Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میرا بیٹا – سید حسن نقوی

by اپریل 16, 2017 بلاگ, قلم کار
میرا بیٹا – سید حسن نقوی
Print Friendly, PDF & Email

جب میں نے اسے دیکھا ، اس کے چہرے پر نور تھا ۔ میری نظر نہیں ہٹ رہی تھی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ میں نے اپنے بیٹے کو سوتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ بچپن سے جوانی تک میں نے اپنے بیٹے کو پالا تھا۔ اس کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی۔ اس نے میری انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا۔ اور کیوں نہ وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہوتا کہ میری دعائیں اس کو اپنے حصار میں لیے رہتی تھی۔

اس کا بچپن نہیں بھلایا جا سکتا ، کہ وہ شرارت کرتا تو بھی پیار آتا تھا اور اگر کبھی غلطی پر ہوتا تو پیار سے اس سمجھایا کرتی۔ ماں ہوں نہ کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ مجھے یہ بات معلوم تھی کہ اگر آج میں نے اسے کسی غلطی پر مارا تو کل ہو سکتا ہے سہی کام کرتے ہوئے بھی کترائے۔

اس کے خواب دس ہزار تھے۔ وہ ایک کامیاب شخص بننا چاہتا تھا۔ اپنے ماں باپ کا اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہتا تھا۔ جوانی کی خواہشات ایسی ہی ہوتی ہیں۔ جہاں اس کی خواہشات تھی وہاں میری بھی کچھ خواہشات تھیں۔ ایک ماں کی خواہش ہوتی ہے اس کے بیٹے کے سر شادی کا سہرا سجائے۔ ہر ماں اپنی اولاد کی اولاد(پوتان) کو دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک خوش گوار زندگی دیکھنا چاہتی ہے۔

مگر آج میرا مشعل سو گیا۔ اور ایسا سویا کہ کبھی نہیں اٹھے گا۔ جس کا کلمہ پڑھا کر مشعل کو بڑا کیا آج اسی کلمہ گوؤں نے میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لیا۔ آج احساس ہوتا ہے کربلا والوں کا۔ آج احساس ہوتا ہے کہ کس طرح مولا حسینؑ نے اپنے بیٹے کے لاشے کو دیکھا ہوگا۔

جس انگلی کو تھام کر چلنا سکھایا آج وہی انگلی ٹوٹی ہوئی تھی۔ جن رخساروں پر کبھی میں بوسا دیتی آج وہی رخسار لہو سے لال تھے۔ جس بدن پر کبھی میں نے سردی اور گرمی کا احساس نہ ہونے دیا آج اسی بدن پر تشدد کے نشان تھے۔ جس کے بدن کو ہمیشہ ڈھانپے رکھا آج ظالم اس کے لاشے کو برہنہ کر کے اس کی توہین کررہے تھے۔ میں انسانوں کی شکل میں درندوں کو دیکھا ہے۔ میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے جاہلوں کو دیکھا ہے۔ میں نے غلطی کی کہ اپنے بیٹے کو پڑھایا لکھایا۔ کاش میرا بیٹا جامعہ نہ گیا ہوتا تو آج میرا بیٹا زندہ ہوتا۔

( یہ ایک تصور کی ہوئی کہانی ہے جو مشعل خان کی والدہ کے ممکنہ ردِ عمل کو ظاہر کرتی ہے۔)

Views All Time
Views All Time
644
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ایک مہجور کا دوسرے مہجور کو خط | عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: