ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے (حاشیے) | حامد علی زیدی

Print Friendly, PDF & Email

اِک زمانہ تھا جب میلے ٹھیلے اور عُرس ہی انسانوں کی تفریح کا سامان ہؤا کرتے تھے۔انسان مٹی سے جُڑا تھا ،زندگی سادہ اور آسان تھی،دھرتی میں بیج بو کے فارغ ہوتا تو گُنگناتا ،بیج کھیت کی گود میں آنکھیں کھولتے تو جھوم جھوم اُٹھتا،لہلہاتی فصلوں کے ساتھ لہلہاتا اور فصل اچھی ہوتی تو اجتماعی تفریح کے بہانے ڈھونڈتا ۔مل بیٹھنے کے لئے گھروں میں چرخے اور چکیاں تھیں ۔گھر سے باہرکنواں ، تالاب، رہٹ ، ندی اور چوپال تھی ۔گانے کے لئے ڈھولے، ماہیے ، ٹپے ، اور سمی تھی ۔یہ لوک گیت اُن خوش وقتیوں کی یادگار ہیں۔اِن کے اکثر شاعروں کے نام نامعلوم ہیں ۔ماہی تیرے ویکھن نوں چُک چرخا گلی دے وچ ڈاھواں
تےلوکاں بھانویں میں کَت دی
تَند تیریاں یاداں دے پاواں
یاجب پیلو پکتے تھے اور سہیلیاں اکٹھی ہو کر چُننے جاتی تھیں
پیلو پکیاں وے۔ پکیاں ھیوے آ چُونو رَل یار
کوئل کُوکتی تھی پپیہا پی کہاں ، پی کہاں کی صدائیں لگاتا تھا
گلی گلی گا کر بھیک مانگنے والے فقیر تھے اور نذر اللہ نیاز حسین کہہ کر خیرات دینے والے عام انسان تھے
گرتے پہ ہنسنے والے کم تھے لپک کر سہارا دینے والوں کی اکثریت تھی ۔گاؤں گاؤں رانجھے بانسریاں بجاتے تھے اور اکتارے پہ سیف الملوک اور ہیر وارث شاہ سنانے والے پائے جاتے تھے ،قصہ باقی تھا اور قصہ خواں زندہ تھے ۔
چھوٹے بڑوں کے پاؤں چھونے کو لپکتے تھے اور بڑے سر پہ دست شفقت پھیرنے میں دیر نہیں کرتے تھے ۔
چارپائیاں کھڑی کر کے رات کو لالٹین کی روشنی میں پتلیوں کا تماشہ دکھایا جاتا تھا ,لوگ ریل کے سفر سے لطف اندوز ہوتے تھے ، ریل کی سیٹی موسیقی لگتی اور انجن سے نکلتا دھواں پراگندہ خیالوں کی طرح فضا میں ٹہر کر عجب عجب شکلیں بنا کر بکھر جاتا ،لوگ پھل دار درخت بڑے اہتمام سے لگاتے تھے ، اکثر اسکولوں اور مدرسوں پہ اس طرح کے شعر لکھے ہوئے مل جاتے تھے
نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا
کاگا منڈیر پہ آکے بیٹھتا تھا ۔ساون کے جھولے پڑتے تھے ۔بارش میں مٹی کی سوندھی خُوشبو تھی ۔پنگھٹ تھے، ناریں اور مٹیاریں تھیں ،تتلیاں تھیں ۔جُگنو تھے ، دیئے پہ پتنگے آتے تھے ،چاند کا رومان تھا اور تارے جھلملاتے تھے ،آسمان کی چھت تھی اورزمین کا فرش
اب مرے کمرے میں سیمنٹ کا فرش ہے ، رنگ ہوئ دیواریں ہیں چھت پہ لٹکتا پنکھا ہے ،کھڑکی پہ پردے ہیں اور پنجرے میں قید چند چڑیاں۔
ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے ، آپکی ترقی کی بھی۔

Views All Time
Views All Time
721
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: