Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بھروسہ برائے فروخت ہے

by جنوری 3, 2018 حاشیے
بھروسہ برائے فروخت ہے
Print Friendly, PDF & Email

دھوکے باز انسان کبھی ایک شخص کے جذبات سے نہیں کھیلتا اس کا کھیل ہر اس شخص سے ہوتا ہے جس کا تعلق دھوکا کھانے والے سے ہو۔ کبھی بھی کوئی انسان اپنے زندگی میں اس بات کا انتخاب نہیں کرے گا کہ وہ دھوکہ کھائے خیر کھانے کی بات نکل آئی ہے تو آئیں بیٹھ کر اکھٹے عقل استعمال کر کے دھوکہ کھاتے ہیں۔

کھانے سے پہلے دھوکہ بڑی ذائقہ دار چیز ہوتی ہے ۔وہ الگ بات ہے کہ ٹیسٹ جب چیک ہو جاتا ہے تو کرختگی انگ انگ میں اتر جاتی ہے۔

میں کیوں کہوں کہ میں نے نہیں کھایا؟ ہاں میں نے کھایا ہے اسی لیے آپ کو بتانے کے قابل ہوا ہوں۔
دھوکے کی راہیں اعتماد اور بھروسہ کو کریدتی ہوئی آتی ہیں۔ اعتماد کی راہ میں ایسی سرونگ بناتی ہیں جس کی راہ سے دوبارہ گزرنا گنوارا نہیں ہوتا۔ طشتری میں رکھ کر جب ایک بار اعتماد کسی نے دیا جوں ہی طشتری کا گھونگھٹ اٹھایا تو نیچے دھوکے ہی کوپایا پھر بعد میں کسی پہ اعتماد کرنا نہ آیا۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے پرکھنا ضروری امر ہے لیکن بعض اوقات یہ پرکھنا بھی ایک سائیڈ پہ رکھنا پڑتا ہے کہ کسی نے ملمع سازی ہی اتنی کی ہوتی ہے۔
اور کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ بھی بڑا سٹرونگ ہوتا ہے کہ پرکھنے کا قبلہ متعین ہی نہیں ہوتا۔

آخر میں یہ بات بتانا تو میرا انفرادی حق بنتا ہے کہ دھوکہ وہ واحد خوراک ہے کہ جب کھائیں گے نہیں تو ذائقہ پائیں گے نہیں اگر کھانے کی ٹھان لی ہے تو پھر بلاججھک کھائیں، لیکن سائیڈ افیکٹس ضرور ہوں گے اور فرنٹ افیکٹ فوراً ہی ظاہر ہوں گے۔ ہاں جاتے جاتے یاد آیا کہ دھوکہ کوئی اپنا بن کر ہی دیتا ہے، پرایا تو ڈاکا ڈالتا ہے، چوری کرتا ہے ، یہ اپنے بھی نا کبھی کبھی ایسے سپنے دِکھاجاتے ہیں کہ دھوکے خود بخود ہی مقدر میں آجاتے ہیں۔۔۔کھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی جب ٹیبل پہ رکھے مل جائیں۔
جاتے جاتے دھوکہ کھانے اور دینے والوں کی نشانیاں بھی ملاخظہ کرتے جائیں۔

کھانے والے کی بس ایک ہی نشانی کافی ہے کہ وہ فوراً آنکھیں بند کر کے کسی پہ اعتماد کر لیتا ہے۔
جبکہ دینے والے کی جتنی نشانیاں پیش کی جائیں کم ہیں۔ پہلی بڑی نشانی تو خوشامد کی ہے کہ وہ بڑی کشادہ دلی سے آپ کی خوشامد کرے گا۔
مزید یہ کہ اپنی ذات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا کہ میں ایسا ہوں ویسا ہوں میرے یہ کارنامے ہیں میرے ابا حاجی نمازی، متقی اور سخی ہیں میرے سسر صاحب، تبلیغی جماعت کو ہینڈل کرتے ہیں، جب محلے میں جماعت آتی ہے اس کے کھانے رہنے سونے کا انتظام اپنے ذمہ لیتے ہیں میری بیوی میری بڑی تابع ہے ، آپ سے پورا فرینک ہونے کی پوری کوشش کرے گا، دل کی باتیں آپ سے نکلوا لے گا ، دُکھتی نبض ضرور اپنی پہنچ میں رکھ لے گا۔امیری کا دھونس جتائے گا، اپنی خامیاں تو آپ سے ایسے چھپائے گا، جیسے چور اپنا مال۔۔۔۔
خیر دھوکے کی زیادہ وضاحت بھی مضرِ صحت نہ ہو اس لیے آج کے لیے اتنا ہی کافی !
ضروری عرض بغرضِ رہنمائی اور کچھ سمجھیں یا نہ سمجھیں، پر دھوکے بازوں کو ضرور سمجھیں ۔۔۔ سمجھ میں نہ آئیں تو پھر سمجھیں، تاکہ ان کے لیے دنیا تنگ ہوجائے۔

Views All Time
Views All Time
66
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر کیسے قابو پایا جائے | تنویر احمد
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: