اس وقت کاروانِ برائلر ویگن کے پنجروں سے نکل کر ڈربے میں اُتر چکا تھا۔ مرغ زادہ ٹرکی کی کلغی سے خون اور علامہ مرغِ پُراسرار کی چونچ اور پروں Continue Reading »