Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حدیثِ قسطنطنیہ – جھوٹی گھڑی ہوئی روایت کا پوسٹ مارٹم

by اکتوبر 6, 2016 اسلام
حدیثِ قسطنطنیہ – جھوٹی گھڑی ہوئی روایت کا پوسٹ مارٹم
Print Friendly, PDF & Email

ibrar-bukhariکیا آپ کو ذاکر نائیک اور اس کا یزید کے لیے "رضی اللہ عنہ” کہنا یاد ہے؟ کیا آپ کو اُس "واحد” دلیل کا علم ہے جو ذاکر نائیک نے اس کے حق میں دی تھی؟ ذاکر نائیک اور دیگر تمام یزید ِپلید کے محبان فقط صیح بخاری میں موجود ایک روایت کو بنیاد بناتے ہوئے یزید جیسے زانی، شرابی، قاتل، فاسق فاجر شخص کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اپنی رگوں میں ناصبیت کا نجس خون دوڑنے کا ثبوت دیتے ہیں۔ آئیے اللہ کے بابرکت نام سے شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور ان لوگوں کے جھوٹ کو اللہ کی مدد سے بے نقاب کرتے ہیں۔

شام کے ناصبیوں کی جھوٹی گھڑی ہوئی روایت

سب کو علم ہے کہ شام کے ناصبی بنی امیہ کے زبردست حمایتی تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسی روایت گھڑی کہ جس سے وہ بنی امیہ کے خلفاء کو جرائم سے پاک کر کے انہیں جنتی بنا سکیں۔ روایت یہ ہے:

ترجمہ:

خالد بن معدان روایت کرتاہے،عمیر بن الاسود عنسی نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ عبیدہ بن الصامت کے پاس گیا جبکہ وہ حمص شہر کے ساحل سمندر کے قریب ایک مکان میں اپنی زوجہ ام حرام کے ہمراہ قیام پذیر تھے۔ عمیر نے بیان کیا کہ ام حرام نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول ﷺ سے سنا: میری امت کا پہلا لشکر جو بحری جہاد کرے گا، انکے لئے جنت واجب ہو گی۔ اُم حرام نے پوچھا، یا رسول اللہﷺ، میں ان میں شامل ہوں؟ فرمایا ہاں تو ان میں سے ہے۔ پھر رسول ﷺ نے فرمایا، میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر جہاد کرے گا، وہ مغفور (یعنی بخشا بخشایا) ہے۔ ام حرام نے پوچھا، کیا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی ان میں سے ہوں گی؟ فرمایا نہیں۔

اس روایت میں موجود نقائص

اس روایت میں چند بڑے نقص یہ ہیں

  1. یہ روایت "خبر ِواحد” ہے اور صرف اور صرف ایک طریقے سے بیان ہوئی ہے۔ اور نہ صرف یہ "خبر ِواحد” ہے بلکہ یہ اُن تمام روایات کے ذخیرے کے خلاف ہے جو کہ پہلی بحری جنگ اور قیصر کے شہر کے متعلق پیش آنے والے واقعات کو بیان کر رہی ہیں۔
  2. اس روایت کے تمام کے تمام راویوں کا تعلق شام سے ہے جو کہ ناصبیوں کا دارالحکومت تھا اور یہاں سے اہل ِبیت علیہم السلام پر مساجد کے منبر رسول سے 90 سال تک مسلسل گالیاں دی جاتی رہی ہیں۔
  3. شام میں ہی جھوٹی روایات گھڑنے کا ٹکسال موجود تھا جو شام کے ناصبی بنی امیہ کی شان میں جھوٹی روایات گھڑتے تھے تاکہ انکا مقام بلند مسلمانوں کی نگاہ میں بلند کیا جا سکے۔
  4. ان ناصبیوں کا طریقہ کار آپ کو یہ نظر آئے گا کہ اگر اہلبیت علیہم السلام کی شان میں کوئی روایت موجود ہو گی، اور اس میں غلطی سے بھی کوئی راوی کوفے کا آ جائے (چاہے وہ ثقہ ہی کیوں نہ ہو) تو یہ اسے یہ کہہ کر فورا رد کر دیتے ہیں کہ کوفے والوں کی گواہی اہلبیت علیہم السلام کے حق میں قبول نہیں کیونکہ یہ انکے حامی تھے۔ مگر جب بات آتی ہے شام کے ناصبیوں اور انکی بنی امیہ کی مدح سرائی کی، تو ہر قسم کی روایت کو چوم کر احترام سے سر پر رکھ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:   رحمت دو عالمﷺ کا ظہور - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

امام ابن حجرعسقلانی صحیح بخاری کی شرح لکھتے ہوئے اس روایت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

قولہ‏:‏ ‏(‏عن خالد بن معدان‏) بفتح الميم وسكون المهملۃ،والإسناد كلہ شاميون

یعنی اس روایت کے تمام راوی شامی ہیں۔

ناصبی و منافق ثور بن یزید

اس روایت کا ایک راوی ثور بن یزید ہے۔ اگرچہ اس روایت کے تمام شامی راویوں میں سے کسی ایک میں بھی اہل ِبیت علیھم السلام کی محبت نہیں تھی لیکن یہ ثور بن یزید ان میں سے بدترین شخص ہے۔ ہلسنت کے علم رجال کے بڑے آئمہ میں سے ایک یعنی امام محمد ابن سعد اس ثور بن یزید کے متعلق لکھتے ہیں:

وكان جد ثور بن يزيد قد شهد صفين مع معاويۃ وقتل يومئذ فكان ثور إذا ذكر عليا، عليہ السلام، قال: لاأحب رجلا قتل جدي.

ترجمہ:

ثور بن یزید کے (شامی) اجداد معاویہ ابن ابی سفیان کے ہمراہ جنگ صفین میں موجود تھے اور اُس جنگ میں (حضرت علیؑ کی فوج کے ہاتھوں) مارے گئے تھے۔ چنانچہ جب بھی یہ ثور علیؑ (ابن ابی طالب) کا نام سنتا تھا تو کہتا تھا: ’میں اُس شخص کا نام سننا پسند نہیں کرتا جس نے میرے اجداد کو قتل کیا ہے۔

 طبقات ابن سعد، جلد 7 ص 467

اور امام مالک کبھی بھی اس ثور بن یزید سے روایت نہیں کیا کرتے تھے۔ تبلیغی جماعت کے سربراہ شیخ احمد علی سہارنپوری نے بخاری شریف کی شرح لکھی ہے۔ وہ اس شرح کی جلد1 صفحہ 409 پر لکھتے ہیں:

قیصر کے شہر پر پہلے حملے والی روایت ثور بن یزید نے بیان کی ہے اور وہ امیر المومنینؑ (علیؑ ابن ابی طالبؑ) سے دشمنی رکھتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد  | کرن ناز

اور سب سے بڑھ کر،علم رجال کے انتہائی بڑے عالم حافظ ابن حجرعسقلانی اپنی کتاب تہذیب التہذیب، جلد 2، صفحہ 33 پر لکھتے ہیں:

ثور بن یزید قدری مذہب رکھتا تھا ۔اس کے اجداد نے صفین میں معاویہ (ابن ابی سفیان) کی طرف سے جنگ لڑی اور وہ اس جنگ میں مارے گئے۔ چنانچہ جب بھی علیؑ (ابن ابی طالبؑ) کا ذکر ہوتا تھا تو وہ کہتا تھا: میں ایسے شخص کو دوست نہیں رکھ سکتا جس نے میرے اجداد کو قتل کیا ہو۔

اور فتح الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

ع ثور بن يزيد الحمصي أبو خالد اتفقوا على تثبتہ في الحديث مع قولہ بالقدر قال دحيم ما رأيت أحدا يشك أنہ قدري وقال يحيى القطان ما رأيت شاميا أثبت منہ وكان الأوزاعي وبن المبارك وغيرهما ينهون عن الكتابۃ عنہ وكان الثوري يقول خذوا عنہ واتقوا لا ينطحكم بقرنيہ يحذرهم من رأيہ وقدم المدينۃ فنهى مالك عن مجالستہ وكان يرمي بالنصب أيضا وقال يحيى بن معين كان يجالس قوما ينالون من علي لكنہ هو كان لا يسب قلت احتج بہ الجماعۃ

 فتح الباری، ج 1 ص 394

رسول اللہﷺ کی گواہی :علیؑ بن ابی طالبؑ سے بغض رکھنے والا منافق ہے

قال ‏ ‏علي ‏ ‏والذي فلق الحبۃ وبرأ النسمۃ إنہ لعهد النبي الأمي ‏ ‏صلى الله عليہ وسلم ‏ ‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق ‏

ترجمہ:

علیؑ (ابن ابی طالبؑ ) نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جو ایک بیج سے زندگی پیدا کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سے وعدہ فرمایا کہ اے علیؑ نہیں کرے گا تجھ سے کوئی محبت سوائے مومن کے، اور نہیں رکھے گا کوئی تجھ سےکوئی بغض سوائے منافق کے۔

 صحیح مسلم، حدیث 113

اگر اب بھی علیؑ بن ابی طالب سے کھلا بغض رکھنے والے اس ناصبی و منافق کی روایت اگر کوئی سرآنکھوں پر رکھنا چاہے تو اللہ اُس کا نگہبان اور اس کا حشراسی ثور بن یزید کے ساتھ ہو۔ آمین

Views All Time
Views All Time
2096
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: