Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نورِ نظر کے نام | سید زیدی

نورِ نظر کے نام | سید زیدی

مسقط سے
22 نومبر سنہ 2000

پیاری عینی
نورِ نظر
دعائیں۔

یہ سلطان صاحب کی تاجپوشی کی تیسویں (30) سالگرہ ہے۔ سلطنتِ عمان کے دارلحکومت مسقط کو ایسے سجایا گیا ہے جیسے پاکستان میں بیوٹی پارلر والے دلہن کو سجاتے ہیں۔ سڑکوں پہ تاحدِ نظر روشنیاں ہیں، کھمبوں پہ رنگ برنگے قمقمے ہیں، آرائشی دروازے ہیں، روشنیوں کی لڑیاں ہیں، جلتے بجھتے موتی ہیں۔ عمارتوں کو اجالا، سنوارا اور نکھارا گیا ہے، یہاں کا حسن ہی صفائی ہے۔۔صاف شفاف سڑکیں اور فٹ پاتھ جن پہ بقول آپ کی ماں کے چاول بکھیر کر چن لو۔
سلطان کی تاجپوشی یعنی عمانیوں کی عیدالوطنی۔ اس بار چھٹیاں آغازِ رمضان المبارک سے ہوں گی۔ ہمارا کہیں جانے کا پروگرام نہیں ۔ ویسے تو سوچنا، ارادے باندھنا اور ان کو توڑنا ہمیشہ سے ہمارے پروگرام کا حصہ رہا ہے۔
راہی کب رختِ سفر باندھ لے؟ کارواں کب چل پڑے؟ ٹوٹی ہوئی طناب اور بجھی ہوئی راکھ کو کب پیچھے چھوڑ دے؟ کب جَرس کے سُروں میں اپنا سُر ملا دے؟ ۔۔ابھی کچھ طے نہیں ہوا۔
ابھی کچھ کام باقی ہیں ذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں۔
ضمیر جعفری نے بہت خوبصورت بات کہی کہ “میں ایک عرصہ سے باقاعدہ بےقاعدگی سے شعر لکھ رہا ہوں”۔ہم ایک عرصہ سے باقاعدہ بےقاعدگی سے زندگی بسر کررہے ہیں ۔پہلے خیال آیا رات کو نکل کر روشنیاں دیکھتے ہیں پھر خیال آیا کہ مجاز اسے سخت ناپسند کرتے تھے کہ وہ کہہ گئے ۔۔
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پی آوارہ پھروں
ویسے بھی آوارگی کوئی اچھی چیز نہیں ۔۔ہم آوارہِ وطن ہیں کیا یہی کافی نہیں؟ سوچا ہے کہ بی بی، بابا، ماموں اور ماما لوگوں کے ساتھ گھر پر ہی رہیں گے، فضول باتیں کریں گے، فضول ٹی وی پہ فضول پروگرام دیکھیں گے۔ اچھے اچھے کھانے پکائیں گے اُن میں فضول فضول مسالے ڈالیں گے جیسے بڑے گوشت میں چھوٹی الائچی اور چھوٹے میں بڑی۔آپ کو یاد کریں گے، آپ کی، آپ کے متعلق آپ سے مُتعلقہ لوگوں سے باتیں کریں گے یعنی گھرپر ہی رہیں گے۔
وہ بھلی سی بات یاد آ گئی
چار دن کی زندگی ہے کاٹ دو ہنس بول کر
دل لگا لو پھر قفس بھی آشیاں ہوجائے گا
گھر میرا بیک وقت قفس بھی ہے آشیاں بھی۔ اسے چھوڑ کر کہاں جائیں؟ آپ نے لکھا کہ ابو میرے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔ نورِ نظر یہ فطری امر ہے جس سے پیار ہوتا ہے اس کے لئے فکرمندی ہوتی ہے۔ یہ کوئی زور زبردستی ، مارے باندھے کی فکرمندی تو ہے نہیں کہ بٹن آف کیا ختم ہوگئی، آپ نے کہا چھوڑ دو ہم نے چھوڑ دی۔آپ معاشی فکر سے آزاد رہیے، پڑھیے، آپ کی تعلیم اور سہولیات، خاندان کی کفالت کا شرعی، اخلاقی و سماجی بوجھ میرے کاندھوں پہ ہے، آپ کو حصول تعلیم کے لئے انشاءاللہ کبھی مشکل پیش نہ آئے گی، آپ کا کام ہے جگمگاتا ہوا رزلٹ کارڈ دکھا کر ہماری ساری تھکن اتار دینا۔ہم آپ کی پختہ سوچ اور نیک جذبے کو سراہتے ہیں، طالب علموں کے تعلیمی مسائل ہی کافی ہوتے ہیں مصروف رہنے کو۔ مصروف رہیے لیکن کبھی کبھی خط لکھ دیا کیجئیے ۔
نیک تمنائیں ۔ دعائیں۔
آپ کے لئے آپ کے دوستوں کے لئے
آپ کا والد
حامد علی

مرتبہ پڑھا گیا
248مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: