زمانہ طالبعلمی میں میرے اُردو کے استاد ہوا کرتے تھے پروفیسر ثناء اللہ رندھاوا صاحب، وہ اکثر ہمیں داغ دہلوی کا یہ شعر سنایا کرتے تھے۔ نہیں کھیل اے داغؔ Continue Reading »