Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بحث و مباحثہ (حاشیے) | سید حسن

by جون 1, 2017 حاشیے
بحث و مباحثہ (حاشیے) | سید حسن

جب جب حضرت انسان نے علم حاصل کیا ہے، پلٹ کر اس نے سوالوں کا انبار جمع کیا ہے۔ علم کی خاص بات یہ ہے کہ جتنا پھیلاو یہ کم نہیں ہوتا۔ انسان جب کسی بھی میدان سے منسلک ہوتا ہے اور اس میں رہتے ہوئے جب علم حاصل کرتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ اپنی رائے بھی قائم کر رہا ہوتا ہے۔ اور اسی رائے کے ذریعے وہ دوسروں کے ساتھ بحث کرتا ہے۔

ان دنوں رمضان کی خصوصی نشریات جاری ہیں اور تقریبا ہر نشریات میں ایک حصہ انہی بحث و مباحثہ پر مشتمل ہے۔ اے آر وائے کی جانب سے جاری رمضان نشریات جس کے میزبان وسیم بادامی ہیں، بہت ہی عمدہ طریقہ سے ان مقابلوں کو کئی سالوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سال درجنوں طالبعلم ان بحث و مباحثہ میں مقابلہ لیتے ہیں اور انعامات کے ساتھ ساتھ داد بھی وصول کرتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان ڈیبیٹ کونسل کی جانب سے یہ نشریاتی حصہ جاری ہے جس میں پورے پاکستان سے 64کے قریب طالبعلموں نے حصہ لیا ہے اور مختلف موضوعات پر بحث جاری ہے۔ موضوعات میں چند موضوع جن میں "ہم تو شرمندہ ہیں اس دور کا انسان ہوکر”، "ہم کہیں حالِ دل اور آپ فرمائیں کیا؟”، "دشمن پھر دہل اٹھا نعرہ تکبیر کے ساتھ” شامل ہیں۔

دوران مقابلہ اقرار الحسن اور عابد علی امنگ جیسے بہترین مقرراپنے تجربہ کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کے موجود ہیں۔ بحث و مباحثہ میں جتنا محاوروں کا اور بہترین ضرب المثل کا استعمال ہوگا اتنا ہی بحث کے حسن کو چار چاند لگیں گے۔ اور فیصلہ سنانے والے جج صاحبان کو مدد دیں گے کہ ان کا جھکاؤ آپ کی بحث کی طرف زیادہ ہو۔

کسی بھی طالب علم کے ذہنی نشونما کے لیے ضروری ہے کہ وہ بحث کرے۔ بحث کا انداز بھی یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس بحث کے ذریعے کچھ سیکھے اور کچھ سکھانے کی کوشش کرے۔ اور کیا ہی اچھا ہوگا کہ مکمل طور پر سامنے والے کو اپنی بات سے راضی کر سکے۔ اور یہی بحث و مباحثہ کی جیت ہے۔

خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں بلخصوص پاکستان ڈیبیٹ کونسل اور ائے آر وائے کو جنہوں نے یہ پلیٹ فارم دیا جہاں آکر مختلف شہروں کے طالبعلم حصہ لے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نیا ٹیلینٹ سامنے آرہا ہے۔ امید ہے یہ تسلسل اسی طرح قائم رہے اور بحث و مباحثہ چلتا رہے۔

Views All Time
Views All Time
1410
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: