Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خواب سے تعبیر اور خیال سے حقیقت کی کہانی – سید زیدی

خواب سے تعبیر اور خیال سے حقیقت کی کہانی – سید زیدی

اگر آپ نیلے آسمان کے شامیانے تلے اور گھومتی ہوئی اس سمندروں ، جھیلوں،پہاڑوں ، جنگلوں صحراؤں سے سجی اور رنگ برنگے لوگوں اور جانداروں سے بھری اس زمین پر کسی سے اپنی مرضی کا کام لینا چاہتے ہیں تو آپ اس میں اہم بننے کی امنگ جگا دیجئے
کچُھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا جب ملک قمر عباس اعوان صاحب نے۔۔۔۔
سوشل میڈیا کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے یہاں دوست بنتے ہیں ، بحثیں ہوتی ہیں ، بات چیت ہوتی ہے ، مختلف موضوعات پر دلائل اور رد دلائل ہوتے ہیں ۔ کچُھ قریب سے قریب تر ہوتے ہیں اور کچُھ دور سے دور تر۔
ہماری اکثر دوستیاں خیالات کی ہم آہنگی پر ٹکی ہوتی ہیں۔ دو لوگ ایک طرح کے نظریات رکھتے ہیں۔ وہ سیاسی ، معاشی ، معاشرتی ، انسانی ، مذہبی کچُھ بھی ہو سکتے ہیں۔
ملک قمر عباس اعوان صاحب والا جملہ میں نے جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ دیا ۔ ہم ایک ہی مدار میں سفر کر رہے ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے بالکل ناآشنا۔ابلاغ میں سائنس کے عمل دخل نے دنیا کو کیا سے کیا کر دیا۔میلوں ٹھیلوں میں ڈبہ کیمرا سے لے کر ہاتھ میں پکڑے اینڈرائیڈ کارل ذئیس کے بیس بیس میگا پکسلز کے فون کیمرا،ٹیلی گرام سے انسٹا گرام تک کا سفر،خواب سے تعبیر اور خیال سے حقیقت کی کہانی ہے۔
تمہید کا مقصد یہ ہے اگر فیس بک نہ ہوتی تو شاید اس وقت میں یہ سطریں نہ لکھ رہا ہوتا۔نہ فیس بک کے اتنے کرم فرماوں سے جان پہچان ہوتی۔سردار معظم صاحب کے توسط سے ملک صاحب سے جان پہچان ہوئی
اور ایک روز پتہ چلا کہ قلم کار کے نام سے ایک برقی رسالے کی بنیاد پڑنے جا رہی ہے ، پرانے اور تجربہ کار ادب و قلم کے معروف نام ہیں اور مجھ جیسے سیکھنے والے بھی۔ مری دلچسپی اور ترجیح ہمیشہ سیکھنا رہا ہے۔جب احباب کے نام دیکھے تو جن میں جناب حیدر جاوید سید صاحب مدیر تھے۔ لکھنے والوں میں محمد عامر حسینی صاحب ،زری اشرف صاحبہ ، ام رباب صاحبہ ، اکرم شیخ صاحب ، ذیشان حیدر نقوی، شاہانہ جاوید، مدیحہ سید،نور درویش ،غرض ایک کہکشاں ہے۔
ملک قمر عباس اعوان صاحب ، گھر کے سربراہ جناب حیدر جاوید سید صاحب اور دیگر احباب کو قلم کار کی پہلی سالگرہ کی بہت بہت مبارک ہو۔

Views All Time
Views All Time
215
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: