Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مردم شماری کا عمل اور پاک فوج کا کردار – کنول زہرا

by اپریل 24, 2017 بلاگ
مردم شماری کا عمل اور پاک فوج کا کردار – کنول زہرا

مملکت پاکستان کے معرضی حالات کے مطابق وطن عزیز میں قیام امن کے معاملات سے لیکر دیگر صورت حال تک پاک افواج کی پیش بہا خدمات شامل ہیں۔ مادر وطن کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور دھرتی کے یہ بیٹے وطن عزیز کے انتظامی امور میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔

سابق ڈی جی آ ئی ایس پی آر عاصم باجوہ کے مطابق  پاک افواج پاکستان کی جمہوریت کو مستحکم کرنے میں معاون کردار ادا کرہی ہیں۔

انیس سال بعد پاکستان میں مردم شماری کا آغاز کیا گیا، خانہ شماری و آبادی کا درست تناسب کی جانچ کرنے کا یہ عمل ریاست پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں چوتھی بار ہوا،  یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1998  کے بعد اتنا طویل انتظار کیوں کیا گیا، اگر چہ اس میں مختلف حکومتوں کی انتظامی غفلت  تو ہے تاہم  طویل تاخیر کا سبب افواج پاکستان کی بیش بہا مصروفیات کو بھی بتایا جاتا ہے، جو کہ غلط بھی نہیں ہے، جس ملک میں قدرتی آفات کے ساتھ الیکشن کی شفافیت سمیت کرکٹ میچ کروانا بھی فوج کی ذمے داری ہو اس ریاست کی فوج کے پاس فرصت کے لمحات کم ہی میسر آ تے ہونگے۔

بہرحال 19 سال بعد سپریم کورٹ کے اہم احکامات  کے بعد یہ کار خیر رونما ہوا، رواں سال مارچ کے دوسرے ہفتے سے شروع ہونے والے مردم شماری کے سلسلے میں حفاظتی امور کے لئے پاک  آرمی کو خصوصی اختیارات دے دیئے گئے، مسلح افواج کے دو لاکھ سے زائد جوانوں کو یہ اہم ذمے داری سونپی گئی، اس سلسلے میں پاکستان آرمی کی جانب سے ائیرڈیفنس کمانڈ سینٹر میں کنٹرول روم قائم کیا گیا۔

دیگر تفصیلات کے مطابق چاروں صوبوں میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو اٹھانوے تربیت یافتہ عملہ مردم شماری کا سروے کرے گا اور عملے کے ہر فرد کے ساتھ ایک فوجی جوان ہوگا۔ بہتر انتظامات کیلئے سارے ملک کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار ایک سو بیس بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر بلاک میں دو سو سے دو سو پچاس گھر شامل ہوں گے۔  

دیگر شہروں کی طرح صوبہ سندھ کے دراحکومت کراچی میں دو رکنی ڈیٹا ٹیم کے ساتھ فوج اور پولیس کے دو دو جوانوں نے اپنی پیشہ وارانہ خدمات سر انجام دی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے سخت احکامات جاری ہوئے کہ خانہ و مردم شماری کے موقع پر جو افراد پاک افواج کو  معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرنےکے خصوصی عدالتی اختیارات کا حق حاصل ہوگا۔

مردم شماری کا پہلا مرحلہ خانہ شماری کے لئے مختص کیا گیا،یہ سلسلہ  15  سے 27 مارچ  تک رہا اور اس کے بعد بے گھر آبادی کا شمار 28 مارچ سے عمل میں آ یا جبکہ دوسرا مرحلہ  25 اپریل کو شروع ہوا  25 مئی کو ختم ہو گا، اس میں مردم شماری کے کام کو اختیامی شکل دی جائے  گی۔ برسبیل تذکرہ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 1951 میں وطن عزیز میں پہلی جبکہ 1998 میں اب تک کی آخری مردم شماری ہوئی تھی۔

1951 میں کی جانے والی پہلی مردم شماری میں آبادی کا تناسب تین کروڑ 37 لاکھ سے زیادہ تھا جبکہ 1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری میں آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ سے زیادہ تھی۔ اِس طرح 47 سالوں کے دوران پاکستان کی آبادی میں نو کروڑ 86 لاکھ بارہ ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مرد عورتوں کے مقابلے میں 50 لاکھ زیادہ شمار ہوئے تھے۔

مردم شماری کا یہ سلسلہ پاکستان کے کونے کونے میں زور شور سے جاری ہے، پاک آرمی کے جوان وطن کے بیٹے ہونے حق ادا کر رہے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ مادر وطن کی اولاد کے شمار کے اس امر میں دھرتی کے بیٹوں نے اپنا لہو بھی شامل کیا ہے۔

یاد رہے کہ 5 اپریل کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بیدیاں روڈ پر مردم شماری ٹیم پر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوئے تھے

پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح شہر قائد میں بھی مردم شماری کا عمل تیزی سے جاری ہے، اللہ کے شکر سے کراچی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ رینجرز کا کامیاب آ پریشن ہے۔

20 اپریل ملک میں جاری مردم شمار ی کے حوالے سے ایک اجلاس کے دوران کور کمانڈ ر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد مرزا نے جوانوں کی کاوشوں کو سراہا اور مردم شماری کے پہلے فیز کے کامیاب اختیدام پر شاباشی و مبارکباد دی۔

کور کمانڈ ر کراچی لفٹیننٹ جنرل شاہد مرزا کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے پاک افواج ہر ممکن کوشش کر رہی ہے،  ہماری محنت رائیگاں نہیں جا رہی ہے، اللہ ہمیں کامیا بی دے رہا ہے۔

اب آتے ہیں اس جا نب کے مردم شماری کیوں ضروری ہے ؟ ترقی یا فتہ ممالک  میں مردم شماری کا عمل ہر دس سال بعد قومی شاختی کارڈ  کے ذریعے  سے  عمل میں آ تا ہے جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے،اگرچہ آئین پاکستان میں ہر دس سال بعد ہی مردم شماری کو ضروری قرار دیا ہے تاہم صورتحال اس کے برعکس ہے۔

ایسا کیوں ہے اس کا ذکر  کبهی سہی ، آتے ہیں مردم شماری کیوں ضروری ہے کی جانب !

مردم شماری  کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی آبادی کتنی ہے،عوام کی ضروریات کیا ہیں،  کن مسائل کا سامنا ہے، ملک کی آبادی میں کمی یا اضافہ کتنا ہوا ہے، ملک کی اکثریتی آبادی کا تعلق کس نسل یا زبان سے ہے، کتنے فیصد طبقہ تعلیم یافتہ ہے اور کتنا نہیں، خواندگی کی شرح کیا ہے؟ آبادی کے درست تناسب کے بل بوتے پر ہی بہترین بجٹ سازی مرتب دی جاتی ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے ضروری ہے کہ پالیسی ساز اداروں کو صحیح آبادی کا علم ہو۔  اس لئے ہر دس سال بعد مردم شماری کا عمل کرانا ضروری ہوتا ہے، مردم شماری کے ذریعے سے علم ہوتا ہے کہ آبادی کے حساب سے  ملک میں شرح تعلیم اور شرح بیروزگاری کیا نوعیت ہے، بچے اور بوڑھوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے مراکز بنانے کی منصوبہ سازی کی جاتی ہے اس کے علاوہ آبادی کی بنیاد پربجٹ سازی کی جاتی ہے، مختلف پروجیکٹ پر کا م کرنے کے لئے منصفانہ مردم شماری کے اعدادوشمار اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، علاوہ ازاں مردم شماری کے اعداد و شمار کے تناظر میں انتخابات کی تیاری کی جاتی ہے، حلقہ بندیوں کے لئے مردم شماری کروانا ضروری ہے۔

وطن عزیز  طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکا ر ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر مردم شماری کے عمل کو طویل انتظار کروانا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، اگر آئین اور قانون کے مطابق مردم شماری کا عمل ہر دس سال بعد کروایا جائے تو ملک کے اقتصادی حالات کے ساتھ ساتھ، معاشی اور تعلیمی حالات میں بھی بہتری آئے گی اس کے علاوہ دہشت گردی اور جرائم کے واقعات میں بھی کمی واقع ہوگی۔

مردم شماری کا یہ عمل 25 مئی تک مکمل ہوجائے گا، جس میں وطن عزیز کے اساتذہ کرام سے لیکر پولیس اور آرمی کے جوانوں کی محنت بھی شامل ہے اور 5 اپریل کے ناخوشگوار واقعہ کے بعد سے تو نا صرف دھرتی کے بیٹوں کا پسینہ اس امر میں شامل ہے بلکہ اب ان کا لہو بھی اس عمل میں شامل ہو گیا ہے مذکورہ بالا مردم شماری کیوں ضروری ہے  کہ چند نکات کے  مطابق چھٹی مردم شماری کے منصفانہ اقدام کے بعد من حیث القوم ہمیں  دھرتی کے سپوتوں کو سلام پیش کرنا چاہیے کیونکہ وطن کے باوردی فرزند کا یہ امر ان کی آئینی ذمے داری نہیں بلکہ وہ اخلاقی فرض کے طور پر مادر وطن کی خدمت کر رہے ہیں، اس موقع پر آ ئینی ذمے داروں سے  پوچھنا چا ہوں گی،کیا آ ئین نے آ پ کو صرف دھر نے اور احتجاج کا حق دیا ہے ؟ کیا آ ئین پاکستان میں وطن کی خدمت  اور عوام کے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے  سے  کچھ درج  نہیں؟ یقینا ایسا نہیں ہے، اس موقع پر ان حکمرانوں سے فقط اتنا کہو نگی ، چلو بھر پانی ہے آپ کے  پاس ؟

Views All Time
Views All Time
413
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: