Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

معاشرتی رویّے انسان کو باغی بنا دیتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

انسان فطرت کے اصولوں پر ہی پیدا ہوتا ہے جو مختلف ادوار اور تغیراتی تبدیلیوں سے گذرتا ہے اور یہ تبدیلیاں اس کی زندگی پر بہت اثر انداز ہوتی ہیں۔ جہاں اسے بنیادی تعلیم و ہُنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی پہلوؤں کے تجربات بھی حاصل کرنا ہوتے ہیں، اور یہی تجربات شخصیّت نکھارتے ہیں۔ اسی دوران انسان کے اندر بہت سے احساسات جنم لیتے ہیں۔ اور یہی احساسات انسان کو باغی بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ سماجی و معاشرتی نظام کی بے اعتدالی اور ظلم و زیادتی ان احساسات کی اضطرابی کیفیّات کو جنم دیتی ہیں۔ اور انہی اضطرابی کیفیّات کا اظہار کسی نے نثر نگاری میں کیا تو کسی نے شعر کہہ کر تسکین پائی، کہیں کسی نے تحریک چلائی تو کسی نے احتجاج کیا۔ ایسے کئی نام ہیں جو ان معاشرتی رویّوں سے باغی کہلائے، کہیں کارل مارکس نظر آیا تو کہیں بھگت سنگھ بنا، کبھی سوریا سین بن کر باغی ذہنوں کی آبیاری کی تو کبھی فیڈرل کاسترو بنے، کبھی لینن کبھی مارٹن لوتھر، کہیں سر سیّد تو کہیں نیلسن منڈیلا، کہیں فیض اور کہیں حبیب جالب، کہیں منیر نیازی تو کہیں اشفاق احمد نظر آئے۔ کبھی زندگی کا تلخ فلسفہ لکھتے سقراط ، ارسطو، اقبال نظر آتے ہیں۔ تاریخ ایسے ہزاروں ناموں سے بھری پڑی ہے جوان معاشرتی رویّوں کے عکاس ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اعلان صوبہ پوٹھوہار

مزید یہ کہ معاشرے میں طبقاتی تفریق نے بھی بغاوت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

معاشرہ عموماَ ایسے لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اس کی روایات پر سوال اٹھاتے ہیں ، انہیں باغی گردانتا ہے اور سزا دیتا ہے لیکن بعد میں انہیں عزت بخشتا ہے اور ان کے جسموں کو باعزّت طور پر معبدوں میں دفن کرتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں باغی دانشوروں نے تبدیلی لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے لوگوں کو شعور دے کر ان کے جذبات کو ابھارا ہے کہ وہ فرسودہ روایات سے نجات پانے کے لئے آواز اٹھائیں۔ مگر شائد یہ معاشرہ فرسودگی اور عقیدوں کے شکنجے میں اسی طرح جکڑا رہے گا۔

پاکستان میں شائد اداروں اور روائتوں کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ کوئی باغی دانشور ان سختیوں اور مصیبتوں کو جھیلنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی غصّے سے بھرے ہجوم کے قہر و غضب کا سامنا کرنے کی ہمت میں ہے۔ اگرکوئی یہ ہمت کر کے ان سختیوں اور مصیبتوں کو جھیلنے کے لئے تیار ہو بھی جائے تو اسے قتل کر دیا یا مار دیا جاتا ہے۔ جس سے بغاوت مزید پروان چڑھ رہی ہے۔ لیکن بہت سے معاشروں نے اپنے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچوں میں تبدیلی کا عمل جاری رکھا جہاں باغی دانشوروں نے اداروں میں نئے سرے سے تعمیر میں اہم کردار ادا کیا جو اس زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مطابقت رکھتا ہے۔ جو معاشرے ان احساسات اور سوچ کو نہیں مانتے وہ جلد یا بدیراپنا تمام تشخص اور حُسن کھو بیٹھتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
585
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: