Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

صندل کی خوشبو

Print Friendly, PDF & Email

اس روز حسین کو ائرپورٹ چھوڑنے میں ہی گیا تھا فلائٹ جانے میں ابھی کچھ وقت تھا ۔ لاؤنج میں بیٹھے ہووے وہ پوچھنے لگا آپ کے لئے کیا لے کر آؤں؟ میں نے کہا صندل کی لکڑی ‘اس کا صندل کا باغ تھا ” مجھے یاد ہے ایک بار میں نے اسے کہا تھا کہ اگر میرا صندل کا باغ ہوتا تو میں اس کی چھاوں میں بیٹھ کر شاعری کرتا ۔ وہ میسور سے واپس لوٹا تو میری فرمائیش بھولا نہیں۔

میرے سب دوست جانتے ہیں کہ مجھے قیمتی تحفے کی بجائے گلاب کے ایک پھول سے اور خوشبووں سے بہلایا جا سکتا ہے ۔ مجھے تیز خوشبوئیں قطعی پسند نہیں ۔دھیرے دھیرے لہر در لہر پھیلتی ہوئی ‘ دائرے بناتی ہوئی ‘ ایسی مسرت کی طرح جو بقول پروفیسر آل احمد سرور بصیرت میں بدل جاتی ہے ۔ دو پاو سفید صندل کی لکڑی کا بڑی خوب صورتی سے تراشا ہوا ٹکڑا تھا.

وہ صندل کی لکڑی میں نے پڑھنے کی میز پہ دھری بانس کی ٹوکری میں جہاں قلم رکھے رہتے تھے رکھ دی. جب بھی کوئی پڑھنے کے لئے میز پر بیٹھتا تو صندل کی خوشبو بڑھ کر اس کا استقبال کرتی بلکل ایسے جیسے ہمارے ایک بالائی گھر میں نیچے لگے موگرے کی خوشبو ہوا کے دوش پہ چلی آتی تھی. یہ بات مجھے فرح رضوی کی شاعری پڑھ کر یاد آئی. مجھے یوں لگا کہ فرح رضوی نے ضبط کی اس فصیل میں سفید صندل کا باغ لگایا ہے. صندل کی اس خوشبو کا مزاج دھیما اور مشرقی ہے بالکل ادا جعفری کی ابتدائی شاعری کی طرح ‘خوشبو کی اپنی پہچان ہے عود و عنبر کی طرح ‘وہی دھیرے دھیرے لہر در لہر پھیلتی ہوئی ‘ دائرے بناتی ہوئی ‘ مسرت سے بصیرت کی طرف لیجاتی ہوئی ۔

یہ بھی پڑھئے:   حسین ع کا ہے پسر اور حسن ع کی زینت ہے

وہ خود اپنا تعارف ” ذات بے مایہ ” اور "طفل راندہ مکتب” کے طور پہ کراتی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ یہ طفل اظہار ذات کے لئے اور ترسیل فن کے لئے اتاولا نہیں ہے. اسے شہرت کا چاند نہیں چاہیئے اسے اپنے اندر چھپی ہوئی بچی کے دامن میں افکار کےجگنو چاھئیں تخئیل کی تتلیاں چاہئیں۔

Views All Time
Views All Time
107
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: