یہ سنتے سنتے کان پک چکے کہ عورتیں آبادی کا نصف ہیں مگر محنت کشوں اور کارکنوں میں انکی تعداد تئیس سے اٹھائیس فیصد تک ہے۔ گویا باقی ستر بہتر Continue Reading »