جازبہ و دافعہ علیؑ | سید منہاج علی

Print Friendly, PDF & Email

ہر انسان کی شخصیت کے دو اہم پہلو ہوتے ہیں۔ ایک جازبہ اور دوسرا دافعہ۔ جازبہ یعنی Attraction اور دافعہ یعنی Repulsion۔ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہے کہ جس سے کچھ لوگ محبت تو کرتےہوں مگر ساتھ ہی ساتھ کچھ لوگ نفرت نہ کرتے ہوں۔ وہ اس لئے کہ ہمارے نظریات ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ اگر آپ سے سارے لوگ خوش ہیں تو آپ منافق ہیں۔
امام علیؑ کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ کہ جن لوگوں نے ان سے جازب اختیار کیا یعنی ان سے محبت کی تو ایسی محبت کی کہ محبت اور جانثاری کی دنیا میں اپنا نام بنا بیٹھے جسکی بہترین مثال ابوزرؓ، میثمؓ، بہلول ہیں۔کہ جنہوں علیؑ سے محبت کی تو ایسی کی کہ ان پر ظلم کرنے والے بھی حیران رہ گئے۔
مگر ساتھ ہی ساتھ علیؑ سے جن لوگوں نے نفرت کی بغض رکھا دشمنی کی تو ایسی سخت دشمنی کی کہ علیؑ سمیت علیؑ کے گھر والوں پر بھی رحم نہ کھایا۔ کبھی رسولﷺ کی بیٹی پر جلتا ہوا دروازہ گرایا تو کبھی علیؑ کی آ ل پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑدیے۔
علیؑ سے جن لوگوں نے نفرت اور دشمنی اختیار کی ان میں سے ایک گروہ خوارج بھی ہے۔ کہ جنہوں جنگِ صفین کے بعد امام علیؑ کو کافر قرار دے دیا۔ علیؑ سے ہر دور میں بعض لوگوں نے محبت کی تو بعض لوگوں نے نفرت کی۔اور ہمیں اس دور میں علیؑ سے نفرت کرنے والے سفیانی لوگ بہت بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔
آخر میں ما ؔہر لکھنوی صاھب کا یہ شعر یاد آیا،
ہم سےمت پوچھو کہ پیاسوں سے محبت کیوں ہے
تم بتاؤ تمیں پیاسوں سے عداوت کیوں ہے؟

Views All Time
Views All Time
1043
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ہیرا ہیروفورس - چند سوال اور ایک تجویز

One thought on “جازبہ و دافعہ علیؑ | سید منہاج علی

  • 29/05/2017 at 11:43 صبح
    Permalink

    آپ لوگوں کے علم میں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ یہ مندرجہ بالا تحریر میں جو بھی علم ہے. دراصل میں نے یہ علم شیہد مرتضٰی مطہری صاحب کی ایک کتاب تھی جس کا
    موضوع بھی "جازبہ و دافعہ علیؑ” ہے, سے حاصل کیا ہے. کافی عرصہ پہلے اس کتاب مطالعہ کیا تھا. اب پڑسو جو کچھ اس موضوع سے متعلق جو ذہن میں آیا لکھ دیا

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: