(باپ بیٹی کا رشتہ (پہلی قسط

Print Friendly, PDF & Email

جب یادوں کا ہجوم ہو ، اور کہانی کا سِرا کہیں کہیں ملنے لگے تو انسان کوخیالات کی تقدیم و تاخیر, توصیف و تنقید ، میں پڑے بغیر جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا کے ساتھ قصہ شروع کر دینا چاہئے ، تحریری قصہ گوئی کا یہی تو مزا ہے کہ زمانہ بڑے شوق سے سُنے نہ سُنے آپ اسے جاری رکھتے ہیں، اب کوئی اُونگھے آنکھیں مُوندے آپ کی بلا سے ،آپ تو اپنا قصہ اُس کے سرہانے رکھ کر آ جاتے ہیں کہ جب جاگے پڑھ لے ،میری یادوں کی گٹھری میں سب کچُھ ہے ،گھٹتے بڑھتے سائے ہیں ،
بدلتے احساس ہیں ،
چمکیلی صُبحیں ہیں ،
اندھیری شامیں ہیں ،

زندگی کا جام بھی ہے اور دَرد تہہ ِ جام بھی ،بقول اختر الاایمان حیات نام ہے یادوں کا تلخ اور شیریں
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بُو کو پکڑا ہے
شفق کو قید میں رکھا ، صَبا کو بند کیا یادوں کے ہوتے ہوئے انسان کبھی تنہا نہیں رہتا ،عجیب اتفاق ہے کہ مجھے علی گڑھ والوں کے مشاعرے میں اپنے ساتھ بیٹھی وہ بُھوری آنکھوں اور گُھنگھریالے بالوں والی بچی یاد آئی جو شاید اُس وقت لفظ جانتی تھی معانی نہیں ، جب عبیداللہ علیم نے اپنے لمبے لمبے بال انگلیوں سے پیچھے کی طرف سنوارتے ہوئے پڑھا ، اِک درد ہے کہ دل میں کوئی دیپ ضُوفشاں
اِک یاد ہے کہ میں کبھی تنہا نہیں رہا میں نے بے اختیار داد دی تو یہ کتنی دیر تک میرا چہرا تکا کی ، مرا اِس لڑکی سے رشتہ جڑ اور کونپل کا تھا ،

یہ اعتراف ِ حقیقت بھی کرنے دیجئے کہ اس کا نام قرۃ العین  رکھنے پر بھی مُجھے ہی اصرار تھا ،اب یہ شاید یاد در یاد اور کہانی در کہانی ہو جائے جب ہماری کمپنی میں شام سے نیلی آنکھوں والا انجنیئر حسن آیا تو دفتر میں اس سے دوستی ہو گئی , ایک روز سر راہ ایسے ملاقات ہوئی جیسے راستہ چلتے ہوئے دو لوگ ملتے ہیں ،اُس نے میری اُنگلی تھامے بُھوری آنکھوں اور گُھنگھریالے بالوں والی لڑکی کا نام پوچھا ،میں نے جواب دیا. وہ سچ قرۃ العین میں رو دیا. کہنے لگا میرے نبی اپنی بیٹی کو قرتہ العینی کہہ کر پکارتے تھے ،وہ سچا تھا ،

یہ بھی پڑھئے:   کنچا آنکھیں ( قاضی واجد کی یاد میں)

میرے اس بچی کے نام پہ اصرار میں سرِ فہرست یہی بات تھی ،ایک اور قرۃ العین  سے فارسی کے ماسٹر عزیز صاحب نے تعارف کرایا تھا .میرود از فراقِ تو خونِ دل از دو دیدہ ام ,دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جُو بہ جُو… تیسری  قرۃ العین  جسے میں جانتا تھا اُس کا حوالہ شیشے کے گھر ، آخرِ شب کے ہمسفر اور آگ کا دریا تھا ،یہ میرے لیے چوتھی قرۃ العین تھی ، نجانے کیوں کبھی لمحے بھر کو بھی یہ خیال نہ گُزرا کہ اولاد ہے ، بیٹی ہے تو اس کے لئے کوئی سانچہ بنایا جائے ، ڈاکٹر ، انجنیئر یا اُستاد بنایا جائے ، ہاں ایک چیز ہمیشہ مدنظر رہی کہ اچھا انسان بننے میں مدد کی جائے ، فطرت کے مظاہر سے روشناس کرایا جائے , اندھیرے اور اجالے کا فرق بتایا جائے .وطن سے محبت سکھائی جائے ،احترام ِ انسان و انسانیت سکھایا جائے ،محنت کی عظمت اور قلم کی حُرمت سکھائی جائے ،

سوچا کہ یہ جہاں بھی جائے اپنی روایات ساتھ لے کر جائے ، جہاں رہے اپنے اردگرد کےماحول کو اپنے وجود سے منور اور افکار سے مُعطر کردے ۔۔یادوں کے رنگ بھی ہوتے ہیں اور خوشبو بھی یہ چبھن بھی دیتی ہیں اور حیرت بھی ,وہ وقت یاد آیا جب گرم پانیوں کی تلاش میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی طرح رزق کی تلاش میں میں بھی سمندر پار جا اترا تھا. عام آدمی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں اور چھوٹے چھوٹے خواب ہوتے ہیں ,,,
آسودہ ہو تو گھر بسانا چاہتا ہے , اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ سیلاب کیوں آتے ہیں ؟ بلب کس نے ایجاد کیا؟ گاڑی کو زمین پر کیا قوت دوڑاتی ہے اور طیاروں کو کونسی طاقت فضا میں تھامے رکھتی ہے ,, ایجاد و تسخیر اس کی بلا جانے

وہ تو اپنے آنگن میں کلکاریاں سننا چاہتا ہے
بعض اوقات آپ کے پاس خواب کی کوئی سائنسی یا عقلی توجیہہ نہیں ہوتی
میرے پاس بھی نہیں تھی ,,, بس ایک خواب تھا کہ بیٹی چاہیے ,, جب خواب تعبیر ہوا تو دل کو کچھ ایسی خوشی ہوئی ,, جیسے حَبس میں بادلوں کے گِھر آنے سے ہوتی ہے ,, بہار میں آتش گل سے ہوتی ہے یا آسمان پہ اڑتے پرندوں کی قطاروں سے ہوتی ہے ,جب میری بیوی اس گنگھریالے بالوں والی لڑکی کو لے کر میرے پاس پہنچی تو اس کی عمر شاید دو برس رہی ہو گی ,ائرپورٹ سے گھر آتے ہوئے ماں کی گود میں خاموش بیٹھی رہی لیکن متجسس آنکھیں ایک پل کو بھی نہ جھپکیں ,دو تین روز میں واقفیت ہوئی تو چہکنے لگی ,اگلے بیس روز میں پتہ چلا کہ اس لڑکی کے پاس بہت سے سوال ہیں ,پھر ہماری دوستی ہوگئی ,میں صبح خیز ہوں یہ بھی جلدی اٹھ جاتی ,سمندر گھر سے نزدیک تھا , لہروں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں منہ  اندھیرے ساحل پر پہنچتے ,دونوں بڑھتی گھٹتی لہروں سے لطف اندوز ہوتے ,سمندری پرندوں کی نیچی پروازیں دیکھکر شور مچاتے ,, سیپیاں اور گھونگھے چنتے ,ریت کے گھر بناتے اور جیسے ہی اندھیرا نور میں ڈھل کر سورج کے استقبال کی تیاری کرتا ہم اپنے گھر کی راہ لیتے ,ساحل سے لوٹتے ہووے شبنم کے موتیوں سے بھرے ہوئے گھاس کے تختے عبور کرتے راستے میں با ذوق گھروں کی دیواروں سے لٹکی ہوئی بوگن ویلا کی بیلوں پہ لگے پیلے، گُلابی اور لال پُھول مُسکراتے ہووے ملتے جیسے کہہ رہے ہوں کہ آپ لوگوں کا آج کا دن خوشگوار گُزرے ،

یہ بھی پڑھئے:   محفوظ پناہ گاہیں - اکرم شیخ

گھر میں داخل ہوتے ہووے یہ میرے پیچھے کھڑیی ہو جاتی ،اِتنا چھوٹا بچہ یہ حفظِ مراتب کی وجہ سے نہیں کرسکتا اصل بات کپڑوں پہ لگی ریت کو ماں کی نظروں سے چُھپانا ہوتا تھا ،میں صبح کا گیا کبھی دوپہر کو دو گھڑی کے لئے لوٹتا اور کبھی شام کو ،شام کا انتظار دونوں کو ہی رہنے لگا ،ایک وہ بیٹی جسے بہت سے سوال کرنا ہوتے ،اورایک وہ باپ جسے بُہت سے جواب دینا ہوتے .

Views All Time
Views All Time
233
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: