انسان کے کمال میں اخلاق کا کردار | سیدہ حنا زیدی

Print Friendly, PDF & Email

جس طرح مثبت اور عالی افکار انسان کو سود مند اعمال کی جانب ابھارتے ہیں بالکل اسی طرح نجس و ناپاک افکار آلودگی کی طرف دھکیلتے ہیں کیونکہ انسان سوچ بچار کرنے والا عبد ہے۔ عام طور پر پہلے وہ کسی چیز کے بارے میں سوچتا ہے پھر عمل کرتا ہے۔

جب ناروا افکار انسان کے اندر پروان چڑھتے ہیں تو گل صفت خوبصورت و مثبت فکر رفتہ رفتہ اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہے اور بے مصرف خودرو گھاس پھوس ان کی جگہ لے لیتی ہے۔ شیطانی سوچ انسان کو ایسے مکروہ اعمال کی انجام دہی پر آمادہ کر دیتی ہے جو دل کو سیاہ اور زندگی کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر درخت بتدریج پروان چڑھنے کے بعد تلخ یا شیریں پھل دیتے ہیں۔ برے افکار بھی ایسے بیج کی مانند ہیں جس کا پھل بالآخر کڑوا نکلتا ہے۔ انسان غیر ارادی طور پر نفس میں جڑ پکڑتی شیطنت کی پیروی شروع کر دیتا ہے جو رفتہ رفتہ ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ رحمانی سعادات کے حصول کے لئے ایک مطمئن روح اور پاک دل از بس ضروری ہے۔ اگر روح کے دریچے برائی کے لئے بند کر دئے جائیں تب ہی پاک و پاکیزہ ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ناک کے نیچے (حاشیے) | زین العابدین

اگرچہ پہلے سے دل میں بیٹھے ہوئے بد خیالات آسانی سے اپنی جگہ نہیں چھوڑتے، اس کے باوجود اگر شخصیت کو تباہ و بربادی پہ آمادہ کرنے والے اعمال سے نجات کی مسلسل کوشش کے ساتھ توجہ کا مرکز خوش کن عادات اپنانے کو بنایا جائے تو قدرتی طور پر رفتہ رفتہ کمالات انسانیت نظر آنے لگتے ہیں۔

اکثر افراد سے یہ سنا گیا ہے کہ ہمارا مقصد حیات تو کسی عظیم عمل کی انجام دہی ہے لیکن مصروفیت کے باعث کچھ کر نہیں پاتے۔ بظاہر یہ ایک عمومی لیکن خطرناک غلط فہمی ہے۔ ارادہ مضبوط ہو توبے شمار راستے ہیں کہ گھر بیٹھے بیٹھے بھی انسانیت کی مدد کر کے روحانی سکون اور خوشی کمائی جا سکتی ہے۔ دور حاضر میں سماجی و مادی دباو اس قدر بڑھ چکا ہے کہ شخصیت معدوم ہوئی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم حقیقی اور تہذیبی تمدن سے فی الحال دور ہی ہیں۔ انسانیت کی آنکھ سے دیکھیں تو آس پاس ہی بہت سے مدد کے منتظر افراد نظر آئیں گے۔ دوسروں کی مدد کے لئے مادی زندگی اور ذاتی قیمتی اشیاء کو بھی بے قیمت سمجھا جائے تو کم ہے۔ ہمسائیوں کی مدد، احباب کی مزاج پرسی، بزرگوں کی خدمت، چھوٹوں سے شفقت، سائلین کی داد رسی کرنے میں توقف ہرگز مناسب نہیں کیونکہ مضبوط کردار ہی شخصیت کی تکمیل کی اساس ہے۔

Views All Time
Views All Time
794
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: