ہسپانیہ: اسلام سے عیسائیت کی طرف

Print Friendly, PDF & Email

اندلس یعنی اسپین میں مسلم حکومت کا مکمّل خاتمہ 1492 میں ہوا اور کیتھولک عیسائیت نے وہاں غلبہ حاصل کر لیا۔ شروع میں تو مسلمانوں کو نئے اسپین میں امان دی گئی اور تصوّر یہ کیا جا رہا تھا کہ مسیحی غلبے کے باوجود مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی جا ئے گی۔ لیکن رفتہ رفتہ قوانین سخت کر دیے گئے اور مختلف عیسائی ریاستوں کی طرف سے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے قوانین بنائے گئے۔ اسی زمانے میں لاکھوں مسلمانوں کو جبری طور پر بپتسمہ دے کر عیسائی بنا دیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق اس زمانے میں پانچ لاکھ سے چھ لاکھ مسلمان اسپین میں رہ گئے تھے جو رفتہ رفتہ ناپید ہوتے گئے۔ اسپین اس زمانے میں چند ریاستوں میں منقسم تھا جن میں آراگون (جس میں اشبیلیہ، موجودہ بارسلونا اور کاتالونیا اہم علاقے تھے)، کاستیلا (اس میں اہم قرطبہ شہر ہے)، اور غرناطہ شامل تھے۔ سب سے پہلے غرناطہ کے آرک بشپ کارڈینال فرانسسکو نے حکمنامہ جاری کیا جس کی رو سے غرناطہ میں مسلمانوں کو جبری طور پر عیسائی بنایا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں غرناطہ سے مسلمان مکمّل طور پر ختم ہو گئے۔ غرناطہ کو دیکھ کر آراگون اور کاستیلا نے بھی اس طرح کے اقدام کئے۔

1524 میں ایک استفتاء کے جواب میں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پاپ کلیمنٹ ہفتم نے مذہب کی جبری تبدیلی کو جائز قرار دیا اور تازہ عیسائیوں کو بطور عیسائی قبول کرنے کا حکم دیا۔ بہت ساری جگہوں پر مسلمان جو پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے انہوں نے ریاستوں سے بغاوت کر دی اور خروج کیا، لیکن ان کا قیام کامیاب نہ ہوتا اور بالآخر ریاستی افواج ان پر تسلّط حاصل کر لیتیں اور ہزاروں مسلمان مرد اور عورتیں قتل کر دی جاتیں، جو بچ جاتے ان کو بپتسمہ دے کر جبری طور پر عیسائی بنا دیا جاتا۔

اس جبر اور ظلم کی فضا میں مسلمانوں کے پاس صرف دو راستے بچے تھے۔ پہلا راستہ تو یہ کہ وہ جلد سے جلد اسپین سے فرار کر کے شمالی افریقہ کے مسلمان علاقوں کی طرف ہجرت کریں۔ چونکہ اسپین کی ریاستوں نے مہاجرت پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی یا اس کے بدلے میں ایسا بھاری مالیہ عائد کر دیتے کہ امیروں کے علاوہ کوئی اس کو پورا نہ کر سکتا تھا۔ اکثر چونکہ بھاری مالیات افورڈ نہیں کر سکتے تھے اس لئے وہ اسپین میں ہی رکنے پر مجبور تھے۔ لہذا دوسرا اور آخری راستہ یہ بچا تھا کہ چپکے سے ظاہری طور پر عیسائیت کو قبول کر لیں اور باطنی طور پر اسلام کی پریکٹس کو جاری رکھیں۔ مسلمانوں کی اکثریت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا تو اسی پر عمل کر لیا گیا۔

اس تقیہ کے پیچھے شمالی افریقہ کے مشہور مالکی فقیہ شیخ احمد بن ابی جمعہ کا فتوی تھا جس میں انہوں نے اس طرح انتہائی اضطراری کیفیت میں ظاہری طور پر غیر مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دی، اور اگر بہت ضرورت پڑی تو خنزیر کا گوشت کھانے یا شراب پینے کی بھی اجازت دی۔ ان مسلمانوں کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا سوائے یہ کہ تقیہ پر عمل کریں۔ آج ہم تک ایسے تاریخی شواہد پہنچے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسپین کے مسلمان ظاہری طور پر عیسائی بن کر درپردہ مسلمان ہی رہے، چھپ چھپ کر نماز جماعت پڑھتے رہے اور نسل در نسل یہ صورتحال رہی۔

ان تازہ عیسائیوں کو "موری سکوز” (Moriscos) کہا جاتا تھا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ سارے موری سکوز پوشیدہ مسلمان تھے۔ اس میں بہت سوں نے برضا و رغبت عیسائیت کو قبول کیا یا وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد نے عیسائیت کو دل سے اپنا لیا۔ ایسے کئی تازہ عیسائی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے بھی گئے اور بقول ہسپانوی عیسائی، انہوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔

ان موری سکوز میں سے ایک اہم نام احمد بن قاسم الحجری ہے جو کسی نہ کسی طرح اسپین سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور مراکش میں سکونت اختیار کر کے "موری سکوز” کی حالت زار پر کتاب لکھی۔ بعد میں مراکش کی طرف سے ان کو اسپین میں سفیر بنا کر بھی بھیجا گیا۔

یہ حالت زار صرف مسلمانوں کی نہیں تھی بلکہ یہودیوں پر بھی ظلم و ستم ڈھائے گئے اور ان کو بھی جبری طور پر عیسائی بنانے کی کوشش ہوئی، متعدد یہودی جو مسلمان اسپین میں امن و شانتی کی زندگی بسر کر رہے تھے، ان کے لئے عیسائی ہسپانیہ میں رہنا دو بھر ہوا تو شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کی مسلمان ریاستوں میں سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

عیسائی اسپین پر غلبے کو الہی تحفہ تصوّر کرتے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں جب ہسپانیہ میں عیسائیت کا غلبہ ہوا، کرسٹوفر کولمبس کو ہسپانوی بادشاہ اور ملکہ کی طرف سے مہم جوئی میں معاونت فراہم کر دی گئی اور کولمبس نے امریکہ دریافت کر لیا۔ گو کہ اس میں کافی کلام ہے کہ کولمبس نے دریافت کیا تھا یا سفر کیا تھا کیونکہ ٹھوس تاریخی شواہد کے مطابق کولمبس سے پہلے بھی متعدد لوگ امریکہ سفر کر چکے تھے۔

بہرکیف اتنی وسیع و عریض زمین کے ہاتھ لگتے ہی عیسائی اس کو عطائے خداوندی تصوّر کرنے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے اسپین پر عیسائیت کا جھنڈا گاڑنے اور مسیحیت کا سر فخر سے بلند کرنے کی وجہ سے ان کو عطا کیا گیا تھا۔ امریکہ کے کفّار "Infidels” ان کے ہاتھوں دیے گئے تاکہ یہ ان سے منفعت حاصل کریں اور ان کو عیسائیت کے دائرے میں جوق در جوق داخل کریں۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے جو مقامی ریڈ انڈینز کے ساتھ کیا وہ بہت شرمناک اور انسانیت سوز ہے۔

Views All Time
Views All Time
247
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میرا خدا مت چھینو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: