتہ اس دوران زخم تقریباََ ٹھیک ہو گئے۔ (گھاؤ جو اندر لگے

Read more

زندان کی چیخ ۔ستائیسویں قسط

’’کسی سیاسی اجتماع میں تاریخ و سیاسیات کا ایک طالب علم بطورمقرر کیا گفتگو کر سکتا ہے۔ یہی جو میں

Read more

زندان کی چیخ ۔چھبیسویں قسط

ہفتہ بھر یا ایک دو دن اوپر تک علاج چلتا رہا۔ گردن کے زخم کے ٹانکے پانچویں دن کھل گئے۔

Read more

زندان کی چیخ ۔ اکیسویں قسط

کرنل لغاری، دوسرا افسر اور ڈاکٹر کوٹھڑی سے واپس چلے گئے۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہا۔ یہ حکومت کے

Read more

زندان کی چیخ ۔اٹھارویں قسط

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر فلک شیر اعوان ویسے کسی سرکاری خفیہ ایجنسی میں افسری کی بجائے اگر

Read more
%d bloggers like this: