Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بینکاری نظام اور فقہ کی مشکلات

Print Friendly, PDF & Email

کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے بینکاری نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پیسے کے لین دین اور کاروباری ضروریات کے لیے رقم کی وقت پر فراہمی، طے شدہ اجرتوں کی تقسیم یا بچتوں کو محفوظ کرنے اور وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے متبادل جمع شدہ رقم پر ملنے والا منافع ایک صارف کے لیے اطمینان کا باعث ہے ۔ یہی وجہ کے کہ کاروباری معاملات میں عام صارف سے لے کر بڑے اداروں اور حکومتوں کا اعتماد بینکاری نظام پر ہے۔ اور معاشی ضروریات کے مدنظر جدید دور کے تقاضوں میں کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط بینکاری نظام کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اسی اہمیت کی بنیاد پر شدید مذہبی ذہنیت رکھنے والے افراد بھی بنک کے لین دین کو سودی اور حرام قرار دینے کے باوجود بھی بنک صارفین میں شامل ہیں اور عموماً بینکاری سے کراہت کا اظہار کرنے کے باوجود بھی کوئی متبادل نظام پیش نہیں کر سکے۔

بحیثیت مسلمان سود کی ممانعت سے مجھ سمیت بینکاری نظام میں کام کرنے والے تمام دوستوں کو انکار نہیں کہ دین فطرت نے سرمایہ داروں کو غریب طبقہ کے استحصال سے روکا ہے اور کچھ ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے راہیں ہموار کی ہیں۔ شارع اسلام ﷺ کی ظاہری نبوت سے پہلے کی معاشی نظام کا ہم مطالعہ کریں تو وہ بہت سادہ تھا سونے چاندی اور جنس کے بدلہ جنس ہی لین دین کا ذریعہ تھا ایسے میں طے شدہ وقت پر ادھار پر دی جانے والی کسی بھی جنس پر سرمایہ دار باہمی معاہدہ کے تحت زائد واپس لیا کرتے تھے۔ چاہے مقدار کوئی بھی متعین ہو۔ اور یوں ایسے تمام معاہدے غریب طبقہ کے لیے کاروباری لین دین میں نہ صرف مسائل پیدا کرتے تھے بلکہ ان کے معاشی استحصال کا باعث بھی بنتے تھے۔ مثلاً اگر کسی شخص کو اپنی ضرورت کے لیے گندم چاہئیے تو سرمایہ دار سو بوری گندم کے بدلے میں ڈیڑھ سو یا اس سے زائد بوری گندم وصول کرے گا۔ جو ممکن ہے کہ بوقت ادائیگی غریب طبقہ کے اس فرد کے لیے سرمایہ دار کو مہیا کرنا ممکن نہ ہو اور اگر واپس کر بھی دے تو نئے سال کی ضرورتوں کے لیے اسے پھر محتاج ہونا پڑے گا۔ اسی بات کے پیش نظر اسلام نے زائد وصول کیے جانے والی اجناس کو اس وقت کے معاشی نظام کے تحت ظلم قرار دے کر ایسے کسی بھی سودی لین دین سے منع کر دیا۔ گذرتے وقت کے ساتھ معاشی نظام کا ارتقائی عمل ادلے بدلے کے لین دین سے سونے چاندی کے سکوں اور کاغذی کرنسی سے پلاسٹک منی کا سفر طے کر چکا ہے اور ہر نئے دور کے تقاضے معیشت اور صارف کی ضرورتوں کو بھی تبدیل کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   لبرل اشراف مقدس گائے نہيں ہیں

لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ علماء اسلام جدید معیشت خصوصاً بینکاری نظام کے ساتھ اجتہادی فکر کو پروان نہ چڑھا سکے۔ گو کہ سرمایہ کاروں نے مارکیٹنگ کے تحت اسلامی مصنوعات متعارف کروائیں۔ لیکن اس عمل میں ساتھ دینے والے علماء نے اجتہاد کو بنیاد بنائے بغیر ابتداء اسلام کی چند فقہی اصطلاحوں کو اسی بینکاری نظام میں گھسیڑنے کی کوشش کی ہے۔ (اسلامی بینکاری پر آئندہ تحریر کروں گا)۔ دھاتی سکوں کے برعکس کاغذی کرنسی گذرتے وقت کے ساتھ اپنی مالی قدر برقرار نہیں رکھ سکتی اسے آپ افراط زر کے مسائل کی وجہ بھی کہہ سکتے ہیں موجودہ دور کا ایک عام انسان بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ میری جیب یا بنک کھاتہ میں موجود رقم پانچ دس سال تو چھوڑیں ایک سال بعد بھی اپنی قدر کھو چکی ہو گی۔ اس بات کو ہم ایک سادہ سی مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2005ء میں کالج کے اخراجات کے ساتھ میری ڈائری میں اس وقت کے دس گرام سونے کی قیمتیں بھی درج ہیں اور اسی سال کے دوران یہ قیمتیں آٹھ ہزار سے نو ہزار کے درمیان رہیں۔

فرض کرتے ہیں کہ اسی وقت میں نے اپنے دوست سے طویل مدت کے معاہدے کے تحت ایک لاکھ روپے ادھار لیے تھے جو کہ تقریباً ایک سو دس سے ایک سو بیس گرام سونے کے مساوی بنتے تھے اور اگر تیرہ سال بعد وہ رقم میں بغیر کسی اضافی رقم کے اپنے دوست کو لوٹا دیتا ہوں تو موجودہ قیمتوں کے مطابق اس کے حصہ میں دو تولہ سونا بھی مشکل سے آئے گا۔ اب اگر میں اسے صرف ایک لاکھ روپے لوٹا دیتا ہوں تو یہ اس کے ساتھ ظلم ہو گا۔ مروجہ پیسے کی قدر کے حساب سے اگر میں اسے ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کرتا ہوں تو یقیناً یہ میرا معاشی استحصال نہیں ہے۔ لیکن فقہ یہاں مجھے مجبور کرتی کے کہ میں ایک لاکھ لوٹا کر خود استحصال کرنے اور معاشی ظلم کا باعث بنوں۔ چنانچہ علماء کی نظر میں روپے کے بدلہ میں زائد روپے لینا جائز نہیں جب کہ کسی بھی جنس کی ایک طے شدہ رقم اور وقت میں موجودہ قیمت سے زائد لینا جائز یے۔ اسے بھی ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک صارف کسی بھی بنک سے اپنی زرعی ضروریات کے لیے ٹریکٹر کا قرض لیتا ہے فرض کرتے ہیں کہ ٹریکٹر کی قیمت پانچ لاکھ روپے ہے اور صارف ١٢.٥ فی صد شرح منافع پر آٹھ سال کی ششماہی یا سالانہ اقساط میں یہ رقم ادا کرتا ہے۔ اس طرح اسے آٹھ سال میں پانچ لاکھ کے عوض آٹھ سے ساڑھے آٹھ لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں (اگر ادائیگیاں طے شدہ وقت پر ہوں) فقہ کی نظر میں یہ معاملہ حرام ہے۔ اسی منڈی میں موجود ایک دوسرا سرمایہ دار ظاہری اسلامی اصولوں کے تحت لین دین کرتے ہوئے ایک ٹریکٹر پانچ لاکھ میں خرید کر کے صارف کو دس لاکھ طے شدہ قیمت میں بیچ دیتا ہے اور طے یہ پاتا ہے کہ یہ رقم چار یا پانچ سال میں ادا کی جائے گی۔ فقہی اعتبار سے یہ معاہدہ جائز ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد کی صفات-مولانا محمد جہان یعقوب

لیکن اگر معاشرتی اور معاشی بنیادوں پر دیکھا جائے تو استحصال دوسرے صارف کا ہوا جس نے کم وقت میں زائد ادائیگیاں کی ہیں اور بنک کے معاہدہ کی نسبت زیادہ معاشی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔

(جاری ہے)

سید عمار یاسر کاظمی بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں

Views All Time
Views All Time
483
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: