Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بی بی جی-سید حامد علی زیدی

بی بی جی-سید حامد علی زیدی
Print Friendly, PDF & Email

ڈرائیور نے جب ہڑبڑا کے چلتی گاڑی میں بجتا ہوا فون اٹھایا تو میرے مونہہ سے بے ساختہ نکلا ذرا دھیان سے ،وہ جی بی بی ،جی بی بی جی کرتا رہا اور فون رکھتے ہوئے کہنے لگا صاحب بی بی جی کو لینے ان کے دفتر جانا پڑے گا ان کی گاڑی خراب ہے ۔
میں نے گردن گھما کر پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی بیوی کی طرف دیکھا اور شوکت کو کہا ٹھیک ہے ۔
میں اور میری بیوی کبھی اس آفس میں نہیں آئے تھے کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی ،بی بی جی دروازے تک لینے آئیں۔
انگریز دور کی چھوٹی اینٹ کی عمارت میں، پہلی منزل پہ ایک کشادہ سا دفتر تھا ہر چیز قاعدے قرینے سے رکھی ہوئی تھی۔ذہانت بھری آنکھیں، شستہ و شائستہ لہجہ ،گھومنے والی کرسی اور بڑی سی میز۔
حسن ،تعلیم ، خوشحالی ، اقتدار اور تہذیب انسان میں بلا کی خود اعتمادی پیدا کر دیتے ہیں۔
گھنٹی بجا کر ملازم کو بلا کر چائے لانے کا کہا گیا، میری بیوی اپنی کسی دوست کا ٹیلی فون سننے میں مصروف ہوگئی اور میں نے صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
باوجی کہا کرتے تھے،
عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا
سر پھول وہ چڑھا جو چمن سے نکل گیا
معاش کی تلاش شہر بہ شہر اور در بہ در لے گئی ،جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو بیوی اور بچی کو بلا بھیجا
اکثر بیویاں صابر ہوتی ہیں، برے وقت میں میاں بیوی کا کندھا ہی ایک دوسرے کا سر رکھنے کے کام آتا ہے
ساتھ میں گھنگریالے بالوں والی ایک دو سالہ بچی تھی۔
خاموش بیٹھی گاڑی سے باہر دیکھتی رہی۔ دو تین روز میں واقفیت ہوئی تو چہکنے لگی۔
اگلے دس بیس روز میں گھر آتے ہی طرح طرح کے سوالات کی بوچھاڑ کرتی تو میں سوچتا کہ اسے کسی سقراط یا بقراط کے گھر پیدا ہونا چاہیے تھا کم از کم میرا گھر تو اس قابل نہیں ہے۔
میں صبح خیز ہوں وہ بھی جلدی اٹھ جاتی۔
سمندر گھر سے قریب تھا ،لہروں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، ہر روز ساحل پہ جاتے ،میں اندھیرے سے اجالا نمودار ہوتے افق کے اس پار دیکھتا ،لہریں گنتا،سفید سمندری پرندوں کی مچھلیاں پکڑنے والی نیچی پروازوں سے لطف اندوز ہوتا۔ وہ سمندر کے کنارے گیلی ریت سے گھر بناتی سیپیاں اکٹھی کرتی۔
سورج کی پہلی کرنیں دیکھ کر واپسی ہوتی،پھر دوستی ہوگئی،رات کو کتاب اٹھاتا تو پوچھتی کہ کیوں پڑھتے ہیں؟
تاکہ اچھے آدمی بن سکیں۔
جو نہیں پڑھتے وہ اچھے آدمی نہیں ہوتے؟
میں نے ایسا تو نہیں کہا۔تو پوچھتی کہ پھر آپ نے کیسا کہا ؟
باہرجاتے ہوئے گھر کو تالا لگاتے تو کہتی،ہم گھر کو بند کیوں کرتے ہیں؟
کیونکہ ہم ڈرتے ہیں ہم کس سے ڈرتے ہیں؟برے لوگوں سے۔
امی کہتی ہیں چاند پر نانی اماں رہتی ہیں لیکن نانی اماں تو اپنے گھر میں رہتی ہیں۔
کہانیاں سناتا تو پوچھتی یہ پریاں کہاں رہتی ہیں ؟کوہ قاف میں ۔
کیا ہم وہاں جا سکتے ہیں ؟
ابو آپ نے پریاں دیکھی ہیں؟
جی بالکل آپ جیسی ہوتی ہیں لیکن کم بولتی ہیں۔
سوالوں کے مقدور بھر جواب ضرور دئیے لیکن علم ٹھونسا نہیں کہ معصومیت ختم ہو کے رہ جاتی ہے۔
کیا کم بولنے سے میں بھی پری بن جاوں گی ؟
رات کو بجلی بند کرنے کی باقاعدہ تقریب منعقد ہوتی ،علامہ اقبال کی نظم ہمدردی پڑھی جاتی،
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا سے آغاز ہوتا اور جیسے ہی پہنچوں کس طرح آشیاں تک۔ ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا کلائمکس تھا اور اس کے ساتھ ہی سوئچ سے روشنی گل کر دی جاتی۔
کیونکہ یہ سب کاروائی باجماعت ہوتی تھی تو ذرا سی غلطی کا مطلب یہ تھا کہ نظم دوبار پڑھی جائے گی۔
علیگڑھ والوں کے مشاعرے ہوتے تو بالکل ساتھ بیٹھتی ،مجال ہے آنکھوں میں نیند آتی ہو۔
جب بڑی ہونے لگی تو سوالوں کی نوعیت بھی بدل گئی۔
انیس ،دبیر،غالب,،اقبال ،جوش و فراق سوالوں میں در آئے۔کلاسیکی ادب پڑھ ڈالا۔
ایک دن پوچھا ابو یہ آسان بات کو شاعری میں مشکل کیوں بنایا جاتا ہے۔
دیکھئے جیسے یہ،
چاند کس مہ جبیں کا پرتو ہے
رات کس زلف کی حکایت ہے
زندگی کس شجر کا سایہ ہے
موت کس دشت کی مسافت ہے
یوسفی اور اختر الایمان پڑھنے لگی تو ہم نےاپنی سب استادی لپیٹ کر اپنے جدی پشتی صندوق میں رکھ دی،
ماں باپ کو ذہین اولاد کے سامنے ضدی نہیں ہونا چاہیئے۔
پھر ایک روز یونیورسٹی سے خط آیا کہ ابو یہاں امجد اسلام امجد اور پروین شاکر کو سب سے بڑا شاعر سمجھتے ہیں۔میں کیا جواب دیتا۔
صرف منیر نیازی کا ایک واقعہ لکھ کے بھیج دیا۔
کہ امجد اسلام امجد نے جب بار بار منیر نیازی صاحب کو کہا کہ منیر صاحب آپ بتائیے کہ میرا ادب میں کیا مقام ہے؟منیر نیازی ایک وقفے کے بعد بولے، آپ کا اردو ادب میں وہی مقام ہے جو نبیوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے۔
چائے آئی تو مجھے کاندھا ہلا کر اٹھایا گیا ۔چائے پی رہے تھے کہ شوکت آگیا۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ بی بی جی کون ہے؟
بیٹی ہے وہی گھنگریالے بالوں والی ،ہزاروں سوال کرنے والی ضدی اور ذہین لڑکی ،ہمارے گھر سے اگلی گلی میں گھر ہے، سرکاری افسر ہے۔
گھر پہنچے تو شمائم سکول سے آ چکی تھی ۔آ کے ماں سے لپٹ گئی ۔
امی سکول میں سب کو ایک کلاس میں کیوں نہیں بٹھاتے؟
الگ الگ کیوں بٹھاتے ہیں؟ اورجب الگ الگ بٹھاتے ہیں تو یونیفارم ایک کیوں ہے ؟
ہر کلاس کی یونیفارم الگ الگ کیوں نہیں ہے؟
امی یہ پھر ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہے ۔آپ نے مجھے کہا تھا کہ آپ اس کے لئے مولانا احمد حسن سے تعویذ لا کر دیں گی۔مجھ سے رہا نہ گیا ،میں نے کہا آپ جو بڑی بی بی جی بنی پھرتی ہو،آپ تو اس سے دس گنا زیادہ سوال کیا کرتی تھیں۔
اگر اس بچی پہ ایک جن ہے تو آپ پہ تو دس جن تھیں،اگر اس بچی کو ایک تعویذ چاہیے تو آپ کو تو تعویذوں کی مالا چاہئیے تھی۔ وقت کی کمی اور بےجا مصروفیت انسان، انسانیت ،ممتا،رشتے سب کو چاٹ چکی ہے۔
اور وہ دیر تک میرا منہ دیکھتی رہی شاید اسے کچھ یاد آگیا تھا۔

Views All Time
Views All Time
645
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستانی قوم کا مسیحا عبدالستارایدھی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: