Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قرارداد پاکستان -کنول زہرا

by مارچ 22, 2017 بلاگ
قرارداد پاکستان -کنول زہرا
Print Friendly, PDF & Email

چودہ اگست کی طرح 23 مارچ کا دن بھی ‘تاریخ پاکستان’ میں بہت اہمیت کا حامل ہے، جس طرح چودہ اگست کے دن کو’یوم آزادی’ کہا جاتا ہے اسی طرح اس تاریخ کو ‘یوم پاکستان’ کہا جاتاہے۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک جہاں اب مینار پاکستان موجود ہے) میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی، بعد ازاں دنیا کے نقشے پر ‘ارض پاک ‘ کا وجود ابھرا۔ اس تاریخ کو ایک یہ بھی اہمیت حاصل ہے کہ 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ کو ہی منظور ہوا تھا، اس تاریخ کو مزید یادگار اور خوشگوار بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں فوجی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔
وطن کے رکھوالے سوہنی دھرتی کو منفرد انداز میں سلامی پیش کرتے ہیں۔
 یہاں ایک بات کا ذکر کرنا بہت اہم ہے، کیا قومی دنوں کو جوش و جذبے سے منانا صرف اور صرف ‘باوردی نوجوانوں ’ کا ہی فرض ہے، کیا عام پاکستانی کی کوئی ذمے داری نہیں ہے؟

اس منظر کی ہر آنکھ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قومی دن آتا ہے، اشتہارات بنانے والے ادارے یا موقع کی مناسبت سے اپنے اشیاء مارکیٹ میں فروخت کرنے والی کمپنیاں، مادر وطن کی مسلح افواج کی تشہیری مہم چلاتی ہیں، حد تو یہ ہے کہ قومی پرچم کو سلام کرنے کا منظر بھی پاک فوج کے جوانوں سے منسوب کیا جاتا ہے،مذکورہ بالا کی طرح یہاں بھی چند سوال پیدا ہوتے ہیں، کیا پاکستان کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہونا میری طرح کے سویلین کی ذمے داری نہیں ہے؟ کیا پاکستان جمہوری نمائند گان کا نہیں ہے؟ یا شاید اشتہار بنانے والے ادارے بھی جانتے ہیں کہ کون اس ملک کا حقیقی حامی ہے اور کس کی وفاداریاں آف شور اور سرے محل کے ساتھ ہیں۔
بہرحال رواں ماہ23 مارچ کے لئے پاک افواج کی جانب سے پڑید کی اہم تیاریاں کی جارہی ہیں، پاک افواج کے شعبے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال 23 مارچ کی پریڈ کے لئے خصوصی انتظام کیے گئے ہیں، ‘ یوم پاکستان’ کی پریڈ میں فوجی بینڈ مہترن بھی پرفارم کرے گا، جبکہ پاکستان کی اعلیٰ شخصیات کے ساتھ جنوبی افریقہ کی نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ بھی پریڈ دیکھیں گے۔

برسبیل تذکرہ یہ بھی کہتی چلوں کہ اگر ہم پاکستان میں رہنے والے عام آدمی کے کردار کا تنقیدی جائزہ لیں تو معلوم ہوگا جب یہ عام پاکستانی ملک سے باہر جا تا ہے تو اس سے زیادہ قانون کی پیروی کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہوتا تاہم جیسے ہی پاکستان واپس آتا ہے تو سارے قواعد و ضوابط کو فراموش کردیتا ہے۔شاید ہمارے نزدیک آزادی کا مطلب کچرا پھیلانا اور گٹکے کھا کر تھوکنا ہے۔ 
 انتہائی افسوناک امر تو یہ ہے کہ بجائے اس قومی دن کو قومی جذبے کے تحت منایا جائے، میں نے بہت سے لوگوں کے منہ سے ان الفاظ کی ادائیگی ہوتے سنی ہے کہ اس دن کو منانے کی ضرورت ہی کیا ہے، فضول پیسے کا خرچا ہے۔ 
اس ہی سوچ کے حامل افراد نے 2008 سے لیکر 2011 تک 23 مارچ یا چودہ اگست کو قومی سطح پر منانے کی اجازت نہیں دی تھی ، جب بھی یہ ہی کہا جاتا تھا کہ قومی خزانے میں اتنی رقم نہیں کہ اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے، حالانکہ اُس وقت کے صدر کے بیرون ملک دورے اور وزیراعظم کا شاہی لباس دنیا بھر کی اعلیٰ شخصیات کی توجہ کا مرکز تھا، یہ ہی نہیں ہالی وڈ کی مشہور اداکاہ پاکستان کے وزیراعظم کی ناشتے کی ٹیبل دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں، اس حیرانی کے سبب انہوں نے بے ساختہ پوچھ ہی لیا تھا کہ” کیا واقعی پاکستان غریب ملک ہے”؟ شاید اپنی غربت دیکھانے کے لئے ہی "ہار” والا واقعہ رونما ہوا تھا۔ بہرحال قصہ مختصر، اب پھر وطن عزیز میں قومی دنوں کو جذبے کے ساتھ منایا جانے لگا ہے، جس کا سہرا موجودہ وفاقی حکومت کے سر جاتا ہے، اگرچہ حکومتی سطح پر تو کوئی جوش نظر نہیں آیا تاہم پاک افواج وطن سے محبت کا حق مکمل جذبے کے ساتھ ادا کرتی نظر آرہی ہے۔
 ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے میری اپنے ہم وطنوں سے ایک معصومانہ گذارش ہے کہ بہرحال ابھی بھی وقت ہے آ ئیں قرارداد پاکستان سے منسوب ‘یوم پاکستان’ کو ہم اپنے سامنے اس قرارداد کو پیش کریں کہ اب کبھی کچرا شاہراہوں پر نہیں پھیلائیں گے، اور زیادہ نہیں بس اپنے 24 گھنٹوں میں سے چند منٹس مادر وطن کی خدمت میں صرف کریں گے ، چاہے شاہراہوں کی صفائی کرکے ، یاکسی کی مدد کرکے، یا کسی کو مفت تعلیم دیکر یا کوئی بھی مثبت کام سرانجام دیکر جو وطن کے پرچم کی سربلندی کا باعث بنے۔

آئیں اس سال ’یوم پاکستان‘ کے موقع پر ہم سب اپنے دل کے ایوان میں یہ قراداد پیش کریں اور کثرت رائے کے ساتھ منظور کرکے جلد ازجلد اس پر عمل پیرا ہو، کیونکہ

 گھر کی  خاطر سو دکھ جھلیں، گھر تو آخر اپنا ہے۔

پاکستان زندہ باد

 

Views All Time
Views All Time
220
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیوں‌کرتے ہو پریشان زندگی کو
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: