Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رشوت کا بازار | سید حسن

by جون 8, 2017 حاشیے
رشوت کا بازار | سید حسن

حدیث نبوی ﷺ ہے، رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ یہ حدیث ایک مشہور حدیث ہے اور مختلف کتابوں میں درج ہے۔ عام طور پر اس حدیث کو ہماری درسی کتابوں میں بھی پڑھایا جاتا یہی وجہ ہے کوئی بھی شخص اس حدیث کا انکار نہیں کر سکتا۔ بات جب رشوت کی ہو تو اسے برا مانا جاتا ہے مگر یہ لعنت ہمارے معاشرے میں عام ہے۔
کوئی بھی محکمہ ہو کوئی بھی ادارہ ہو، کوئی کام نکلوانا ہو یا پھر کچھ اور۔ رشوت کا نام بدل بدل کر اسے لین دین کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ بہت سی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کی نیت کچھ اور ہوتی ہے اور سامنے والے کی کچھ اور۔ میں آپ کو اپنا ہی واقعہ سناتا ہوں۔ دو سال پہلے جب لائسنس بنوانے مقامی دفتر پہنچا تو وہاں موجود مختلف افسروں نے مختلف ناموں سے رشوت وصول کی۔ مثال کے طور پر ایک افسر نے ایک عدد کتاب کے نام پر پیسے وصول کئے تو دوسرے نےدفتر کی بہتری کا بہانا بنایا۔ مزے کی بات ہے سرکاری دفتروں کی بہتری حکومت کا کام ہے جس کے فنڈ عوام سے باقاعدہ سفید طریقہ سے وصول کئے جا رہے تھے۔
رشوت عام ہوچکی ہے ہمارے معاشرے میں۔ یوں کہوں کہ رشوت کا سفر ہمارے اپنے گھروں سے شروع ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہماری تربیت میں اکثر ایسی باتوں کا فقدان ہوتا ہے کہ جب معاشرے میں قدم رکھتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے یہ راستہ اپنانا پڑتا ہے۔ ایک طالب علم بغیر کسی دستاویز کے جب موٹرسائکل سڑک پر لاتا ہے اور اگر پولیس والا پکڑ لے تو پچاس سو روپے بطور چائے پانی کے دے کر اپنی جان چھڑاتا ہے۔ تو کیا اگر اسی طالب علم کے والدین نے سختی کی ہوتی تو یہ نہ ہوتا جو ہوا۔ اس طرح پھر عادت پڑ جاتی ہے کہ چلو چائے پانی دو جان چھڑاو۔ پولیس والے بھی مزے میں رہتے ہیں اس طرح۔
کہیں سرکاری نوکری یہاں تک کہ نجی نوکریوں کے لیے بھی رشوتیں دی جاتی ہیں۔ پھر لوگ کہتے ہیں ہماری کمائی میں برکت نہیں۔ ارے برکت کیسے ہو جب شروعات سے ہی اپنی برکت کا گلا گھونٹا ہو۔ راہ میں پھل سبزی وغیرہ بیچنے والے آدھے سے زیادہ فوٹ پاتھ گھیرے کھڑے ہوتے ہیں۔ انکو ہٹانے والا کوئی نہیں مگر کیوں؟ کیوں کہ جو ذمہ دار ہے وہی رشوت خور ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ہر ایک ادارہ رشوت لے رہا ہے بس انداز الگ الگ ہیں۔
معاشرے کی بدحالی کا ایک اہم سبب یہی لعنت ہے۔ اور یہ لعنت اگر ختم ہو تو معاشی اعتبار سے کوئی بہتری بی نظر آئے۔ ہم سیاستدانوں کو برا بھلا کہتے ہیں، کوسنے دیتے ہیں، مگر ہم کیا کر رہے ہیں یہ نہیں دیکھتے۔ کہیں نہ کہیں ہم بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ جان بوجھ کر نہ سہی مگر مجبور ہیں۔ ہم ایسی بیماری کو ختم کر سکتے ہیں اگر ہم چاہیں۔ عوام میں بڑی طاقت ہے اور یہ طاقت اسی وقت ممکن ہے جب ہم متحد ہو جائیں۔ اس میں ہماری ہی بھلائی ہے ہماری ہی بہتری ہے۔ رشوت جب ختم ہوگی خود بخود دوسرے جرائم بھی ختم ہونا شروع ہو جائیں گے۔

Views All Time
Views All Time
218
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: